BN

ارشاد محمود


قائداعظمؒ اورکشمیر… (2)


قیام پاکستان کے بعد قائداعظم کو سنگین مسائل کا سامنا تھا ۔مہاجرین کا ایک سیلاب امڈ آیاتھا۔وائسرائے ہندمائونٹ بیٹن کو قائداعظم نے مشترکہ گورنر جنرل تسلیم نہ کیا تو وہ دشمنی پر اتر آیا۔ گورداس پور ضلع بھارت کے حوالہ کر کے بھارت کو ریاست جموں وکشمیر تک زمینی راستہ فراہم کیا گیا۔ اسلحہ، گولہ بارود اور فوج کی تقسیم اور تنظیم نو جیسے مشکل مسائل درپیش تھے۔ افغانستان کے حکمران پختونستان کے نام پر صوبہ سرحد اور قبائلی علاقہ جات میں عدم استحکام پیدا کررہے تھے۔ان مشکلات کے باوجود قائداعظم کی نظروںسے کشمیراوجھل نہ ہوا۔ وہ مسلسل کوشش کرتے
منگل 29 دسمبر 2020ء مزید پڑھیے

قائداعظم اورکشمیر

پیر 28 دسمبر 2020ء
ارشاد محمود

قائداعظم محمد علی جناح پر گفتگو کرنا اور وہ بھی کشمیر کے تناظر میں ایک سعادت اور اعزاز سے کم نہیں۔غالباً قائداعظم کے سوانح نگار اسٹینلے والپرٹ وہ واحد مورخ ہیں،جنہوں نے چند جملوں میں قائد کی شخصیت اور کردار سمویا۔لکھتے ہیں:دنیا میں چند ہی لوگ ہوتے ہیں،جوتاریخ کا رخ پلٹتے ہیں۔ان سے کہیں کم دنیا کا نقشہ تبدیل کرتے ہیں۔اور شاید ہی کسی نے ایک قومی ریاست تشکیل دی ہو۔محمد علی جناح نے یہ تینوں کام کیے۔والپرٹ نے گویا دریا کو کوزے میں بند کردیا۔ والپرٹ کو چھوڑیں!یاد آیا کہ نواب بہادر یار جنگ کہا کرتے تھے:جناح،جناح نہیں خدا
مزید پڑھیے


بھارتی فوجی سربراہ سعودی عرب کیا ڈھونڈ نے گئے؟

پیر 14 دسمبر 2020ء
ارشاد محمود
اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے ما بعد بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکونڈنروانے کا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ جنرل نروانے نے دونوں ممالک کی عسکری اور حکمران لیڈرشپ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ۔ قوی امکان ہے کہ ان ممالک کی افواج کے سربراہ بھی جلد بھارت کا دورہ کریں گے۔اس دورے کو مشرق وسطی کے بدلتے سیاسی منظرنامہ کے علاوہ عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور چین کے مابین جاری کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھاجاتاہے۔پاکستان کی اسٹرٹیجک حکمت عملی پر بھی اس دورے کے گہرے اثرات
مزید پڑھیے


اسٹرٹیجک سے معاشی بیانیے تک سفر

پیر 07 دسمبر 2020ء
ارشاد محمود
خاموشی سے لیکن کامیابی سے پاکستان کا عمومی بیانیہ بدل رہاہے۔ پاکستان کی پہچان اب محض ایک دفاعی مستقر کی نہیں بلکہ اسے معاشی امکانات اور مستقبل کی قابل ذکر معاشی قوت کے حامل ملک کے طور پر دیکھاجانا شروع ہوچکاہے۔ وزیراعظم عمران خان سے لے کر وزراء تک سب کی توجہ اقتصادی ترقی، برآمدات میں اضافے اور ملک کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے پر ہے۔ خود وزیراعظم عمران خان کی گفتگو اور بیانات سے بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ ان کی توجہ کا محور ایک ایسے ریاستی ڈھانچے کی تشکیل ہے جہاں نچلاطبقہ ترقی کے ثمرات سے بہرہ مند
مزید پڑھیے


کس برتے پر ہم اتراتے پھرتے ہیں!

پیر 23 نومبر 2020ء
ارشاد محمود
جلوس نکالیں ۔ جلسہ کریں۔شادی بیاہ کی تقریبات بھی ضروربرپا کریں لیکن یہ نہ بھولیں کہ کورونا نے دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ جس کے پاس بہترین سائنسدانوں اور طبی ماہرین کے علاوہ جدید ترین ادویات اور بے حدوحساب مالی وسائل بھی ہیں‘ کی چیخیں نکال دی ہیں۔کس برتے پر ہم اتراتے پھرتے ہیں! کورونا ہے کہ مسلسل بھیس بدلتاہے۔ اس کے کئی روپ اور رنگ ہیں۔سائنسدان ابھی تک اس کی کیفیت اور ساخت کا اندازہ کرنے میںپوری طرح کامیاب نہیں ہوسکے۔خودصدر ڈونلڈٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کورونا وائرس کا شکار ہوئیں۔ اب ان کے بڑے
مزید پڑھیے



