BN

آصف محمود



قرض واپس کیسے ہو گا؟


باقی سب فروعی باتیں ہیں اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے ذمے جو قرض ہے، یہ کیسے اترے گا؟ اور اگر اسے نہ اتارا جا سکا تو اس کا انجام کیا ہو گا؟قومی اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس پر اس غریب قوم کے تین سو لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں ، کیایہاں کبھی اس مسئلے پر سنجیدہ انداز میں کوئی بات ہوئی؟ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے پاکستان کے حالیہ بجٹ میں سب سے زیادہ رقم کس مد میں رکھی گئی؟دل تھام لیجیے ، بیرونی قرضوں کی اقساط اور ان پر سود کی
جمعرات 09 مئی 2019ء

جناب وزیر اعظم ، کیا ہم شریف اور بھٹو خاندان کی رعایا ہیں؟

هفته 04 مئی 2019ء
آصف محمود
عمران خان سے ایک سادہ سا سوال ہے: کیا یہ ریاست شریف اور بھٹوخاندان کی جاگیر ہے اور کیا ہم ان کی رعایا ہیں ؟ اگر اس سوال کا جواب اثبات میں ہے تو ہماری بلا سے،بے شک اس ملک کا نام اسلامی جمہوریہ شریفستان رکھ دیجیے اور گلے میں آلِ شریف کی غلامی کا طوق ڈالنا لازم قرار دے دیجیے ۔ لیکن اگر کسی کے راجواڑے کے جانور نہیں بلکہ سلطنت خدادا د کے آزاد شہری ہیںتو پھر ریاستی اداروں کو ’ شریفائز ‘ او’ر بھٹوائز ‘ کرنے کی جو واردات اس ملک میں ڈالی گئی کم
مزید پڑھیے


بلاول بھٹو جواب دیں

جمعرات 02 مئی 2019ء
آصف محمود
میں آپ سے یہ کہوں کہ سندھ حکومت نے اپنے ہیلتھ بجٹ کا 70 فیصد سرکاری ہسپتالوں اور اداروں کے بجائے این جی اوز اور پبلک لمیٹڈ کمپنی میں بانٹ دیا تو کیا آپ میری بات کا یقین کریں گے؟ آپ کے لیے ایسا کرنا یقینا مشکل ہو گا۔ جب تک آپ کی دو نسلوں کی خوشیاں حکمرانوں کی تجوریوں میں قید نہیں ہو جائیں گی آپ کو اٹھارویں ترمیم کے فضائل سمجھ میں نہیں آئیں گے۔بلاول صاحب اسی طرح تشریف لایا کریں گے اور دو چار پھلجھڑیاں چھوڑ کر چلے جایا کریں گے اور رات بھر ان کے علم
مزید پڑھیے


پاکستانی معیشت بھٹو نے تباہ کی؟

منگل 30 اپریل 2019ء
آصف محمود
عمران خان نے چینی کمپنیوں سے درخواست کی کہ پاکستان کو انڈسٹریلائز کرنے میں پاکستان کی مدد کریں اور میرا دل لہو سے بھر گیا۔ یاد آیا کہ بھٹو کے دور میں کس بے رحمی سے ہم نے اپنی انڈسٹری اپنے ہی ہاتھوں تباہ کی اور آج پچاس سال بعد کس بے بسی سے ہم دنیا سے التجا کرتے پھر رہے ہیں کہ صاحب پلیز اپنی کچھ صنعتیں پاکستان منتقل کر دیجیے۔اللہ عمر دراز کرے بھٹو صاحب تو آج بھی زندہ ہیں لیکن پاکستان کی معیشت کو انہوں نے ایسا زندہ درگور کیا کہ ہم آج تک نہیں
مزید پڑھیے


پرائیویٹ ہسپتال۔۔۔۔کیا مریضوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں؟

هفته 27 اپریل 2019ء
آصف محمود
میں اپنی فیملی کے ساتھ نجی میڈیکل سنٹرمیں کھڑا تھا اور رات کے نو بج چکے تھے۔یہ کسی سرکاری ہسپتال کی کہانی نہیں ، یہ اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے ایک ہسپتال کی کہانی ہے۔ یہ میں اس لیے لکھ رہا ہوں اہل اقتدار میں شاید کوئی پڑھ لے ،شاید کسی کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو جائے۔ ڈاکٹر کے ساتھ ہمارا رات نو بجے کا وقت طے تھا۔شدید بارش کے باوجود ہم مقررہ وقت پر وہاں پہنچ گئے۔پہلا منظر ہی تکلیف دہ تھا۔ ایک بوڑھی عورت استقبالیہ پر آئی اور وہاں بیٹھے شخص سے پوچھا :
مزید پڑھیے




