BN

ہارون الرشید



شہ مات


غیر ملکی دشمنوں پر پاکستان اور افغانستان نے فتح پا لی ہے۔ اب امتحان یہ ہے کہ اپنے اندر وہ آہنگ پیدا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی آخری کتاب میں یہ لکھا ہے: تمہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔صداقت ہی نہیں مومن صبر و حکمت سے بھی سرفراز ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک فرمان الٰہی ہے۔ افغانستان میں امریکہ کو مات نہیں ہوئی، شہ مات ہے یہ شہ مات۔ صرف امریکہ نہیں، یہ بھارت کی شکست ہے۔ ان دہشت گرد گروہوں کی بھی جو ملّا عمر کے نام پر پاکستان میں قتلِ عام کا کھیل کھیلتے رہے۔
پیر 02 مارچ 2020ء

تم انتظار کرو ، ہم بھی انتظار کرتے ہیں

جمعه 28 فروری 2020ء
ہارون الرشید
جو نہیں مانتے ، وہ نہ مانیں ۔جب کوئی فیصلہ آسمانوں پر صادر ہو چکے تو زمین پر اسے نافذ ہونا ہوتا ہے ۔ کچھ قرائن سے اندازہ لگاتے ہیں اور کچھ واقعات رونما ہونے کے بعد تسلیم کیا کرتے ہیں ۔ اللہ کے آخری پیغمبرؐ کے نام پروردگار کا پیغام یہ تھا : اپنے حریفوں سے کہو: تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔ دوقومی نظریہ اور قائدِ اعظمؒ سچے ہو گئے ۔شیرِ کشمیر شیخ عبد اللہ کی اولاد سمیت اچانک بہت سے لوگوں کو احساس ہوا کہ قیامِ پاکستان پر امت کا اجماع بالکل درست تھا
مزید پڑھیے


چراغ بجھ گیا ہے!

جمعرات 27 فروری 2020ء
ہارون الرشید
چراغ بجھ گیا ہے ، بولتا ہواچمن خاموش ہو گیا۔ سیاست میں نجابت و شرافت کا آخری پیکر مٹی اوڑھ کر سو چکا ہاں مگر ایسے لوگ مرتے نہیں بلکہ امر ہو جاتے ہیں ۔ بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور دور تک پھیلے گیہوں کے سبز کھیتوں کے درمیان پھولتی سرسوں کا نظارہ مبہوت کرتا ہے لیکن نعمت اللہ خاں کی وفات ۔ ایک غم ہے جو جی میں بیٹھ گیا ہے ۔ یہاں سے وہاں تک درد کی چادر تنی ہے ۔سرما کے سیاہ بادل کی طرح ، جو ٹلنے کا نام نہ لے ۔
مزید پڑھیے


خود اپنے جال میں

بدھ 26 فروری 2020ء
ہارون الرشید
ہم اندازے ہی لگا سکتے ہیں۔ غیب تو بس اللہ ہی جانتا ہے۔ مکّرر عرض ہے کہ بھارت کو دلدل میں دھنسا کر قدرتِ کاملہ نے ایک سنہری تاریخی موقع ہمیں عطا کیا ہے۔ ہمیں اپنا گھر سنبھالنا چاہئیے ۔ دشمن خود اپنے جال میں پھنستا چلا جا رہا ہے ۔ کیسا چونکا دینے والا واقعہ ہے۔ توجیہہ یہ ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت آپڑی ہے ۔ افغانستان سے انخلا کے لیے صدر ٹرمپ بے چین ہیں ۔انہیں الیکشن جیتنا ہے، معیشت کو فروغ دینا ہے۔ افغانستان میں 80، 90بلین ڈالر سالانہ کی بچت ممکن ہے۔ طالبان سے
مزید پڑھیے


چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر

منگل 25 فروری 2020ء
ہارون الرشید
اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے : کسی قوم کوہم اس وقت پکڑتے ہیں جب اپنی معیشت پہ اسے ناز ہو جاتا ہے ۔اور میر ؔ صاحب نے یہ کہا تھا چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ مدتوں بعدپہلی بار بھارت امریکی گٹھ جوڑ کے ہنگام پاکستانی قیادت گھبراہٹ کا شکار نہیں ۔ بھارت اور امریکہ تزویراتی (strategic)حلیف ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں مقیم بھارتی ہندوئوں کے ووٹ چاہتے ہیں ۔ وہ کہہ چکے ، میں ہندو سے محبت کرتا ہوں ۔پاکستان اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے رہے ۔صرف
مزید پڑھیے




