BN

ہارون الرشید



اب اخلاق اور اصولوں کا ماتم کیوں؟


کس دھڑلے سے کل زرداری صاحب نے فرمایا تھا :کسی کے نام پہ جعلی کھاتہ اگر میں نے کھولا ہے تو وہی بے خبر ذمہ دار ہے ‘میں نہیں ۔ اب اخلاق اور اصولوں کا رونا کیا ۔ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک ناکام ہوئی مگر کس طرح ؟ کوئی دن میں بات کھلے گی ۔ کسی پارٹی نے سودے بازی کی یا معاملات انفرادی طور پر طے پائے ۔ بدھ کی صبح تک حکومت پوری طرح پر امید نہیں تھی ۔ سنجرانی صاحب مایوس تھے اور مستعفی ہونے پر آمادہ ۔ ان سے کہا گیا کہ انتظار
هفته 03  اگست 2019ء

کشمیر کا مقدمہ کون لڑے گا؟

جمعرات 01  اگست 2019ء
ہارون الرشید
سات لاکھ بھارتی فوج کے حصار میں گھرے کشمیریوں نے قربانیوں کی بے مثال تاریخ رقم کی ہے ۔بے شک ان کا مقدمہ بہت مضبوط ہے مگر یہ کون لڑے گا؟ اس قوم پہ اللہ رحم کرے ، جو خود کو لیڈروں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دے ‘ جو تاریخ کے چوراہے پر پڑی سوتی رہے ۔ دس ہزار تازہ دم فوج نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں لا ڈالی ہے ۔ وادی میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہے ۔ گورنر راج تلے سسکتے علاقے میں ریلوے نے سرکلر جاری کیا ہے کہ چار
مزید پڑھیے


وقت کسی سے رعایت نہیں کرتا

جمعه 26 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
رعایت نہیں کرتا،وقت کسی سے رعایت نہیں کرتا۔قدرت کے قوانین اٹل ہیں،اٹل ،دائمی اور ابدی۔فرمایا:اللہ کے طریق کو تم کبھی بدلتا نہ دیکھو گے۔ گو شد و مد سے بھارتیوں نے تردید کر دی ہے ،امریکی صدر کو اصرار ہے کہ مودی نے ان سے کشمیر میں مصالحت کاری اور ثالثی کی درخواست کی تھی ۔بدھ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف اکنامک ایڈوائزر نے بھارتی پرپیگنڈے کی قلع کھول دی ہے۔انہوں نے کہا ،صدر نے اپنی طرف سے بات نہیں گھڑی۔یہ سوال پوچھنا کہ کیا ایساہوا تھا یا نہیں ،بجائے خود ایک طرح کا گنوار پن ہے۔زیادہ اصرار کیا
مزید پڑھیے


صورتِ حالات

جمعرات 25 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
ہمیشہ عرض کیا کہ سیاست میں سب سے زیادہ اہمیت لیڈروں اور گروہوں کی نہیں ، ابھرتی ہوئی صورتِ حالات کی ہوتی ہے ۔ قرائن یہ ہیں کہ صورتِ حالات اب پاکستان کے حق میں ہے ، عمران خان کے لیے سازگار ہے ۔ کم از کم وقتی طور پراس کا عَلم بلند ہے ۔ ملک کے اندر اور باہر بھی ۔کم از کم فی الحال اپنے حریفوں کو زچ کرنے میں وہ کامیاب ہے ۔میاں محمد نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کی ترجیح اور تمنا یہ تھی کہ اسے اکھاڑ پھینکا جائے ۔کم از کم کمزور
مزید پڑھیے


آزادی

منگل 23 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
آزادی مگر قانون کی بالاتری بھی ، آزادی مگر ریاست کی تقدیس بھی ، آزادی مگر ڈسپلن ، قومی مفادات اور بے چارگانِ خاک کی حفاظت بھی۔ اگر یہ نہیں تو پھر یہ انارکی کا سفر ہے ، خودشکنی اور خود اپنی تباہی کا سامان ۔ عقل و علم کی جو امانت آدمی کو بخشی گئی ،غلام اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ۔ تین صدیوں سے روسو کا جملہ دہرایا جاتاہے ۔ انسان آزاد پیدا ہوا تھا لیکن ہر کہیں زنجیروں میں جکڑا ہے ۔ 1400برس سے اہلِ ایمان عمر فاروقِ اعظمؓ کا قول سنتے اور سناتے آئے
مزید پڑھیے




