BN

قدسیہ ممتاز


سلامتی کونسل سے سلامتی کونسل تک


بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور پاکستان اوربھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی بھارتی کوشش علیحدہ معاملات ہیں۔ بھارت نے کشمیر سمیت جموں اور لداخ کی قانونی حیثیت یکطرفہ طور پہ تبدیل کرکے عالمی معاہدوں سے انحراف کیا ہے جس پہ چین بھی مشتعل ہے۔ جس دن لوک سبھا میں آرٹیکل 370 اور35 اے کی منسوخی کی قرارداد پیش ہوئی تھی، وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ جب وہ جموں اور کشمیر کی بات کرتے ہیں تو ان کا مطلب ہوتا ہے پاکستان کے
منگل 20  اگست 2019ء

کشمیر اور عالمی ضمیر

هفته 10  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
بھارت کی طرف سے کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد یہ ساری دنیا، جسے عالمی برادری کے پرفریب نام سے یاد کیا جاتا ہے، کی ذمہ داری تھی کہ وہ دنیا میں ایک اور فلسطین نہ بننے دیتی۔ایسا لیکن نہیں ہوا۔ ایسا ہوگا بھی نہیں۔دنیا کو اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کررہا ہے۔مقبوضہ وادی عملاً ایک مفتوحہ علاقہ بن چکی ہے۔ کرفیو اور ابلاغ کے تمام ذرائع بشمول انٹرنیٹ ، بند ہونے کے باعث کسی کو علم نہیں کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔ میں نے کوشش
مزید پڑھیے


اپوزیشن کا افسوسناک رویہ

جمعرات 08  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
کشمیر کے یک نکاتی ایجنڈے پہ پارلیمنٹ کا دوسرا مشترکہ اجلاس براہ راست دیکھتے ہوئے میں اس سوچ میں ہوں کہ کیا پارلیمنٹ میں بیٹھے حزب اختلاف کے قانون سازوں کو حالات کی سنگینی کا احساس بھی ہے؟ اپوزیشن کا رویہ تکلیف دہ حد تک خود غرضانہ اور بے رحمانہ ہے۔ اسے یہ احساس تو ہوگا کہ اس وقت بھارتی میڈیا پاکستانی پارلیمنٹ میں کہے جانے والے ایک ایک لفظ کو نہ صرف مانیٹر کررہا ہے بلکہ اس میں سے حسب خواہش مواد نکال کر ساری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹنے کی تیاری کررہا ہے۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان
مزید پڑھیے


کشمیر اور فلسطین۔ ایک ہی کہانی

منگل 06  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
دو روز قبل بھارت سے کانگریس کے سابق ایم پی اور میرے بہنوئی کی کال موصول ہوئی۔وہ واضح الفاظ میں خبر دے رہے تھے کہ بھارتی لوک سبھا میں کشمیر کی تقسیم اور جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت برقرار رکھنے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کی تیاری ہوچکی ہے مودی سرکار حسب سابق اس صدارتی بل کو تین ریاستوں ہریانہ،اڑیسہ اور مہاراشٹرا میں آنے والے انتخابات میں ووٹ لینے کے لئے کشمیر کارڈ کے طور پہ استعمال کرے گی۔ گزشتہ ایک ہفتے سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھیانک کریک ڈاون
مزید پڑھیے


عمران خان جیسی اخلاقی جرات

هفته 03  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
سینیٹ چئیر مین صادق سنجرانی کے خلاف حزب اختلاف کی قرارداد عدم اعتماد ناکام ہوئی۔ اس بڑی کارروائی سے قبل جو ماحول اپوزیشن کی طرف سے بنا یا گیا تھا اس میں حکومت بیک فٹ پہ نظر آرہی تھی۔ سینیٹر شبلی فراز کے مولانا فضل الرحمن سے ملنے پہ تحریک انصاف کے کارکنوں میں شدید بے چینی پائی گئی اور انہوں نے سوشل میڈیا پہ برملااپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ ایک اصولی موقف تھا جو پوری قوت کے ساتھ تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے سامنے آیا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان نے اپنے ووٹر
مزید پڑھیے



