BN

قدسیہ ممتاز



عمران خان ۔۔خاموش !!


یہ درست ہے کہ ایک غلط فعل کسی دوسرے غلط فعل کا جواز اور جواب نہیں ہوسکتا۔ یہ بھی درست ہے کہ انسان اپنی زبان سے پہچانا جاتا ہے۔کسی دانا کا یہ قول بھی سر آنکھوں پہ کہ بولو تاکہ پہچانے جائو۔ہم بولے اور پہچانے گئے۔ہم اہل کرانچی البتہ کسی اور مٹی سے بنے ہیں۔ہماری اپنی لفظیات ہیں۔مرشدیوسفی یاد آگئے اور وہ بھولتے ہی کب ہیں۔ اپنے حقیقی یا فرضی دوست بشارت فاروقی کے خسر الحذر کے حوالے سے لکھتے ہیں۔ انہوں نے کراچی کو اور کراچی نے ان کو ایک نگاہ میں مسترد کردیا۔کہتے تھے عجیب شہر ہے جب
هفته 27 اپریل 2019ء

یہ چیخ پکار بلا وجہ نہیں

جمعرات 25 اپریل 2019ء
قدسیہ ممتاز
تحریک انصاف بالخصوص وزیراعظم عمران خان ہر طرف سے نشانے پہ ہیں۔کیا میڈیا میں بیٹھے بزرجمہر اور کیا اپوزیشن میں بیٹھے ارسطو اور بقراط۔ یہ آموختہ جتنی بار دہرایا جائے کم ہے کہ ملک کو اس حال میں پہنچانے والے یہی لوگ ہیں جو آج گلا پھاڑ پھاڑ کر شور مچا رہے ہیں۔ ایسا ورنہ کیا ہوگیا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ کابینہ میں ردو بدل وزیر اعظم کا اختیار ہے جس کا نہ کوئی بھائی پنجاب کا وزیر اعلیٰ ہے نہ بھتیجا پنجاب کی پی اے سی کا چئیرمین بننے کے لئے بلیک میلنگ پہ اتر آیا
مزید پڑھیے


عمران خان کا دورہ ایران اور امکانات

منگل 23 اپریل 2019ء
قدسیہ ممتاز
وزیر اعظم عمران خان اپنی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کے بعد اپنے پیچھے شکست خوردہ ٹولے کی چیخ پکار چھوڑ کر اطمینان سے ایران کے دورے پہ روانہ ہوگئے۔اس طے شدہ دورہ ایران سے، جس کی دعوت انتخابات میں کامیابی کے فورا بعد ایرانی صدر روحانی نے عمران خان کو دی تھی، چند روز قبل ہزار گنجی سبزی منڈی میں ایک بار پھر ہزارہ برادری کے افراد دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ متاثرین کے لواحقین کوئٹہ میں احتجاج میں مصروف تھے اور وہ اس بات کی ضمانت چاہتے تھے کہ آئندہ ان کے ساتھ ایسا کوئی سانحہ
مزید پڑھیے


اسد عمر کو فرار ہوجانا چاہئے

هفته 20 اپریل 2019ء
قدسیہ ممتاز
بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹے یا اپوزیشن کے بھاگوں اسد عمر مستعفی ہوجائے، ہر دو صورت میں ایک سا ماحول بنتا ہے۔ لپکتی غراتی زبان لپلپاتی کھسیانی بلیاں جو اب تک کھمبا نوچنے پہ مجبور تھیں ،پنجے تیز کئے دانت نکوسے چھینکے پہ پل پڑیں اور گھڑی بھر میں اپنی دانست میں میدان مار لیا۔ کوئی ان کھسیانی بلیوں سے صرف دو سوال کیوں نہیں کرتا؟بہت نہیں صرف دو سوال۔ایک۔کیا اسد عمر کو اپنی ناکامی پہ استعفی نہیں دینا چاہئے تھا؟ڈٹے رہنا چاہئے تھا؟بالآخر کرپشن کے الزامات پہ عدلیہ سے نااہل ہوجانا چاہئے تھا؟استعفی سے انکار کردینا چاہئے
مزید پڑھیے


کیونکہ گھر میں کوئی مرد نہیں

جمعرات 18 اپریل 2019ء
قدسیہ ممتاز
گزشتہ دنوں کی غیر حاضری کا سبب خاصا معقول ہے۔گھر کی تبدیلی اور اسباب کی منتقلی کوئی آسان کام نہیں بالخصوص جب آپ کے گھر میں کوئی مرد نہ ہو یعنی سچ مچ کا مرد جو ہنسی خوشی آپ کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پہ اٹھا لے اور اسباب بھی وہیں کہیںرکھ کر مقام مقصود پہ حسب منشا(آپ کی) دھر دے۔ساتھ ہی وہ قلی قسم کا مرد، آپ کی معاشی ذمہ داری تو اٹھائے گا ہی لہذٰا آپ کو یہ فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ یہ بھاری اضافی اخراجات کہاں سے پورے ہونگے۔وہ بظاہر مرد تو
مزید پڑھیے