ترجیحات

اتوار 21 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
فقط ایک لیڈر نہیں ، محض ایک پارٹی بھی نہیں ، ادبار سے نجات کے لیے پوری قوم کو بروئے کار آنا ہوتا ہے ۔ ہر شعبہ ء حیات کو ۔فقط بحث و تمحیص، چیخ و پکار اور گریہ و فریاد سے زندگی نہیں سنورتی ، ادبار نہیں ٹلتا ۔انسانوں کے لیے وہی کچھ ہے ، جس کے لیے وہ ریاضت کریں ، جس کے لیے وہ سرگرمِ عمل رہیں ۔ کیا عمران خان تعمیرِنو کا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں ؟ کیا وہ اس معاشرے کو دلدل سے نکال سکتے ہیں ، جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا
مزید پڑھیے


سردار

هفته 20 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
’’سردار‘‘۔۔۔ فارسی کا یہ لفظ کیسے گہرے معانی کا حامل ہے : وہ آدمی جو سر رکھتاہے ۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جسے عطا ہو ئی ہو ۔ دور اندیشی جس میں پائی جاتی ہے ، جو آنے والے کل کو ملحوظ رکھّے ۔ فرمایا: کلکم راع و کلکم مسئول ۔ تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر شخص جواب دہ ۔ رات گئے لوٹ کر آئے تو مرکزی دروازے پر لکھا تھا "ہم بنیاد رکھنے والے ہیں ، ہم اس بستی کے مالک ہیں ۔‘‘ چند دن ہوتے ہیں ، ہائوسنگ سوسائٹی کے انتخابات ہوئے ۔جیسا
مزید پڑھیے


عافیت

جمعه 19 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
امن بھیک میں نہیں ملتا ۔ یہ طاقت ، خوف کا توازن اور تحمل و تدبیر چاہتا ہے ۔ افسوس کہ اپنے بحران کا ابھی ہمیں ادراک ہی نہیں ۔ ابھی تو سوچ بچار پر بھی ہم آمادہ نہیں ۔ نوا ز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں اٹل بہاری واجپائی پاکستان آئے تو مینارِ پاکستان بھی پہنچے ۔ اپنے یادگار خطاب میں بھارت کی سیاسی قوتوں کا انہوں نے ذکر کیا ،پاکستان کو تسلیم کرنے کے جو حق میں نہ تھیں ۔ ان کاکہنا یہ تھا کہ واجپائی پاکستان کے وجود کو جواز کیوں بخش رہے ہیں ۔ معترضین
مزید پڑھیے


بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا

جمعرات 18 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
پاکستان کو تنہا کرنے والا بھارت افغانستان میں تنہا رہ گیا ۔مواقع ایک بار پھر ارزاں ہیں لیکن جیسا کہ سرکارؐ نے فرمایا تھا : زندگی ایسی ایک سواری ہے کہ آدمی اس پر سوار نہ ہو تو آدمی پر وہ سوار ہو جاتی ہے ۔ مثبت اور سائنسی اندازِ فکر، پہل کاری ، قوانینِ قدرت کا ادراک، ریاضت اور یکسوئی ۔ قائداعظم نے کہا تھا: ایمان، اتحاد اور تنظیم! عامر خاکوانی نے پاکستانیوں کو کاغذ کی قوم کہا ۔ عمل پسندی سے محروم ، کاغذ کالے کرنے اور باتیں بنانے والی ۔ جی ہاں ، جذباتی مگر بنیادی خرابی شاید
مزید پڑھیے


گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر

اتوار 14 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
جج صاحب کا کیا ہو گا؟ محترمہ مریم نواز ان کے یمین و یسارکا کیا ہو گا؟ گرداب میں کشتی خال ہی بچتی ہے۔ بھنور میں بادشاہ کم ہی بچتے ہیں۔ گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر بھنور ہے تقدیر کا بہانہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کا بیان‘7دسمبر 1970ء کے اخبارات میں چھپا :کسی طرح یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جماعت اسلامی الیکشن ہار سکتی ہے۔سید صاحب کا اندازہ یکسر غلط نکلا۔ ادھر بنگالی قومی پرستی کا ادھر بھٹو کاجادو سر چڑھ کے بولا۔ گل فشاں وعدے ۔مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن نے سب کا صفایا کر دیا۔
مزید پڑھیے