BN

قدسیہ ممتاز



زود پشیماں کی پشیمانی


کچھ دل ہی جانتا ہے کہ بعد از خرابی بسیار محبوبہ مفتی کو دو قومی نظریہ یاد آیا تو اس پہ کیا گزری۔کچھ اس قدرگراں،کہ مجھے ان کے بیان کے اس حصے سے قانونی اور اصولی اختلاف بھی بھول گیا،جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ تقسیم کے وقت پاکستان کی بجائے بھارت کے ساتھ الحاق کشمیر کی غلطی تھی۔اس پہ بحث ہوتی رہے گی کہ کیا واقعی کشمیر نے بھارت کے ساتھ الحاق کرلیا تھا؟کب اور کیسے یہ واقعہ رونما ہوا ؟ تاریخ اس پہ خاموش کیوں ہے؟آزادانہ استصواب رائے کب منعقد ہوا اور پاکستان نے کشمیر سے اپنا
منگل 03  ستمبر 2019ء

عمران خان نے ابھی بس شروع ہی کیا ہے

اتوار 01  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
اصل بات وہی ہے جو وزیر اعظم عمران خان اپنے خطاب میں کہہ گئے ہیں۔یعنی یہی کہ کشمیریوں پہ ٹوٹ پڑنے والی قیامت پہ اگر عالمی ضمیر خاموش ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔یہ بات کہنے کے لئے جو ہمت اور حوصلہ درکار ہے اس سے عمران خان پوری طرح متصف ہیں۔وہ حوصلہ جو ایک مسجد کے خطیب کے پاس وافر ہوتاہے ، ایک اسلامی جماعت کے امیر کے قلب میں ہمہ وقت موجزن رہتا ہے اور ایک اپوزیشن لیڈر کے پاس بھی اس کی کوئی کمی نہیں ہوتی لیکن اسلامی جمہوریہ
مزید پڑھیے


دو اہم کامیابیاں

جمعرات 29  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
بات دو ٹوک اور سیدھی ہے۔بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا اور مقبوضہ کشمیر میں فیصلہ کن لشکر کشی درحقیقت پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ کشمیر پہ یکطرفہ بھارتی قبضہ ہے۔ اسے کچھ اور سمجھنا نرم ترین الفاظ میں حماقت ہے۔بھارت اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف وزری کرکے دو اہداف حاصل کررہا ہے۔ ایک اصل کارروائی یعنی مقبوضہ کشمیر پہ بھارتکے آئینی قبضے سے دنیا کی توجہ ہٹانا۔دوم۔ مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی ایسی نسل کشی جس سے علاقے کی ڈیمو گرافی تبدیل ہو سکے
مزید پڑھیے


کشمیر میں امریکی مداخلت کی تاریخ

منگل 27  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
اسی پس منظر میں ،جب بقول مصنف امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ پوری طرح مسئلہ کشمیر میں ملوث ہوچکا تھا ، سلامتی کونسل نے ازخود اجلاس طلب کرلیا تھا اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا اہلکار فرینک کولنز دہلی میں موجود تھا،ہارورڈ مئیرز نے اقوام متحدہ میں پولیٹیکل اینڈسکیورٹی افئیرز کے ڈائیریکٹرکو 3 جنوری 1951 ء کو ایک خفیہ مکتوب لکھا۔جس کا عنوان تھا مسئلہ کشمیر: ممکنہ امریکی اور برطانوی لائحہ عمل۔جس میں اس نے لکھا کہ میں نے فرینک کولنز کے ساتھ مسئلہ کشمیر پہ بات کی کہ اگر پاکستا ن کے وزیر اعظم لیاقت علی خان دولت مشترکہ کے
مزید پڑھیے


کشمیر میں امریکی مداخلت کی تاریخ

هفته 24  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کی کشمیر پہ ثالثی کی پیشکش غیر متوقع نہیں تھی۔افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے پس منظر میںیہ ثالثی بالکل فطری نظر آتی تھی۔بعد میں امریکی وزارت خارجہ اور صدر ٹرمپ کی حمایت نے اس تاثر کو مضبوط بھی کیا کہ امریکہ طالبا ن کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی تک پاکستان کو اپنی حمایت سے مایوس نہیں کرنا چاہتا۔امر واقع لیکن یہ ہے کہ اپنی ابتدا سے ہی جموں اور کشمیر میں امریکی مداخلت ایک تلخ حقیقت رہی ہے۔پاکستان اور بھارت چونکہ
مزید پڑھیے




