Common frontend top

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


جناب مصطفیٰ کمال: برِ عظیم میں مزاح کے سب سے بڑے محرّک


اس بھری دنیا میں دو ہی شہر ایسے ہیں جن کے باسی ’زندہ دلان‘ کی نسبت سے معروف ہیں۔ ایک وہ جہاں سے آج بھی محبت بھرے شگفتہ شمارے اور شُستہ فون آتے ہیں، یعنی حیدرآباد (دکن) دوسرے وہ جہاں یہ شمارے اور فون مجسم شادمانی کے ساتھ وصول کیے جاتے ہیں یعنی لاہور۔ کبھی کبھی تو اس سلطنتِ جلوہ آرائی کی رانی محترمہ فیس بُک اور ہر ایک دل کے عزیزجنابِ وٹس ایپ کی دل و جان سے بلائیں لینے کو جی مچلتا ہے کہ نئے زمانے کے ان سہولت کاروں کی مدد سے ہم نے نہ صرف
پیر 15 جولائی 2024ء مزید پڑھیے

اُردو شاعری کی آنکھیں…(4)

اتوار 07 جولائی 2024ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اُردو، پنجابی غزل، نظم، گیت میں اپنی الگ سے دھاک بٹھانے والے منیر نیازی کہ جنھیں زمانے سے زیادہ اپنے لالچی، سازشی، خوشامدی ہم عصروں سے شکوہ رہا ’ہم زباں میرے تھے، اُن کے دل مگر اچھے نہ تھے… منزلیں اچھی تھیں، میرے ہم سفر اچھے نہ تھے‘ انھوںنے موضوع اور مزاج کے حوالے سے اپنی انفرادیت اور زندہ دلی کو ہمیشہ برقرار رکھا۔ ان کی شاعری میں مسلسل جاری رہنے والے خواب ناک ماحول کی بنا پر اسے طلسم خانۂ حیرت بھی کہا جاتا ہے: اِک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے اِک چاند سا آنکھوں میں چمکائے
مزید پڑھیے


اسلام آباد کی محبتیں

اتوار 30 جون 2024ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اسلام آباد کی بابت مشہور ہے کہ یہ گریڈوں اور گریڈی لوگوں کا شہر ہے لیکن مجھے تو یہاں ہمیشہ محبت کرنے والے لوگ ملے۔ بعض اسے گملے میں اُگا ہوا شہر بھی کہتے ہیں لیکن مَیں یہاں بھی کہوں گا کہ میرا تو یہاں جس جس سے بھی تعلق بنا اُس کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ جی چاہتا ہے اس کا نام ’احترام آباد‘ رکھ دوں۔ اگرچہ ہمارے مقتدر طبقوں نے اسے ’الزام آباد‘ اور ’انتقام آباد‘ بنانے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ مزاح چونکہ ہمیشہ سے میری سب سے بڑی طاقت اور سب سے بڑی
مزید پڑھیے


اُردو شاعری کی آنکھیں…(3)

اتوار 23 جون 2024ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اقبال سے نظریں ہٹائیں تو بیسویں صدی میں ہر مزاج، ہر قبیل، ہر قماش کے اُردو غزل گو شعرا کی ایک خوشنما و خوش ادا کہکشاں بنتی دکھائی دیتی ہے، جن کے ہاں اس موضوع کو نئے نئے اور رنگا رنگ انداز میں اس طرح سر آنکھوں پر بٹھایا گیا ہے کہ پڑھنے والوں کی آنکھیں کھل جائیں ۔ ان میں حسرت موہانی کہ جنھیں بیسویں صدی کی غزل کا مجدد بھی کہا جاتا ہے، کے ہاں اس موضوع سے سلیقہ آمیز برتاؤ کا یہ انداز دیکھیے: کچھ عجب چیز ہے وہ چشمِ سیاہ‘تیر جس کا کبھی
مزید پڑھیے


حج اور احتیاط

اتوار 16 جون 2024ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
حج کے مبارک دن پرلاکھوں فرزندانِ توحید نے اپنے رب کے حضور حاضر ہو کے اس کی کبریائی پہ سرِ تسلیم خم کرنے کے ساتھ سات اس کے احکام اور سُنتِ ابراہیمی پہ کاربند رہنے کا زبانی اقرار اور عملی اظہار کیا۔ حج، اسلامی زندگی کا وہ مفیدالمراتب اور مزید المقاصد رُکن ہے، جس میں عبادت، سیاحت، ریاضت، مشقت، تربیت، حکمت، برداشت اور رنگا رنگثقافتوں کے لا محدود عناصر ایک ساتھ میسر ہوتے ہیں۔ زکوٰۃ کے ساتھ حج میں بھی استطاعت اور صاحبِ حیثیت ہونے کی شرط اس لیے عائد کر دی گئی کہ اس کو ادا نہ کر
مزید پڑھیے



