BN

سعد الله شاہ



خان صاحب!دیر نہ کریں


سب سے پہلے اپنے قارئین کے لئے تین تازہ ترین اشعار جس پہ جتنا تھا اعتبار کیا اس نے اتنا ہی ہم کو خوار کیا ایک سودائے رسم رسوائی لوگ کہتے ہیں ہم نے پیار کیا اب دھڑکنا بھی اس نے چھوڑ دیا دل نے جا کر کہاں قرار کیا اب شاعر کیا کرے کہ اپنی بپتا کو سخن آشنا ہی کر سکتا ہے وہ تو داغ نے بھی کہا تھا’’غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا‘‘ اعتبار کا اپنا ایک موسم ہوتا ہے، جہاں بندے کی مت ہی ماری جاتی ہے یا پھر وہ اپنی جبلت کے ہاتھوں تنگ ہوتا ہے۔ محبت بھی تو اس سے
اتوار 24 نومبر 2019ء

سیاست سے ہٹ کر ایک کالم

هفته 23 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
تم کیا جانو میرے تنہا ہونے میں میری کتنی قوت صرف ہوئی ہے تب کہیں جا کر میری طاقت صرف ہوتی ہے۔ فکر اور سوچ بچار کچھ ایثار کا تقاضا تو کرتی ہے۔ ویسے تو معلومات روزانہ کی بنیاد پر آپ کے ذہن کی ہارڈ ڈسک پر ڈھیر لگاتی جاتی ہیں۔ مگر اس میں علم کتنا بنتا‘ شاید وہ کہ جس پر آپ عمل کرتے ہیں یا کم از کم عمل پیرا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں۔ بیٹھے بٹھائے کچھ باتیں آپ کو چونکاتی بھی ہیں۔ ہاں آپ بالکل بے نیاز نہ ہو جائیں یا دوسرے لفظوں میں فرار حاصل
مزید پڑھیے


عمران خان کی تقریر اورجنون

جمعه 22 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
وحشت کلکتوی نے غالباً یوں کہا تھا: کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے یہ شعر مجھے عمران خان کی حالیہ تقریر سن کا ذہن میں آیا۔ وہ دھرنے اور نوازشریف کے معاملے کے الجھائو سے تھک ہار کر دو دن کی رخصت گزارنے کے بعد یا یوں کہیں کہ تازہ دم ہو کر آئے اور ہزارہ موٹروے حویلیاں کے مانسہرہ سیکشن کی افتتاحی تقریب میں اپوزیشن کے کڑاکے نکال دیئے۔ مجھے تو وہی ناصر ادیب کی فلم مولا جٹ کا ڈائیلاگ بھی یاد آیا کہ ’’مولے نو مولا نہ مارے
مزید پڑھیے


آ ہُن ہجر مکا

جمعرات 21 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
کچھ لمحے ہوتے ہیں جو آپ کی لوح یاد پر ثبت ہو جاتے ہیں۔ ایک روز میرے پسندیدہ اداکار سہیل احمد عرف عزیزی مجھے ملے تو یک دم اپنے دونوں ہاتھ میرے گالوں پر رکھ دیے اور کچھ دیر پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھتے رہے پھر گویا ہوئے’’یار!آپ نے ماں کے حوالے سے کیا کالم لکھ دیا ہے‘‘ ان کی طرف سے داد مجھے پہلے بھی پہنچ چکی تھی لیکن ان کی تحسین کا یہ انداز اپنے اندر کتنی اپنائیت رکھتا تھا۔ اسی طرح ایک روز میں ان کے سیٹ پر گیا تو باقاعدہ اٹھ کر گلے ملے۔ یہ
مزید پڑھیے


سیاست کا المیہ اور نوازشریف

منگل 19 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
واسطہ یوں رہا سرابوں سے آنکھ کھلی نہیں عذابوں سے میں نے انسان سے رابطہ رکھا میں نے سیکھا نہیں نصابوں سے دنیا ہماری مرضی سے نہیں چلتی۔ اس کے اپنے ہی اصول ہیں کہ اس میں جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے۔ ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے۔ غالب نے بھی کہہ دیا تھا’’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘‘ بہرحال ایسے بھی نہیں روش بدلنے والے بھی موجود رہتے ہیں۔ ان کی کوشش اور سعی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مگر جب عام اور خاص کی تفریق ہو جائے تو پھر معاشرہ اسی طرح ترتیب پاتا
مزید پڑھیے




