آصف محمود


تبدیلی۔۔۔۔ کپتان کی


یہ کابینہ ہے یا بختِ نگوں پر لام الف کی کہکشاں سجی ہے؟ میر نے کہا تھا : دلی کے نہ تھے کوچے ، اوراق مصور تھے۔ رجال کار کے یہاں لشکر اترے پڑے ہیں اور ہر جنگجو زبان بے نیام لیے رزم گاہ میں ہے ، آدمی کس کس سورما کو داد دے؟ اہل دانش گرہ لگاتے ہیں : حزب اختلاف کہاں ہے؟ میرے جیسا طالب علم مگرسوچتا ہے اس بندوبست کو حزب اختلاف کی حاجت ہی کیا؟ جس کشتہ ستم کی مانگ ایسے ستاروں سے روشن ہو اسے اب کسی حریف کی کیا ضرورت۔ عمران خان کے لیے
هفته 25 جنوری 2020ء

زینب الرٹ بل ۔۔ ایک غیر معیاری قانون سازی

جمعه 24 جنوری 2020ء
آصف محمود
زینب الرٹ بل ، اپنی روح کے اعتبار سے مبارک مگر متن کے اعتبار سے ناقص کوشش ہے۔ قانون سازی تو یہ بہر حال خوش آئند چیز ہے لیکن اقوال زریں کے جس مجموعے کو پارلیمان میں پیش کیا گیا ہے علم اور زمینی حقائق کی دنیا میں یہ ایک نامعتبر دستاویز ہے ۔ بل کی دفعہ 1 میں کہا گیا ہے کہ اس کا اطلاق صرف اسلام آباد میں ہو گا۔جس بچی سے یہ بل منسوب کیا گیا وہ قصور کی تھی۔ اس بچی کا قتل قصور میں ہوا۔اس کا قاتل بھی قصور کا رہنے والا تھا۔ بچوں پر
مزید پڑھیے


آئی جی سندھ کا تبادلہ ۔۔۔مسئلہ کیا ہے؟

بدھ 22 جنوری 2020ء
آصف محمود
پبلک اکائونٹ کمیٹی کی سربراہی ہو ، الیکشن کمیشن کے اراکین اور چیئر مین کا تقرر ہو یا آئی جی سندھ کا تبادلہ، کیا کبھی ہم نے سوچا معمول کی ان چیزوں پر ہمارے ہاں ہنگامہ سا کیوں کھڑا ہو جاتا ہے؟ یہ اہلیت کا فقدان ہے ، مزاج کی غیر سنجیدگی ہے یا ہماری انائوں کے پہاڑ ہماری راہ کھوٹی کرنے آ جاتے ہیں۔تازہ ترین معاملہ آئی جی سندھ کا ہے ، آئیے اسے قانونی اور سیاسی سیاق و سباق میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم سے پہلے وفاق اور صوبوں میں اختیارات کی تقسیم کا ایک فارمولا
مزید پڑھیے


جناب ڈبل روٹی کھاتے ہیں؟

منگل 21 جنوری 2020ء
آصف محمود
عارف علوی تحریک انصاف میں وہ آخری آدمی تھے جن سے کچھ حسن ظن باقی تھا۔ افسوس آخری تجزیے میں وہ بھی محض تحریک انصاف کے رہنما ہی نکلے۔کس بے اعتنائی سے وہ گویا ہوئے اور کس بے نیازی سے چل دیے ۔ قافلہ انقلاب کے بانکوں کی نگاہ ناز یوں تو روز ہی غزل سرا ہوتی ہے ، جناب صدر نے تو ایک ہی لمحے میںبے اعتنائی کا پورا دیوان لکھ کر ثابت کر دیا کہ ’’ بلبل بھی اک ہی بولتا ہوتا ہے گھر کے بیچ‘‘۔ طرز حکومت سے نہیں، ان کے لہجوں سے خوف آتا
مزید پڑھیے


تعزیر کا کوڑا عثمان بزدار کی پشت پر کیوں؟

هفته 18 جنوری 2020ء
آصف محمود
پنجاب ڈیلیور نہیں کرر ہا اور پنجاب کی وجہ سے تحریک انصاف پر دبائو بڑھ رہا ہے ، فواد چودھری صاحب سے منسوب ارشاد تازہ نظر سے گزرا تو میر یاد آگئے: کوئی دم کل آئے تھے مجلس میں میر بہت ا س غزل پر رلایا ہمیں ضبطِ گریہ کی کسی محفل میں خود احتسابی کا لمحہ مبارک سہی ، ، سوال مگر یہ ہے خود وفاق کے رخ روشن پر کارکردگی کے کتنے ہیرے موتی لعل جڑے ہیں؟ پنجاب میں وسیم اکرم پلس کی کارکردگی تو قابل اطمینان نہیں لیکن وفاق میں کپتان کی کارکردگی کون سی چشمِ غزلاں بنی ہوئی
مزید پڑھیے



