Common frontend top

سعد الله شاہ


دوسروں کی زمین میں سخن وری!


کیا سروکار ہمیں رونق بازار کے ساتھ ہم الگ بیٹھے ہیں دست ہنر آثار کے ساتھ اے مرے دوست ذرا دیکھ میں ہارا تو نہیں میرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھ اس تسلسل میں ایک شعر اور ’’کہ وقت خود ہی یہ بتائے گا کہ میں زندہ ہوں۔کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ‘‘ اصل میں آج میرا دل چاہا کہ ادبی کالم میں پرائی زمینوں کی بات کروں کہ کسی کی زمین شاعر کو پسند آ گئی تو اپنی فصل اگا دی بعض اوقات بہت اچھے اچھے شعر نکل آتے ہیں مندرجہ بالا اشعار کے
منگل 30 جنوری 2024ء مزید پڑھیے

نثری شاعر اور جواب آں غزل

بدھ 17 جنوری 2024ء
سعد الله شاہ
موج میں آ کر جب بہتے ہیں بادل چاند ہوا اور میں تنہا تنہا کیوں رہتے ہیں بادل چاند ہوا اور میں سبز رُتوں کی جھلمل میں جب شاخیں پھول اٹھاتی ہیں بہکے بہکے سے رہتے ہیں بادل چاند ہوا اور میں اور پھر’’آنکھیں بن کر دیکھ رہے ہو تم بھی قیدی لوگوں کو۔ روشن دانوں سے کہتے ہیں بادل چاند ہوا اور میں‘‘ پہلی بات تو یہ کہ شعر میں قیدی سے مراد کوئی سیاسی قیدی نہیں۔ دوسری بات یہ کہ یہ کالم خالصتاً ادبی ہے۔ اصل میں محترم اقتدار جاوید کالم نثری نظم اور یوسف خالد نظر سے گزرا تو ہم پر
مزید پڑھیے


اسلم کمال اور فراست بخاری کی یاد میں چغتائی مشاعرہ !

هفته 13 جنوری 2024ء
سعد الله شاہ
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے مگر وہ نین کہ تونے تھے جو نشیلے کیے ادھر تھا جھیل سی آنکھوںمیں آسمان کا رنگ ادھر خیال نے پنچھی تمام نیلے کیے ایک اور شعر کہ ’’محبتوں کو تم اتنا نہ سرسری لینا، محبتوں نے صف آراء کئی قبیلے کئے۔ آج ایک زبردست مشاعرے کا تذکرہ کرنا ہے کہ جیسے وسیم عباس نے بزم طارق چغتائی کے تحت سجایا مگر اس سے پہلے ایک پیاری سی خبر پر نظر پڑ گئی کہ ایک فرانسیسی شخص نے رشتوں سے تنگ آ کر خود ہی سے شادی کر لی۔ معاً ذھن میں ظہیر کاشمیری کا شعر
مزید پڑھیے


پروین شاکر سیمینار اور مشاعرہ

بدھ 03 جنوری 2024ء
سعد الله شاہ
پھر چشم نیم وا سے ترا خواب دیکھنا پھر اس کے بعد خود کو تہہ آب دیکھنا ٹوٹا ہے دل کا آئنہ اپنی نگاہ سے اب کیا شکستِ ذات کے اسباب دیکھنا اور اس میں ایک نازک اور طرحدار شعر دیکھئے کہ ’’تلخی میں بھی وہ بھولا نہیں آپ اور جناب۔ تہذیب اس کی دیکھنا آداب دیکھنا: جنوری آغاز ہو چکا اور موسم کی یخ بستگی ہاتھ پائوں کھولنے نہیں دیتی، خوابیدہ سی سفید صبحیں اور اداس سرمئی شامیں۔ لگتا ہے کہ کچھ روز ایسے ہی چلے گا۔ ہمیں تو 1997ء کا سال یاد آیا کہ دسمبر میں پورا مہینہ سورج نہ نکلا تب
مزید پڑھیے


منیر نیازی کی 17ویں برسی

هفته 30 دسمبر 2023ء
سعد الله شاہ
آنکھوں کے کٹوروں کو چھلکائے ہوئے رہنا بھیگے ہوئے دامن کو پھیلائے ہوئے رہنا جو آنکھیں سوالی ہوں اور خوابوں سے خالی ہوں ان آنکھوں کی قسمت ہے پتھرائے ہوئے رہنا اس غزل کا ایک اور شعر کہ بے فیض ہے یہ دنیا کیا اس سے طلب کرنا۔ اپنا ہی لہو پینا غم کھائے ہوئے رہنا۔ یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ منیر نیازی کہ جنہیں ڈاکٹر محمد اجمل نیازی شاعری کا خان اعظم کہتے تھے کی 26 دسمبر کو 17ویں برسی تھی اور مندرجہ بالا غزل کے اشعار انہی کی نذر تھے کہ ان کی زمیں میں یہ خراج تحسین ہے۔ ویسے
مزید پڑھیے