جستجو

بدھ 19 فروری 2020ء
ہارون الرشید
مگر اللہ کا فرمان تو یہ ہے: انسانوں کے لیے، اس کے سوا کچھ بھی نہیں، جس کی انہوں نے جستجو کی۔ اب جو امام یاد آئے تو یاد آتے چلے گئے، امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ۔ آپ کا ایک قول یاد آیا اور جی میں ٹھہر گیا۔فرمایا: قرآن کریم کی یہ آیت ظالموں کے لیے ایک تیر اور مظلوموں کے لیے سائبان ہے۔ ’’تیرا رب بھولنے والا نہیں‘‘ پھر ان کا ایک واقعہ برادرم محمد الغزالی نے سنایا: کمسن صاحبزادی سے ان کے بہت ہی محترم شاگرد اپنے گرامی قدر استاد کا ذکر کیا کرتے۔ الفت، انس اور احسان مندی
مزید پڑھیے


ابوبکرؓ ایک ہی تھے

منگل 18 فروری 2020ء
ہارون الرشید
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے ،صحرا کے آسمان پہ نگاہ کی اور پوچھا : یا رسول اللہؐ ایسا بھی کوئی ہوگا ، جس کی نیکیاں ان ستاروں کے برابر ہوں ۔ فرمایا: ہاں ، ابوبکرؓ !وہ سب معتبر اور معزز تھے۔شاعر نے کہا تھا ع کوئی پھول بن گیا ہے ، کوئی چاند ، کوئی تارہ ابوبکرؓ کی بات ہی دوسری تھی ۔ ابد الآباد تک ان پہ رشک کیا جائے گا۔پیغمبر ان عظام کے سوا‘ ان کے سرخیل ‘اللہ کی آخری کتاب میں جن کے باب میں لکھا ہے : اللہ ان سے راضی
مزید پڑھیے


جہالت

پیر 17 فروری 2020ء
ہارون الرشید
اور سب سے اہم وہی کہ سب سے بڑی بیماری جہالت ہے‘ جہالت۔ کیسی کیسی آزمائش میں زندگی ڈالتی ہے۔ بقولِ اقبالؔ‘ بجلیاں، زلزلے، قحط اور آلام۔ سیلابوں اور طوفانوں سے بھی بڑا امتحان شاید یہ ہے کہ اپنے جہل اور بے خبری کے سبب کوئی قوم رسوائی، او ر اس کے نتیجے میں مایوسی کا شکار ہونے لگے۔ کوئی ابتلا بے سبب نہیں اترتی اورادنیٰ انسانوں سے لے کر پیغمبرانِ عظام تک کے لیے اس میں کوئی استثنیٰ نہیں۔ ہر آزمائش مختلف ہوتی ہے۔ رحمتہ اللعالمینؐ پر طائف کے بازاروں میں پتھر برسائے گئے۔ وہ بھی آوارہ بازاری
مزید پڑھیے


آزادی انسانوں کی متاع ہے حیوانوں کی نہیں

جمعرات 13 فروری 2020ء
ہارون الرشید
آدمی کو انا کے ساتھ پیدا کیا گیا ۔ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے ۔ اپنی ذات اور اس کے اثبات کا جذبہ ۔ ابنِ آدم کو مگر عقل بھی بخشی گئی ۔ دانش بھی عطا کی گئی ۔ دانش کا تقاضا یہ ہوتاہے کہ اپنے سوا دوسروں کے وجود کو بھی تسلیم کیا جائے ۔۔۔اور صمیمِ قلب سے تسلیم کیا جائے ۔ زمین ایک مقتل ہے ، انسانی خوابوں اور آرزوئوں کا مقتل۔ اقبالؔ نے شکوہ کیا تھا: کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟ ایک قدسی حدیث کا مفہوم یہ ہے : آدمی اپنی
مزید پڑھیے


خاکوانیوں نے لوٹ لیا

بدھ 12 فروری 2020ء
ہارون الرشید
لکھنے والے کا ہر لفظ سخاوت کا مظہر ہوتاہے ۔ جی جان سے ، خلوصِ قلب سے کی جانے والی عنایت ۔ شرط یہ کہ وہ دل صداقت کا مسکن ہو ، تلاشِ حق کا آرزومند! تیرہ برس ہوتے ہیں ،جھجکتے ہوئے عامر خاکوانی شاہ جی کے کمرے میں داخل ہوئے، عباس اطہر مرحوم ۔ شاہ جی نے ان سے کچھ استفسار کیا۔ سادہ سا ،لجاتا ساجواب۔ ایک آدھ سوال میں نے بھی کیا، وہی ادھورا سا جملہ۔ شاہ جی سے پوچھا تو سر اٹھائے بغیر بولے ’’مزاج ہی ایسا ہے ‘‘ پانچ سال بعد لاہور سے ایک بڑے اخبار کا اجرا
مزید پڑھیے