BN

ارشاد محمود



کنٹرول لائن پر جاری تجارت پر بھی پابندی


لگ بھگ دس برس کے بعد لائن آف کنٹرول پر جاری تجارت کو بھی بھارت کی وزارت داخلہ نے بند کردیا۔ تجارت کی معطلی سے کروڑوں روپے مالیت کا سازوسامان لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کھڑے ٹرکوں میں لدا ہوا تباہ ہوگیا۔پہلے سے مالی مشکلات سے دوچار تاجروں کو زبردست معاشی دھچکا لگا۔بھارتی حکومت کے اس فیصلے پر نہ صرف جموں وکشمیر کے دونوں حصوں بلکہ پاکستان اور خود بھارت میں بھی زبردست ناپسندیدگی کا اظہارکیاگیا۔حریت کانفرنس کے میرواعظ عمر فاروق سے لے کر راجہ فاروق حیدر اور پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجما ن ڈاکٹر فیصل تک سب نے
پیر 29 اپریل 2019ء

تحریک انصاف سے سبق سیکھیں

پیر 22 اپریل 2019ء
ارشاد محمود
وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں ردوبدل کرکے اچھا کیا۔ اسد عمر کی تبدیلی سب سے زیادہ تکلیف دہ مرحلہ تھا۔وہ پارٹی کے چہیتے تھے۔ وزیراعظم انہیں امرت دھار کی طرح استعمال کرنا چاہتے تھے۔افسوس! آٹھ ماہ میں وہ عوام کو راحت پہنچانے میں بری طرح ناکام رہے۔مہنگائی کے طوفان نے اسد عمر ہی نہیں بلکہ پارٹی کی نیک نامی کو بھی خش وخاشاک کی طرح بہا دیا۔ ایک مختصر سے وقت میں حکمران جماعت اور وزیراعظم عمران خان غیر مقبولیت کی ڈھلوان پر سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔باہمی ناچاکی اور پارٹی کے اندر جاری سرپھٹول کی کیفیت نے اچھی حکومت
مزید پڑھیے


ہزارہ برادری کاآخر جرم کیا ہے

پیر 15 اپریل 2019ء
ارشاد محمود
کوئٹہ میں ایک بار پھر بے گناشہریوں کو خون میں نہلایا گیا۔ شہید ہونے والوںمیں سے اکثر کا تعلق ہزارہ برادری سے ہے۔ٹی وی سکرین پر بکھری ہوئی نعشیں، اجڑی ، زخمی عورتوں اور بچوں کو دیکھ کر کون ہے جس کے آنسونہ ٹپکے ہوں۔ دل دکھ اور غم سے بھرآیا نہ ہو۔مظلوم اور مجبور ہزارہ گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردوں کے ہاتھوں بری طرح کچلے اور مسلے جارہے ہیں ۔خوف اور دہشت سایہ کی طرح ان کا تعاقب کرتاہے۔ریاست انہیں طفل تسلیاں دیتی ہے ۔ روایتی بیانات جاری کرتی ہے۔ اور پھر چار سو قبرستان کی سی خاموشی
مزید پڑھیے


لمبی ہے غم کی شام پر مگر شام ہی تو ہے

پیر 08 اپریل 2019ء
ارشاد محمود
گزشتہ کالم میں پاکستان تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی تو احباب نے جوابی تبرہ بازی میں طعنہ دیا کہ تبدیلی سرکار کو لانے والے کاروان کے ہمرکاب تبدیلی کا ڈھول پیٹنے اور وطن عزیز کی تقدیر بدلنے کی نوید سنانے والوں میں آپ بھی پیش پیش تھے۔ بہت سے سیاسی کارکنوں ہی نہیں بلکہ لیڈروں کا بھی خیال ہے کہ میڈیا کا مکو ٹھپاگیا لہٰذا وہ حکومت گرانے یا کم ازکم اسے ناکام ثابت کرنے پر تلا ہواہے۔ ایک خام خیالی یہ بھی ہے کہ نون لیگ نے خزانے کی تجوری کھول دی ہے لہٰذا راتوں
مزید پڑھیے


جناب وزیراعظم: اب اتنا نہ رلاؤ

پیر 01 اپریل 2019ء
ارشاد محمود
تحریک انصاف کی حکومت کا ہنی مون پریڈ تمام ہوچکا۔ کارکردگی دکھانے اور عوام کو راحت پہنچانے کا مرحلہ شروع ہوچکاہے۔ حالیہ چند ماہ کے دوران عمومی طورپر غیر مقبول حکومتی فیصلوں پر شہریوں نے احتجاج یا ناراضی کا اظہار کرنے سے گریز کیا ۔ حکومت کو معاملات سمجھنے اور رفتہ رفتہ ایسے اقدامات کرنے جو ملک کو ترقی اور خوشحالی کی جانب لے جائیں کا بھرپور موقع دیاگیا۔لیکن اب رفتہ رفتہ صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا نظر آرہاہے۔ ہوش ربا مہنگائی کا طوفان امنڈ آیا ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں پر صارفین کی چیخوں نے ساتویں آسمان پر
مزید پڑھیے