آہ محمد حامد سراج اور شرافت نقوی

اتوار 17 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں لوگ پہچان بناتے ہوئے مر جاتے ہیں میں تہی دست ہوں اور بارہا یہ سوچتا ہوں اس طرح لوگ کہاں لوٹ کے گھر جاتے ہیں لیکن بعض لوگ ان پھولوں کی طرح ہوتے ہیں جو یکسر خوشبو میں ڈھل جاتے ہیں اور وہ خوشبو لوگوں کے مسام جاں کو مہکاتی رہتی ہے۔ بعض لوگ اپنی پہچان نہیں بناتے بلکہ زندگی کی پہچان کرواتے ہیں وہ مرتے کہاں ہیں‘ وہ تو بقول کیٹس اپنی دوسری زندگی، بعد میں اپنے کام کی صورت میں گزارتے ہیں۔ یہی باکمال لوگ ہوتے ہیں جو بانٹتے بانٹتے اپنا دامن خیر
مزید پڑھیے


آپ کی جگہ کوئی بھی لے سکتا ہے

جمعه 15 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ویسے دردکا اشک بن جانا تو خوبصورت بات ہے کہ آنسو بھی ایک طرح کا اظہار ہے۔ اس پر بھی فوراً ایک شعر ذہن میں آ گیا: ہماری آنکھ میں آئے تھے دفعتاً آنسو ہوا تھاعشق تو اظہار بھی ضروری تھا بات کسی اور طرف نہ نکل جائے کہ میں تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ درد کو گالی نہیں بننا چاہیے‘ زیادہ تر شکوہ شکایت رہے تو درست ہے۔ ویسے یہ دردمحبت یا عشق میں ہے تو لذت آمیز ہے، مگر یہ درد اگر محرومی اور
مزید پڑھیے


بات سے بات

جمعرات 14 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
سوشل میڈیا کا ایک فائدہ تو ہے کہ گھٹن کے اس ماحول میں کچھ ثانیے میسر آ جاتے ہیں کہ انسان کچھ باتوں پر محظوظ ہو جاتا ہے وگرنہ تو وہی بقول منیر نیازی’’سو سو فکراں دے پرچھاویں‘ سو سو غم جدائی دے‘‘ حافظ صدیق نے پوسٹ لگائی ہے کہ مفتی کفایت اللہ ثابت کرنے جا رہے ہیں کہ قائد اعظم سکندر اعظم کے کزن تھے۔ یقینا اس کے پیچھے وکی لیکس والے وکی والی بات ہے جسے جمائما کا کزن ثابت کیا گیا تھا۔ پتہ نہیں اس میں کتنی حقیقت ہے اور کتنی داستان‘تاہم لطف اٹھانے کے لئے کچھ
مزید پڑھیے


محفل میلاد اور آپؐ کا معجزہ

بدھ 13 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
گھر گھر قریہ قریہ اور بستی بستی محبوبِ خدا سید الانبیاء اورمرکز خلائق حضرت محمدﷺ کا میلاد منایا گیا۔سب کا اپنا اپنا انداز جس میں آقاؐ سے محبت مؤدت اور عشق موجزن تھا۔ ظاہر ہے یہ وہی اندر کا جگمگاتا احساس ہے کہ جس کے بارے میں منیر نیازی نے کہا تھا: میں جو اک برباد ہوں آباد رکھتا ہے مجھے دیر تک اسم محمدؐ شاد رکھتا ہے مجھے یوم ولادت سعید کی رات ہی سے مساجد اور بعض گھروں میں جشن برپا رہا۔ ایک ماحول تھا جو ہر سمت چھایا ہوا تھا۔ عشاء اورفجر کی نماز کے بعد ہی سیرینی نمازیوں کے
مزید پڑھیے


حالات و احوال اور اقبال

اتوار 10 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
نواز شریف کے حوالے سے 92نیوز نے سرخی جمائی کہ پرندہ پرواز کے لئے تیار تو مجھے معاً یعقوب پرواز کا شعر یاد آیا: پرندا آنکھ والا تھا یقینا شکاری ہاتھ ملتا جا رہا ہے ساتھ ہی مجھے مشرف کا زمانہ یاد آیا جب میں نے نواز شریف کے اڑان بھرنے پر ایک کالم لکھا تھا ’’نواز شریف‘‘ اربوں سے عربوں تک‘‘ اور غالب کے مصرع پر گرہ لگائی تھی: یک بیک قید سے یہ تیرا رہا ہو جانا باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے نواز شریف کی بگڑتی ہوئی صحت کا ملال نہیں۔ اللہ انہیں صحت
مزید پڑھیے