کسی نے تو سمجھا

جمعرات 01  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اپنے چنگاریاں اڑاتے پیش رو کی نسبت دھیمے مزاج کے شخص ہیں۔ انہیں نہ دوران خطاب مائک الٹنے آتے ہیں نہ جا بے جا ترنم اور تحت اللفظ میں اپنے ہی دور حکومت میں جالب کی میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا کی گردان کرنی آتی ہے۔برستی بارش میں لانگ بوٹ اور سولا ہیٹ پہن کر افسران کو بیک جنبش انگشت معطل کرنے کی روایت سے بھی موصوف واقف نہیں۔میڈیا کے شور شرابے اور اسے اپنے ساتھ مشغول رکھنے کے فن سے ناواقف وزیر اعلی عثمان بزدار خاموشی سے صوبے میں انقلابی اقدامات میں
مزید پڑھیے


و لکم فی القصاص حیاۃ

منگل 30 جولائی 2019ء
قدسیہ ممتاز
امریکی محکمہ انصاف نے تقریباً سولہ سال بعد سزائے موت بحال کردی ہے اور پانچ قیدیوں کے لئے سزائے موت کی تاریخ کا اعلان بھی کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مامور کردہ امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار کے مطابق سزائے موت کے قانون کی سولہ سال بعد بحالی صدر ٹرمپ کے خصوصی حکم پہ کی گئی ہے جس میں انہوں نے پرتشدداور غیر انسانی جرائم جیسے قتل، اغوا، آبروریزی کے مرتکبین کو سزائے موت کا حق دار قرار دیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کی بیس ریاستوں کے علاوہ باقی ریاستوں میں سزائے موت کا قانون موجود تھا تاہم
مزید پڑھیے


تم غلط تھے

هفته 27 جولائی 2019ء
قدسیہ ممتاز
جس وقت صدر ٹرمپ وزیر اعظم عمران خان سے تاریخی ملاقات میں اس امید کا اظہار کررہے تھے کہ پاکستان افغانستان میں لاکھوں جانیں بچانے کا سبب بن سکتا ہے، عین اسی وقت طالبان پکتیا میں ایک اہم فوجی چوکی کی فتح کا جشن منا رہے تھے۔ اس حملے میں اسلحے کی بڑی مقدار طالبان کے قبضے میں آگئی تھی۔ بچے کچھے فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے ۔ چھ افغان فوجی مارے گئے تھے جبکہ طالبان کے جانی نقصان کا اسکور صرف ایک تھا۔ ظاہر ہے یہ اپنی نوعیت کا اکلوتا حملہ نہیں تھا۔ اسی دن طالبان
مزید پڑھیے


وزیراعظم کا دورہ امریکہ

جمعرات 25 جولائی 2019ء
قدسیہ ممتاز
آپ عمران خان کے مخالف ہوں یا حامی بحیثیت پاکستانی اپنے وزیر اعظم کی وائٹ ہائوس میں پرتپاک پذیرائی اور عزت افزائی پہ آپ کو دلی مسرت ہونی چاہئے۔بالکل اسی طرح،جیسا کہ ماضی میں ہمارے حکمرانوںکے ساتھ امریکی سربراہوں کا ذلت آمیز سلوک دیکھ کر تکلیف ہوا کرتی تھی۔کسی بھی غیر ملکی دورے پہ موجود ملک کے سربراہ کی حیثیت کسی پارٹی صدر یا سیاسی مخالف کی نہیں بلکہ عالمی محاذ پہ ہمارے جنگی سفیر کی سی ہوا کرتی ہے چاہے ہمارا اس سے شدید سیاسی اختلاف کیوں نہ ہو۔ مجھے نواز شریف کا جھکا ہوا سر اور اوباما
مزید پڑھیے


ایاک نعبدوایاک نستعین

منگل 23 جولائی 2019ء
قدسیہ ممتاز
میری شعوری یادداشت میں ایسا کوئی دوسرا منظر محفوظ نہیں جب پاکستان کا کوئی سربراہ مملکت امریکہ میں ہم وطنوں سے خطاب کرنے جارہا ہو اور پاکستان میں نصف شب کے بعد بھی اس کا بے تابی سے انتظار کیا جائے۔میری شعوری یادداشت میں ایسا کوئی منظر بھی محفوظ نہیں جب واشنگٹن لاہور بن گیا ہواور ہزاروں تارکین وطن اپنے لیڈر کو سننے کے لئے گھنٹوں گرمی میں اس کے منتظر ہوں۔میری شعوری یادداشت میں ایسا کوئی لمحہ بھی محفوظ نہیںجب واشنگٹن میں پاکستان کے کسی سربراہ نے ہزاروں پاکستانیوں کے جوش اور ولولے سے ابلتے ہوئے مجمع کو اس
مزید پڑھیے