اور اب لبریشن فرنٹ پر بھی پابندی

پیر 25 مارچ 2019ء
ارشاد محمود
جماعت اسلامی کے بعد جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی سیاسی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ بھارتی سرکار رفتہ رفتہ دیگر سیاسی جماعتوں اورلیڈروں کے گرد بھی شکنجہ کس رہی ہے۔ سیّد علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق بھی مسلسل زیر عتاب ہیں۔ریاستی اسمبلی تحلیل کرکے گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی بائیس برس قبل عسکریت سے لاتعلقی کا اعلان کرچکی ہے۔باوجود اس کے جماعت اسلامی کے دو سو سے زائد لیڈر اور کارکن زیر حراست ہیں ۔ ان کے تعلیمی ادارے بند اور پارٹی کے دفاتر سیل دیے گئے ۔ جناب یاسین ملک کی لیڈرشپ میں لبریشن
مزید پڑھیے


پانی کے لیے ترسنے پر مجبورمیرپور

پیر 18 مارچ 2019ء
ارشاد محمود
4500 میگاواٹ سے زائد بجلی کی صلاحیت کے حامل میگا ہائیڈرو پاور منصوبے آزاد جموں و کشمیر کے اندر حالیہ چند مہینوں میں گرما گرم بحث و مباحثہ کا موضوع بنے ۔ ان منصوبوں کے خلاف مظفرآباد کے کچھ شہریوں نے لاہور میں واپڈا کے صدر دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ۔ دوسری جانب ان منصوبوں کے ماحولیات اثرات،ناقص ڈیزائن اور طویل عرصے سے واٹر یوجز چارجز یا رائلٹی کے نرخ طے نہ کرنے اور بجلی کے منصوبے شروع کرنے سے قبل باضابطہ معاہدہ نہ کرنے کے طرزعمل نے حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان پائی
مزید پڑھیے


پاکستان پر قدرت مہربان ہورہی ہے

پیر 11 مارچ 2019ء
ارشاد محمود
اگرچہ گزشتہ چند ہفتے پاک بھارت تناؤ کی نذر ہوگئے لیکن اس دوران پاکستان کی ہیت مقتدرہ کو سرجوڑ کر بیٹھنا پڑا۔انہیں طویل عرصہ سے گومگوں کی پالیسی سے نکل کر اہم اسٹرٹیجک فیصلے کرنے کا موقع ملا۔ پاکستان نے بطور ریاست اپنی سرزمین کو دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا عزم پوری قوت سے دہرایا۔اگرچہ ایسے اعلانات پہلے بھی بہت کیے جاچکے لیکن اب کی بار محسوس ہوتاہے کہ حکومت، عسکری لیڈرشپ، سیاسی پارٹیاں اور سماج کی قوت برداشت جواب دے چکی اور وہ کالعدم تنظیموں کا وجو دمزید گوارا کرنے کو
مزید پڑھیے


جنگ کا خطرہ ٹلا ہے‘ ختم نہیں ہوا

پیر 04 مارچ 2019ء
ارشاد محمود
بھارتی پائلٹ کی رہائی کے بعد جنگ کا خطرہ بڑی حد تک ٹل چکا لیکن کشیدگی نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔لائن آف کنٹرول پر جنگ کاسا سماں ہے۔ بھمبر سے لے کر نیلم ویلی تک کا سارا علاقہ شدید گولہ باری کی زد میں ہے۔ معمر حضرات بتاتے ہیں کہ اس قدر شدت کی فائرنگ اور گولہ باری انہوں نے 1965ء کی جنگ میں بھی سنی نہ دیکھی۔ذرائع ابلاغ کنٹرول لائن کے گردونواح میں بسنے والوں پر گزرنے والی قیامت دکھاتے نہیں مبادہ کئی ملک میں غصہ اور انتقام کی آگ نہ بھڑک اٹھے۔ بھارتی
مزید پڑھیے


اب محمد بن سلمان بھی پاکستان آرہے ہیں

پیر 11 فروری 2019ء
ارشاد محمود
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی رواں ہفتے پاکستان آمدکو غیر معمولی اہمیت کا دورہ سمجھاجارہا ہے۔وہ سعودی عرب میں اس وقت سب سے طاقت ور اورتیزی سے فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمدکرانے والی شخصیت کی شناخت رکھتے ہیں۔پاکستان کے ساتھ دوستانہ اور اسٹرٹیجک تعلقات کی وہ تجدید کرنے آرہے ہیں۔گزشتہ دس بارہ برسوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں سرد مہری آچکی تھی۔ عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں نہ صرف گرم جوشی پیدا ہوئی بلکہ سعودی عرب نے پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت
مزید پڑھیے