امورخارجہ بچوں کا کھیل نہیں

جمعرات 25 اپریل 2019ء
آصف محمود
کیا حکومت نے طے کر لیا ہے کہ امور داخلہ کے بعد اب امور خارجہ کو بھی بازیچئہ اطفال بنا کر دم لینا ہے؟ کیا کوئی ہے جو ان سے درخواست کر سکے عالی جاہ امور خارجہ ایک سنجیدہ چیز ہے۔ اسے اپنی ترک تازیوں سے محفوظ رکھیے؟ ذرا تصور کیجیے جو بات عمران خان نے تہران میںکہی وہی بات نواز شریف، آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی یا یوسف رضا گیلانی کے منہ سے ادا ہوتی تو تحریک انصاف کا رد عمل کیا ہوتا؟ تحریک انصاف کے قائدین اس ارشاد تازہ کی توجیحات بیان فرما رہے ہیں۔لیکن میرے جیسے طالب
مزید پڑھیے


کیا اب بھی عمران سے کوئی امید باقی ہے؟

منگل 23 اپریل 2019ء
آصف محمود
محفل احباب میں کل رات طنز سے بھرے لہجے میں ایک سوال اچھالا گیا ،پھر قہقہے پھوٹ پڑے۔سوال تھا : کیا اب بھی آپ کو عمران خان سے کوئی امید باقی ہے؟ ہم مارگلہ کے پہاڑوں کے اندر ایک کٹیا میں بیٹھے تھے۔پہاڑ کی اوٹ سے چاند نکل چکا تھا ، پوری وادی چاندنی میں نہائی ہوئی تھی ،آبشار سے پھوٹتی ندی کا پانی موتی کی طرح چمک رہا تھا اور اس کی روانی سے موسیقی پھوٹ رہی تھی ۔ یہ وقت سیاست پر بات کرنے کا تھا ہی نہیں۔ مختصرا عرض کر دی کہ امید کا دیا ٹمٹما ضرور
مزید پڑھیے


کتنے ماتم ، کتنے کالم؟

هفته 20 اپریل 2019ء
آصف محمود
ہزارگنجی سے لے کر کوسٹل ہائی وے تک دشمن یکسو ئی سے حملہ آور ہے، سوال یہ ہے ہمارا انتشارِ فکر کب ختم ہو گا؟ طریقہ واردات کو سمجھیے۔ پہلے دشمن اپنے مسلح کارندوں کے ذریعے حملہ کرتا ہے ، پھر اس کے فکری کارندے حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یہ پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ مقتول پاکستانیوں کو علاقائی ، مسلکی اور گروہی عنوان سے پکارنا شروع کر دیتے ہیں۔ دہشت گردی کے اس طوفان کی لپیٹ میں سارا پاکستان آیا ہے۔ کون ہے جس تک یہ آگ نہیں پہنچی؟ لیکن یہ کارندے مقتولین کی شناخت پاکستانی
مزید پڑھیے


عمران ، ہم اور تم

جمعرات 18 اپریل 2019ء
آصف محمود
ہم جیسے طالب علم عمران خان پر تنقید کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے کیونکہ ہمیں اصلاح احوال کی امید تھی اور یہ امید بر آتی دکھا ئی نہیں دے رہی لیکن شریف اور زرداری خاندان کے دستر خوان پر عشروں پیٹ کے بل رینگنے والے یہ گداگرانِ سخن کس منہ سے تنقید کر رہے ہیں؟ کیا وہ بھول گئے، خواجہ آصف نے فرمایا تھا: کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیا ہوتی ہے۔ عمران خان کے خلاف ہمارا بنیادی مقدمہ کیا ہے؟ یہی کہ دعووں کے مطابق وہ اصلاح ااحوال نہیں کر پائے۔ باقی جو بھی کہا جائے
مزید پڑھیے


ایسے کیسے چلے گا؟

منگل 16 اپریل 2019ء
آصف محمود
حکومت بنانے کے لیے اگر کمپرومائز کیے جا سکتے ہیں تو حکومت چلانے کے لیے کیوں نہیں کیے جا سکتے؟ حکومت بنانے کے لیے تو ہم سب نے دیکھا کہ اصولوں پر کمپرومائز کیا گیا، حکومت چلانے کے لیے تو صرف رویوں اور افتاد طبع پر کمپرومائز کی ضرورت ہے؟پاکستانی سیاست میں اللہ کا ولی یا مرد قلندر اب کوئی بھی نہیں۔ طریق واردات کے معمولی فرق کے ساتھ کم و بیش سبھی ایک جیسے ہیں۔ کوئی ایک گروہ نیک نیت اورصالحین کا ہوتا اور دوسرے گروہ میں صرف ابلیس اور شیاطین ہوتے تو معاملہ بہت آسان ہوتا۔ ایسے میں
مزید پڑھیے