لائف اسٹائل

هفته 06 اپریل 2019ء
قدسیہ ممتاز
مکہ کے نوجوانوں میں وہ سب سے حسین تھے۔ والدہ خناس بنت مالک کا تعلق مکہ کی اشرافیہ سے تھا۔دولت گھر کی باندی تھی۔پسر خوش جمال کو اس نعم سے پالا کہ دیکھنے والی آنکھیں خیرہ ہوجاتیں۔یہ جوان خوش خصال کہ جس کا ذوق بھی نہایت عمدہ تھا دو دو سو درہم کے لباس دن میں کئی کئی بار تبدیل کیا کرتا۔پیروں میں زریں حضرمی جوتی ہو ا کرتی جو صرف امرا کے لئے مخصوص تھی اور وہ بھی خاص مجلسوں میں پہنی جاتی، وہ روزمرہ پہن کر مکے کی پتھریلی گلیوں میں یونہی خوش وقتی کیا
مزید پڑھیے


تیل کی قیمتیں اور اپوزیشن کی چیخیں

جمعرات 04 اپریل 2019ء
قدسیہ ممتاز
اکیس مارچ کو میں نے ٹوئٹ کی کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے والی ہیں۔حکومت کو پیٹرول کی قیمتیں بڑھانی پڑیں گی۔ عوام کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اچانک اضافے سے ان میں اشتعال پیدا نہ ہو۔اس ٹوئٹ کا نوٹس ٹوئٹر پہ ہر وقت موجود وفاقی وزیر اطلاعات نے لیا یا نہیں لیکن وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ ساتھ ہی مہنگائی بڑھی اور عوام کی چیخیں نکل گئیں ۔ہارے ہوئے جواری کی طرح سر بگریبان بیٹھی اپوزیشن کی جان میں جان آئی اور اس نے
مزید پڑھیے


چھوٹی برائی بڑی برائی اور سندھ کارڈ

منگل 02 اپریل 2019ء
قدسیہ ممتاز
جہاں تک یاد پڑتا ہے سیاست میں دو بڑی پارٹیوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے لئے چھوٹی برائی بڑی برائی کی نیم سیاسی نیم شرعی اصطلاح مرحوم قاضی حسین احمد کی اختراع تھی۔ موصوف کی پرجوش قیادت میں جماعت اسلامی نے حسب توفیق و حالات ، پیش آئیندہ انتخابات میں بڑی برائی یعنی پیپلز پارٹی کو راندہ درگاہ قرار دیا اور خود چھوٹی برائی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے آئی جے آئی کا حصہ بن گئی۔اقتدار کا سدھایا ہوا ہما اسٹیبلشمنٹ کے پالے پوسے نواز شریف کے ہی سر پہ بیٹھنا تھا۔سو وہ بیٹھ کے رہا
مزید پڑھیے


مت سہل ہمیں جانو

هفته 30 مارچ 2019ء
قدسیہ ممتاز
منکہ ایک صحافی ہوں۔میرے صحافی ہونے کا ثبوت مانگنے والے آپ کون؟پھر بھی آپ کی اطلاع اور تشفی کے لئے یہ پریس کارڈ موجود ہے جو میں نے پریس کلب کے چکر کاٹ کاٹ کر اور کچھ چپرقناتیے صحافیوں کو اپنی جیب سے چائے کافی پلا کر اور زیرے والے بس کوٹ ٹھنسا ٹھنسا کر بڑی منتوں سے بنوایا ہے۔ان میں سے ایک شام کو شائع ہونے والے فلمی اخبار کا مدیر ہے۔اس کے نخرے ہی الگ ہیں۔ ایک توکم بخت کے پاس چسکے دار اسکینڈل ہوتے ہیں دوسرے کچھ تیسرے درجے کی اسٹیج اداکارا ئوںمثلا بے قابو ببلی اور
مزید پڑھیے


عمران خان کی رخ بدلتی معاشی پالیسی اور مہاتیر محمد

جمعرات 28 مارچ 2019ء
قدسیہ ممتاز
اگلے دس سالوں میں یعنی سن چھیاسی سے ستانوے تک مہاتیر محمد نے کاروباری پابندیوں کو کم کیا اور سرمایہ کاری میں سہولت کی نئی معاشی پالیسی اختیار کی جس کا ایک قدم 1975 ء کا انڈسٹریل کوآرڈینیشن ایکٹ تھا جو ترمیم کے بعد 1986ء میںنافذ کیا گیا جس سے صنعتوں کو فروغ ملا یہی نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کے حصول اورانہیں سرمایہ کاری میں سہولت اور تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پروموشن آف انویسٹمنٹ ایکٹ لایا گیا جس نے ان صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جو برآمداتی مصنوعات تیار کریں۔اس
مزید پڑھیے