آج ٹرمپ نہیں نسل پرست ہارے

پیر 09 نومبر 2020ء
ارشاد محمود
نفرت اور شرانگیزی کی علامت صدر ڈونلڈٹرمپ کا اقتدار تمام ہوا۔ہونا ہی چاہیے تھا۔ اسلاموفوبیا کو انہوں نے بھڑکایا۔امریکہ کی سرزمین مہاجرین اور تارکین وطن کے لیے تنگ کی۔ اسرائیل جوارض فلسطین پر نہ صرف قابض ہے بلکہ ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہاہے کی پیٹھ ٹھونکی۔ ہمت اور شجاعت سے عاری عرب ریاستوں کے حکمرانوں کو ہانک کر اسرائیل کے سامنے سربسجود کرایا۔ کشمیر میں گزشتہ پندرہ ماہ سے انسانی تاریخ کا بدترین باب رقم ہورہاہے لیکن ٹرمپ کے کانوں پر جون تک نہ رینگی۔ ایران جسے بارک اوباما اور یورپی یونین نے ایک سمجھوتے کے تحت
مزید پڑھیے


گلبدین حکمت یار کے ساتھ نشست

پیر 26 اکتوبر 2020ء
ارشاد محمود
گلبدین حکمت یار تین دن تک اسلام آباد میں قیام کے بعد واپس کابل لوٹ گئے۔ جہاں وہ بیس برسوں کی جلاوطنی کے بعد گزشتہ تین سال سے مقیم ہیں۔اسلام آباد کسی زمانہ میں حکمت یار کا ٹھکانہ نہیں دوسرا گھر تھا۔ آج بھی ان کی صاحبزادی اور درجنوں قریبی رشتہ دار او حلیف یہاں قیام پذیر ہیں۔ اسلام آباد میں قائم فکر گاہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز نے حکمت یار کے ساتھ ایک محدود نشست کا اہتمام کیا جہاں ان کے کئی ایک پرانے دوست اور آشنا ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھے۔خالد رحمان جو
مزید پڑھیے


افغانستان : بھارت بے چین کیوں؟

پیر 12 اکتوبر 2020ء
ارشاد محمود
دہلی کے حکمرانوں کی بے چینی میں مسلسل اضافہ ہورہاہے کیونکہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سمجھوتے کے امکانات روشن ہوچکے ہیں ۔ طالبان امریکہ معاہدے نے افغانستا ن کے زمینی حقائق یکسر بدل دیئے ۔ بھارتی حکومت نائن الیون کے بعد طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے تصور کے ہی کے خلاف تھی۔ امریکہ بہادر نے مذاکرات کی بساط بچھائی تو اس کے افغان حلیفوں کی طرح بھارتی پالیسی سازوں کے بھی چودہ طبق روشن ہوگئے۔امریکہ کی توجہ کامحور رواں دھائی میں مشرق وسطی ہے جہاں وہ عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کی گھتیاں سلجھا
مزید پڑھیے


پاک افغان تعلقات کا نیا باب

پیر 05 اکتوبر 2020ء
ارشاد محمود
افغان رہنماعبداللہ عبداللہ کا حالیہ دورہ پاکستان غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ پاک افغان تعلقات کا ایک نیا باب اس دورے میں رقم کیاگیا۔اس دورے نے احمد شاہ مسعود کے حامیوں اور پاکستان کے درمیان پائی جانے والی سردمہری کو گرم جوشی میں بدل دیا ہے۔ عبداللہ عبداللہ کا شمار سخت گیر پاکستان مخالف رہنماؤں میں ہوتاتھا۔ان کے کامیاب دورہ پاکستان نے کابل میں پائے جانے والے پاکستان مخالف عناصر کو کمزور کیا اور پاکستان کی حمایت میں قابل قدر اضافہ کیا۔پشتونوں کے بعد اب ازبک اور تاجک افغان لیڈر بھی پاکستان کے قریب
مزید پڑھیے


اسلامو فوبیااور وزیراعظم عمران خان

پیر 28  ستمبر 2020ء
ارشاد محمود
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے وزیر اعظم عمران خان نے اس مرتبہ پھر ایک جامع اور ہمہ پہلو تقریر کی۔ خطاب میں مسلمانوں کو درپیش سب سے بڑے مسئلہ اسلامو فوبیا کے متعلق اہم نکات اجاگر کیے اور دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی کہ اسلامو فوبیا ایک من گھرٹ اور نفرت پر مبنی مفروضہ ہے ۔ جو انسانوں کو تقسیم کرتاہے۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں کو خوف اور دہشت کی علامت کے طور پر متعارف کرانے کے لیے باقاعدہ لڑیچر تخلیق ہوا۔ اسلامو فوبیاکے نظریہ کے تحت مسلمانوں
مزید پڑھیے








اہم خبریں