ہارون الرشید


چیلنج


ہر مشکل کا مقابلہ کیا جا سکتاہے اور ہر چیلنج کا سامنا۔ پروردگار کا فرمان یہ ہے کہ کسی پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔ ایسا لگتاہے وزیرِ اعظم مخمصے کا شکار ہیں۔ سرما کے بعد بہار کا پورا موسم بیت گیا۔ سورج اب آگ برسا رہا ہے۔ محسوس یہ ہوتاہے کہ ابھی تک کرونا کے خلاف کوئی جامع حکمتِ عملی تشکیل نہیں دی جا سکی۔ ایک طرف تو وزیرِ اعظم کا کہنا یہ ہے کہ وائرس کے پھیلتے چلے جانے کا خدشہ ہے۔ قوم خطرے میں ہے۔ بجا طورپر نشاندہی کی کہ اکثریت حفاظتی تدابیر
بدھ 03 جون 2020ء

مقامی ہیرو؟

منگل 02 جون 2020ء
ہارون الرشید
کوئی کہیں کا مکین ہو، کسی بھی زمانے اور کسی بھی قوم کا فرزند،بلند عزمی اور اخلاقی عظمت کے ساتھ جرأت و شجاعت آدمؑ کے ہر فرزند کے لیے مشعل ہے۔ بدنصیب ہیں جو ادراک نہ کر سکیں۔ مرنے والوں کی جبیں روشن ہے ان ظلمات میں جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں نفیسہ شاہ کے بعد فواد چودھری کی رگِ حمیت پھڑکی ہے۔ ترک ڈرامے نشر کرنے پرانہیں اعتراض ہے۔ برسوں سے یہ ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں۔ تب کسی کو اختلاف نہ تھا۔ ارطغرل کی خیرہ کن کامیابی نے کرب میں مبتلا کر دیا۔ نفیسہ
مزید پڑھیے


احساسِ زیاں

جمعرات 28 مئی 2020ء
ہارون الرشید
اس معاشرے کا کیا ہوگا، جس میں اتنے بہت سے مفکر پیدا ہو گئے اور سارا وقت وہ واویلا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ زیاں تو ہوا ہی کرتا ہے، اگر احساسِ زیاں ہی جاتا رہے؟ چینی کا رونا تو تھا ہی، گندم کا اتنا بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے کہ خدا کی پناہ۔ چالیس لاکھ ٹن گیہوں خریدنے کے بعد عبدالعلیم خان وزیرِ اعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جو کچھ بتایا، وہ حیران کن ہے۔ گندم کی خریداری اور تقسیم میں پی آئی اے، ریلوے اور سٹیل مل سے بھی زیادہ خسارہ ہے۔ 1400روپے فی چالیس کلو کے حساب
مزید پڑھیے


بارِ امانت

بدھ 27 مئی 2020ء
ہارون الرشید
عمر بھر چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا رہنے والا آدمی پوری زندگی پہ کیوں غور نہیں کرتا۔ آخر کیوں نہیں؟ علم کیا ہے اور عقل کیا؟ قرآنِ کریم میں ہے کہ آدمی کو علم دیا گیا مگر محدود سا ’’اور یہ لوگ تجھ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دو روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں جو علم دیا گیا، وہ بہت ہی تھوڑا ہے۔‘‘ بنی اسرائیل 85۔علم تھوڑا ہے تو ماننا پڑے گا کہ عقل محدود ہے۔ علم اور عقل کے فرق کو سمجھنا چاہئیے۔ علم کسی چیز کو جا ن لینے کا
مزید پڑھیے


قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیدا ہو

جمعه 22 مئی 2020ء
ہارون الرشید
ڈرامہ تو محض ایک علامت ہے۔ ابھی بہت کچھ رونما ہونا ہے۔ بہت سے خیرہ کن واقعات۔ فروغِ اسمِ محمدؐ ہو بستیوں میں منیرؔ قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیدا ہو ترک ڈرامہ اب محض ایک ڈرامہ نہیں بلکہ پاکستانی تاریخ کا ایک سنگِ میل ہے۔ ممتاز تمثیل نگار خلیل الرحمٰن قمر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسی ہی ایک شاندار داستان فلمانے کی کوشش کریں گے۔ اللہ انہیں توفیق ارزاں کرے۔ اپنے جلال کو وہ کچھ دن تھامے رکھیں۔پاکستانی قوم کے مزاج اور نفسیات پر اس واقعے نے گہرے اثرات مرتب کیے اور یہ باقی رہیں گے۔ کچھ اختلافی
مزید پڑھیے



لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے

جمعرات 21 مئی 2020ء
ہارون الرشید
بھارت کو جب تک اس کی زبان میں جواب نہیں ملے گا، پاکستان میں امن اور قرار ممکن نہیں۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ بلوچستان میں دہشت گردی پھر سے پھوٹ پڑی ہے۔ یہی نہیں، قبائلی علاقے اور سوات بھی اب ہدف ہیں۔ آئی جی پختون خوا کے مطابق گرفتار دہشت گردوں نے ایک منصوبے کی تفصیلات بیان کی ہیں، جس کا ہدف وادی ء جنت نظیر کو پھر سے جہنم میں تبدیل کرنا ہے۔بھتے کے لیے،پشاور میں دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، افغانستان کے نمبروں سے۔ افغانستان میں محدود ہوتے بھارتی کردار نے دلّی
مزید پڑھیے


وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

بدھ 20 مئی 2020ء
ہارون الرشید
کتاب میں لکھا ہے: بحر و بر فساد سے بھر گئے اور یہ انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور نہ اپوزیشن۔ افسوس کہ کوئی ایک بھی ایسا نہیں،جس پہ بھروسہ کیا جا سکے۔ امید جس سے باندھی جا سکے۔ ع وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ بالکل ہی غیر متوقع ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کا فیصلہ حیران کن ہرگز نہیں۔ خلا کبھی باقی نہیں رہتا۔ ایک ادارہ فرائض انجام نہ دے تو دوسراآتا ہے۔ سیاسی پارٹیاں سرپھٹول پر تلی ہوں تو فوج آگے بڑھتی
مزید پڑھیے


ابتلا

منگل 19 مئی 2020ء
ہارون الرشید
یہ قدرت کا قانون ہے اور اٹل۔ اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے: اللہ کے قانون کو تم کبھی بدلتا ہوا نہ پاؤ گے۔ ایسے میں کبھی کبھی وہ ڈاکٹر یاد آتا ہے۔ ربع صدی ہوتی ہے، گلا خراب ہوا اور ایسا خراب کہ بخار نے آن لیا۔ میلوڈی مارکیٹ میں واقع ایک اخباری دفتر میں موجود تھا۔ یکایک احساس ہوا کہ بخار بڑھتا جا رہا ہے۔ لپک کر ایک قریبی ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ بات اسے بتائی۔ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا: گلا اگر سگریٹ نوشی سے خراب ہوا ہے تو آپ اب کیا کریں گے۔ مراد ان
مزید پڑھیے


کرپشن

جمعرات 14 مئی 2020ء
ہارون الرشید

عمران خان کرپشن کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ شریفوں اور زرداریوں کا احتساب تو وہ چاہتے ہیں، اپنے خسروبختیاروں، ظفر مرزوں اور مجید خانوں کا نہیں۔ مجید خان کی کہانی پھر کبھی۔ نصف صدی ہوتی ہے، ایک امریکی فلسفی سے پوچھا گیا کہ امریکہ کے اخلاقی مسائل کا حل کیا ہے۔ جواب یہ تھا: بحر اوقیانوس میں غرق کر دیا جائے۔ صحت مند معاشرے بھی دنیا میں ہوتے ہیں اور بیمار بھی۔ ایسے زمانے بھی گزرے ہیں کہ جن کی یاد سے جی لہلہا اٹھتا ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کوئی معاشرہ بیمار کیوں ہوا اور
مزید پڑھیے


آنے والا کل

بدھ 13 مئی 2020ء
ہارون الرشید
آنے والے کل میں پاکستان کے لیے کیا لکھا ہے، یہ ابھی پردہ ء غیب میں ہے اور غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ سیاست میں عمران خان کرپشن کے خاتمہ کا عزم لے کر نہیں آئے تھے۔یہ ان کا اوّلین ہدف نہیں تھا۔ پارٹی بنانے سے کئی برس پہلے ایک ذاتی دوست نے جب انہیں سیاست میں آنے کا مشورہ دیا تو جواب یہ تھا: اگر آگیا تو سب گیدڑوں کو بھگا دوں گا۔ بہت سے دوسرے لوگوں کا خیال بھی یہی تھا کہ عمران خاں جنگل کا شیر ثابت ہوں گے اورشغالِ نیم شب سے ملک
مزید پڑھیے