اُردو شاعری کی آنکھیں…(2)

اتوار 09 جون 2024ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
دوستو! بڑا فن کار بھی کیا کمال چیز ہوتا ہے۔ ذیل میں میر تقی میر کے چار شعر دیکھیے، جو بہ ظاہر ہم نے میر کی آنکھوں سے مزید دلچسپی دکھانے کی غرض سے تلاش کیے ہیں لیکن ذرا سا غور کریں تو میر کی ان آنکھوں سے نہ صرف اُس کے پورے عہد کو بہ خوبی دیکھا جا سکتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو بقول ناصر کاظمی یوں لگتا ہے کہ میر کا عہد ہمارے عہد سے آن ملا ہے: اس باغ کے ہر گل سے چِپک جاتی ہیں آنکھیں مشکل بنی ہے آن کے صاحب نظروں کو وے دن گئے
مزید پڑھیے


شگفتانے

اتوار 02 جون 2024ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
دنیا بھر کی زبانوں میں لطافت و نجابت اور اخلاقیات کے کلچر کو عام کرنے کے لیے ہمیشہ کہانی کا سہارا لیا گیا جو آج بھی لوک کہانیوں کے نام سے دنیا کی ہر زبان کے بھڑولے میں شان سے بھری اور دھری ہیں۔ قصے کی طاقت، تاثیر اور تنویر کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آسمانی کتابوں میں بھی ہر طرح کے لوگوں کی اصلاح، انتباہ اور توجہ کے لیے کہانی کے کُلیے کو برتا گیا۔ اسی طرح معلوم ادب میں کلیلہ و دِمنہ کے مکالمات، الف لیلوی داستانیں، شیخ چِلی اور مُلا نصرالدین کی حکمت آمیز حماقتیں
مزید پڑھیے


پاکستانیت سے سرشار ’افتخار نامہ‘

اتوار 26 مئی 2024ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ناول سے متعلق کسی مفکر نے کہا تھا کہ ایک ناول تو دنیا کا ہر انسان تحریر کر سکتا ہے کہ اس نے ایک زندگی بہرحال گزاری ہے لیکن دوسرا ناول لکھنے کے لیے اسے تخیل، تاریخ یا تدبر کا سہارا لینا پڑتا ہے لیکن دوستو!آپ بیتی یا سوانح عمری، تو ایک نئی نکور زندگی کا فرسٹ ہینڈ تجربہ اپنے دامن میں سمیٹے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں شخصی ادب کو سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہوتا ہے کہ جو تجربات کسی فرد نے کئی دہائیوں اور کٹھنائیوں
مزید پڑھیے


اے میرے معروف صحافی!

اتوار 19 مئی 2024ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
میرے پیارے اور قابلِ احترام صحافی صاحب! سب سے پہلے تو آپ کو یہ بات باور کراتا چلوں کہ ہمارے تعلق کی مدت کم و بیش کے امکان کے ساتھ تین دہائیوں پر محیط ہے۔ مطالعے سے عشق کی بنا پر ہمیں اخبار بینی کی لَت تو خیر سکول کے زمانے ہی سے پڑ چکی تھی۔ ادبی رسائل میں لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی نوے کی دہائی کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا، ستائیس سال قبل اخبار میں کالم نگاری کا معاملہ بھی آغاز ہو گیا۔ جب 27 فروری 1997ء کو ’’دیر آید، غلط آید‘‘ کے عنوان سے روزنامہ ’دن‘
مزید پڑھیے


مکہ کہ ایک شہر ہے عالم میں انتخاب…(آخری حصہ)

اتوار 05 مئی 2024ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مکہ میں جس شخص سے ملاقات کر کے مجھے سب سے زیادہ مزہ آیا وہ بمبئی بلکہ نوی ممبئی کے نادر خان سرگروہ تھے، جو نام سے تو کسی خطرناک گروہ کے سرغنہ محسوس ہوتے ہیں لیکن اصل میں نہایت شریف، نفیس، لطیف اور ظریف آدمی ہیں۔ گزشتہ تیس سال سے میرے اسی دلبر شہر مکہ میں مقیم ہیں۔ کعبہ کے قُرب و جوار کا شاید ہی کوئی گوشہ ہو جہاں وہ مقیم نہیں رہے نیز اس شہرِ دل آویز میں نبی مکرم ﷺ اور صحابہ ؓ سے نسبت رکھنے والا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس سے وہ آشنا نہیں۔
مزید پڑھیے








اہم خبریں