ہمیں کچھ اور کرنا ہوگا

جمعرات 22  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
اس میں شک نہیں کہ ماضی کی حکومتوں کے برعکس عمران خان نے کشمیر کو عالمی اسٹیج کے مرکز پہ پہنچا دیا ہے۔ بھارت کے حالیہ غیر آئینی اقدام کے بعد ماضی میں ہمارے حکمرانوں کی مسئلہ کشمیر سے مجرمانہ چشم پوشی کی روایت سے کچھ بعید نہیں تھا کہ دو چار مذمتی بیانات کے بعد وہی خاموشی چھا جاتی جوعشروں پہ محیط ہے۔یہ عمران خان کا بہت بڑا کریڈٹ ہے کہ انہوںنے برسوں بعد مسئلہ کشمیر کو اس طرح زندہ کیا ہے کہ اب اسے دبانا بھارت کے لئے مشکل ہوگیا ہے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ
مزید پڑھیے


سلامتی کونسل سے سلامتی کونسل تک

منگل 20  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور پاکستان اوربھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی بھارتی کوشش علیحدہ معاملات ہیں۔ بھارت نے کشمیر سمیت جموں اور لداخ کی قانونی حیثیت یکطرفہ طور پہ تبدیل کرکے عالمی معاہدوں سے انحراف کیا ہے جس پہ چین بھی مشتعل ہے۔ جس دن لوک سبھا میں آرٹیکل 370 اور35 اے کی منسوخی کی قرارداد پیش ہوئی تھی، وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ جب وہ جموں اور کشمیر کی بات کرتے ہیں تو ان کا مطلب ہوتا ہے پاکستان کے
مزید پڑھیے


کشمیر اور عالمی ضمیر

هفته 10  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
بھارت کی طرف سے کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد یہ ساری دنیا، جسے عالمی برادری کے پرفریب نام سے یاد کیا جاتا ہے، کی ذمہ داری تھی کہ وہ دنیا میں ایک اور فلسطین نہ بننے دیتی۔ایسا لیکن نہیں ہوا۔ ایسا ہوگا بھی نہیں۔دنیا کو اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کررہا ہے۔مقبوضہ وادی عملاً ایک مفتوحہ علاقہ بن چکی ہے۔ کرفیو اور ابلاغ کے تمام ذرائع بشمول انٹرنیٹ ، بند ہونے کے باعث کسی کو علم نہیں کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔ میں نے کوشش
مزید پڑھیے


اپوزیشن کا افسوسناک رویہ

جمعرات 08  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
کشمیر کے یک نکاتی ایجنڈے پہ پارلیمنٹ کا دوسرا مشترکہ اجلاس براہ راست دیکھتے ہوئے میں اس سوچ میں ہوں کہ کیا پارلیمنٹ میں بیٹھے حزب اختلاف کے قانون سازوں کو حالات کی سنگینی کا احساس بھی ہے؟ اپوزیشن کا رویہ تکلیف دہ حد تک خود غرضانہ اور بے رحمانہ ہے۔ اسے یہ احساس تو ہوگا کہ اس وقت بھارتی میڈیا پاکستانی پارلیمنٹ میں کہے جانے والے ایک ایک لفظ کو نہ صرف مانیٹر کررہا ہے بلکہ اس میں سے حسب خواہش مواد نکال کر ساری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹنے کی تیاری کررہا ہے۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان
مزید پڑھیے


کشمیر اور فلسطین۔ ایک ہی کہانی

منگل 06  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
دو روز قبل بھارت سے کانگریس کے سابق ایم پی اور میرے بہنوئی کی کال موصول ہوئی۔وہ واضح الفاظ میں خبر دے رہے تھے کہ بھارتی لوک سبھا میں کشمیر کی تقسیم اور جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت برقرار رکھنے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کی تیاری ہوچکی ہے مودی سرکار حسب سابق اس صدارتی بل کو تین ریاستوں ہریانہ،اڑیسہ اور مہاراشٹرا میں آنے والے انتخابات میں ووٹ لینے کے لئے کشمیر کارڈ کے طور پہ استعمال کرے گی۔ گزشتہ ایک ہفتے سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھیانک کریک ڈاون
مزید پڑھیے