حکومت کیا شام کا اخبار ہوتی ہے؟

جمعرات 16 جنوری 2020ء
آصف محمود
جناب وزیر اعظم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ناجائز رقوم ہتھیانے والے بیوروکریٹس کے نام ’’ پبلک‘‘ کر دینے کا حکم دیا اور نونہالان انقلاب نے مرحبا ، سلامت اور آفرین کے نغموں سے ماحول کو غزل بنا دیا ۔ مرزا غالب نے کہا تھا : کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے۔میرے جیسا عامی بیٹھا سوچ رہا ہے حکومت کیا شام کا اخبار ہوتی ہے اور وزیر اعظم اس کے سینئر نیوز ایڈیٹر ،جن کی ترک تازی کا کمال صرف یہ ہے کہ ہر خبر پورے ہیجان کے ساتھ عوام تک پہنچ جائے؟رشک ِ مسیحا
مزید پڑھیے


کالم لکھنا ہے مگر کیا لکھا جائے؟

بدھ 15 جنوری 2020ء
آصف محمود
آج پھر کالم لکھنے بیٹھا ہوں ، آج پھر جاوید میانداد یاد آ رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے جاوید میانداد صاحب سے فون پر بات ہوئی ، کچھ ان خوابوں کا ذکر ہوا جن کی حدت پلکوں میں لیے وہ بھی نکلے تھے ،عمران خان اور کرکٹ کے نئے ڈھانچے پر جب کافی گفتگو ہو چکی تو انہوں نے خدا حافظ کہنے سے پہلے ایک ایسی بات کہہ دی کہ فون بند ہونے کے بعدمیں کتنی ہی دیر وہیں پتھر بنا بیٹھا رہا۔ کہنے لگے دیکھو آپ کالم لکھتے ہو ، ایک کام کیا کرو۔روز رات سونے سے پہلے اللہ سے
مزید پڑھیے


عمران خان ۔۔۔۔ کب تک؟

منگل 14 جنوری 2020ء
آصف محمود
مزاج، افتاد طبع اور اہلیت کے باب میں عمران خان اب کسی خوش گمانی یا حسن ظن کا نام نہیں ، اقتدار کے ڈیڑھ سال میں یہ جان ادا اس قوم پر یوںکھلا ہے پورے چاند کی رات میں جیسے کوئی برف زار آشکار ہو جائے۔سوال اب یہ ہے کیا اس مزاج ، اس افتاد طبع اور اس اہلیت کے ساتھ امور ریاست چلائے جا سکتے ہیں ؟جس بندوبست میں لوگ اپنے وجود میں بکھر رہے ہوں اس پر آخر کب تک اور کتنا اصرار کیا جا سکتا ہے؟ عمران خان کے اقتدار کے ڈیڑھ سال ہمارے سامنے ہیں۔ نتائج کا
مزید پڑھیے


اسلامی نظریاتی کونسل کی کیا ضرورت ہے؟

هفته 11 جنوری 2020ء
آصف محمود
اسلامی نظریاتی کونسل کی ضرورت ہی کیا ہے؟ امور خارجہ سے لے کر معیشت تک اس قوم کی رہنمائی کے لیے جب وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جیسی شہرہ آفاق وزارت موجود ہے جو اس بات پر قدرت رکھتی ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کی ضد میں صرف عیدوں پر ہی نہیں، ولیمے کی تقاریب میں بھی جب اور جہاں چاہے چاند چڑھا دے تو اب وطن عزیز میں کسی اور ادارے کا کیا کام؟ ذرافردِ جرم پڑھیے جو اسلامی نظریاتی کونسل کے خلاف جاری فرمائی گئی۔ارشاد ہوا: ’’ آج تک مذہبی طبقات کی سوچ کو اسلامی نظریاتی کونسل
مزید پڑھیے


امریکہ پیچھے کیوں ہٹا؟

جمعه 10 جنوری 2020ء
آصف محمود
ٹرمپ کا آگ اگلتا لہجہ اتنا متوازن کیسے ہو گیا اور امریکہ نے جوابی حملے کی بجائے اقوال زریں سنانے پر اکتفا کیسے کر لیا؟ کیا یہ جنگ پر آمادہ ایران کی قوت تھی جس نے امریکہ کو پسپا کر دیا ؟میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ٹرمپ کی افتاد طبع پر امریکی اسٹیبلشمنٹ کا تدبر غالب آ گیا ہے تو اس کی وجہ کچھ اور ہے۔ایران کی فوجی طاقت امریکہ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اس وقت صدام حسین کے پاس دنیا کی چوتھی بڑی فوج تھی۔ اس کا جو
مزید پڑھیے