ن لیگ اور استحکام

بدھ 20 دسمبر 2023ء
سعد الله شاہ
گھٹا تو کھل کے برسی تھی مگر موسم نہ بدلا تھا یہ ایسا راز تھا جس پر وہی آنکھوں کا پردا تھا میں گہری نیند سویا تھا مجھے بادل اٹھا لائے میں اک ندیا کنارے پر کسی واپسی کا سپنا تھا شاعر اپنے مشاہدات و تجربات ہی کو سخن آشنا کرتا ہے۔ ’’بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں۔ میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا‘‘ اور ’’اگرچہ سعد رستے میں بڑے دلکش جزیرے تھے، مجھے ہر حال میں لیکن سمندر پار جانا تھا‘‘ اصل میں میں نے غالب کا ایک لاجواب شعر کئی بار پڑھا ’’حد
مزید پڑھیے


ایک شعری اور تخلیقی کالم

اتوار 17 دسمبر 2023ء
سعد الله شاہ
اس کا چہرہ جو نظر آتا ہے چاند آنکھوں میں اتر آتا ہے ایسے آتا ہے خیالوں میں وہ جیسے رستے میں شجر آتا ہے اور کبھی کبھی سوچیں تو ایسے لگتا ہے ’’ہے پرندوں کی دعائوں کا اثر یہ جو پیڑوں پہ ثمر آتا ہے ہاں ہاں ایک اور شعر ہے زمانے سے وہ بڑھ کر سفاک جس کو جینے کا ہنر آتا ہے۔ آج دل میں خیال آیا کہ سیاست کو چھوڑ کر شعر کی بات کی جائے اور یہ جو شعر ہے یہ نہایت پراسرار عمل ہے میرا مطلب ہے تخلیق واقعتاً ایک وہبی سی شے ہے بالکل ایسا ہی عمل
مزید پڑھیے


خوابوں کے انتظار میں تھے اور مر گئے

هفته 16 دسمبر 2023ء
سعد الله شاہ
کس جہاں کی فصل بیچی کس جہاں کا زر لیا ہم نے دنیا کی دکاں سے کاسہ سر بھر لیا لوگ فہم و آگہی میں دور تک جاتے مگر اے جمال یار تونے راستے میں دھر لیا خیر اب تو جمال یار کی بات بھی نہیں کہ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا، اور پھر ویسے بھی غم یار گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا۔ کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہے۔ وہی نہ اگر سر پھوڑنا ہی ہے تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو۔ بہرحال الیکشن کے انتظامات مکمل ہیں، ہو رہے گا کچھ نہ
مزید پڑھیے


نامعتبر موسم اور امید!!

جمعه 15 دسمبر 2023ء
سعد الله شاہ
توڑ ڈالے ہیں جو دریا نے کنارے سارے کون دیکھے گا تہہ آب نظارے سارے نظر انداز کیا میں نے بھی اس دنیا کو اور دنیا نے بھی پھر قرض اتارے سارے پنکھ لگا کر اڑتے ہوئے وقت کو کون روکے مگر ایک احساس دامن گیر ہے کہ برف پگھل رہی ہے حاصل عمر وہی طفل ہے اک گریہ کناں۔ ہاتھ سے چھوٹ گئے جس کے غبارے سارے ۔کوئی پیش بندی کوئی اہتمام آئندہ کا مگر کہاں! دل کی ناآسودہ حسرتیں ایسے میں ہم سیاست کی بات کیا کریں کہ وہاں تو اقتدار و اختیار کی ہوس اسی طرح جوان ہے اور یہ
مزید پڑھیے


کتنے روشن ہیں چراغوں کو جلانے والے

بدھ 06 دسمبر 2023ء
سعد الله شاہ
کس نے سیکھا ہے نقشِ پا رکھنا پیر اٹھایا تو آ گیا رکھنا وقت روکے تو میرے ہاتھوں پر اپنے بجھتے چراغ لا رکھنا اور پھر ’’پانیوں پر بہار اترے گی۔ تم وہاں نقش اک بنا رکھنا‘‘ تو صاحبو! میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ہتھیلی پر سرسوں جمانا صرف محاورہ ہی نہیں کبھی کبھی ایسا واقعہ وقوع پذیر ہو جاتا ہے۔ آپ تواتر سے ویرانے میں بس چلیں تو وہاں اک راستہ بن جاتا ہے۔ ’’ہم رہروان شوق تھے منزل کوئی نہ تھی۔ منزل بنے ہیں نقش ہمارے دھرے ہوئے‘‘ اس راہ کے مسافر ہمیں اچھے لگتے ہیں۔ وہ اخوت والے ڈاکٹر امجد
مزید پڑھیے








اہم خبریں