BN

ہارون الرشید



خوئے غلامی


اخلاق کی دولت سے معاشرے بہرہ ور ہو ں تو یہی نجات ورنہ آزادی بھی گرفتاری، بنجر زمینوں اور پتھروں پر ابر رحمت سے بھی کچھ حاصل نہیں۔ جمہوریت اور سیاست سے زیادہ اخلاقی تحریک کی ضرورت ہے ، وکالت میں ، صحافت میں ، سیاست میں اور ہر کہیں ، ہر کہیں ۔ لاہور کے وکلا کو فوجی عدالتوں کے حوالے کرنا چاہئیے ۔ سول جج مداوانہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ مستقل طور پر ایک دوسرے سے انہیں واسطہ رہتا ہے ۔ اس لیے بھی کہ نچلی سطح کی عدالتیں بہت کمزور ہیں ۔ اتنی کمزور کہ دھڑلے سے
جمعه 13 دسمبر 2019ء

جامۂ صد چاک

جمعرات 12 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
تذبذب کا ہم شکار ہیں اور یہی بنیادی مسئلہ ۔ یہ جامۂ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا مہلت ہی نہ دی فیض ؔکبھی بخیہ گری نے خوف بھی ایک ہتھیار ہے لیکن ہر دوسرے ہتھیار کی طرح اس کو بھی برتنے کے تقاضے ہیں ۔ آدمی کبھی حیوان ہی تھا۔ آج بھی ہر آدمی کے اندر ایک جانور زندہ ہے تب طاقت استعمال کرنی چاہئیے ۔ چھ ہزار برس پرانے شہنشاہ ہمورابی کے پتھر کے جو کتبے ملے ہیں ، ان میں سے ایک پر جو قانون رقم ہے ، ایک آیت کا ہو بہو ترجمہ ہے : ولکم
مزید پڑھیے


فریاد

بدھ 11 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
افسوس، افسوس ، اس معاشرے کے اخلاقی افلاس پہ افسوس! ریاستِ مدینہ کانعرہ اور ظلم کی فراوانی ۔ نگہ کی نا مسلمانی سے فریاد۔خرد کی تنگ دامانی سے فریاد! افراد یا اقوام ، ناکامی اور کامیابی اپنے طفیل ہوتی ہے ۔ فتوحات اور پسپائی بھی ۔ چار ماہ بیت چکے ، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے ۔اللہ کی کتاب پوچھتی ہے ، تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ان بچوں اور عورتوں کے لیے نہیں لڑتے ، جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ۔ میدانِ جنگ میں ہم اتر سکتے ہیں ۔نہیں اتر سکتے تو کیا دہائی
مزید پڑھیے


دامان احمدؐ

اتوار 08 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
ڈاکٹر امجد ثاقب نے منیرؔ نیازی کو یاد کیا: بیٹھ جائیں سایۂ دامان احمد میں منیر اور پھر ان باتوں کو سوچیں جن کو ہونا ہے ابھی ناچیز سے بھی اصرار تھا لیکن عرض کیا کہ اخبار نویس کی خطابت کا یہ موقع نہیں۔ ایک سامع کی حیثیت سے آیا ہوں‘ بس سننا چاہتا ہوں۔ ’’عرصہ امتحان‘‘ کی تیسری قسط آج لکھنا تھی۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کا ایک تاریخی لیکچر۔ سب ضروری کام نمٹا کر‘ ایک بجے کمرے میں پہنچا۔ کھانا کھا لوں‘آرام کچھ دیرکر لوں اور کالم لکھوں۔ اتنے میں ڈاکٹر امجد ثاقب کے ڈرائیور پر نگاہ پڑی۔ اس
مزید پڑھیے


عرصۂ امتحان

هفته 07 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
فرمایا: اور ہم تمہیں آزمائیں گے ، کچھ خوف اور بھوک سے اور اموال اور جانوں کے نقصان سے اور باغوں کی بربادی سے ۔خوشخبری ہے صبر کرنے والوں کے لیے ۔ مصیبت جب انہیں پہنچتی ہے تو وہ یہ کہتے ہیں : ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہمیں اللہ کی طرف لوٹ جانا ہے ۔ ’’کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ قرآنِ کریم میں کیا لکھا ہے ۔ فرمایا: اے زمین و آسمان ‘میں نے تم میں احکام رکھ دیے ہیں، کچھ حکم رکھ دیے ہیں ۔ مرضی سے آئو یا مجبوری سے ،تمہیں آنا ہی پڑے گا ۔
مزید پڑھیے




بنیادی انحراف ……(1)

جمعه 06 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
اس نے کہا : ایسی مخلوق اب میں بنائوں گا کہ میری عبادت کرے اور اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ ۔ چاہے تو انکار کر دے ، چاہے تو شکر کرے ۔ مدتوں سے مذہب کے باب میں ، اس کے مقاصد کے بارے میں ہم حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔ ان تعلیمات پہ مطمئن بیشتر لوگ ساری زندگی گزار دیتے ہیں ، جو انہیں ورثے میں ملی ہوں ۔ مذہب کا مگر ایک طے شدہ مقصد تھا ، بنیادی مقصد ۔ غور کرنے والوں نے کبھی اس پر بھی غور کیا ؟ بہت پہلے سائنسدانوں نے تحقیق و
مزید پڑھیے


سخت کوشی سے ہے جامِ زندگانی انگبیں

جمعرات 05 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
گل رنگ الفاظ نہیں زندگی ریاضت چاہتی ہے اور پیہم ریاضت۔ عصرِ رواں کا ادراک اور عرق ریزی کی تاب۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی/ یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔ ملک ریاض سے تین سو ملین ڈالر ملنے کی امید کیا پیدا ہوئی، چہار سمت خوابوں کی فصل لہلہانے لگی۔ ہر سراب پھر سے دریا نظر آنے لگا۔ چھوٹی بڑی رنگین سکرینوں پہ، پی ٹی آئی والوں کے پیغامات میں مرکزی نکتہ یہ ہے:یہ پہلی قسط ہے، ہمارے دیوتا کے طفیل سیم و زر کی اب بارش ہوتی
مزید پڑھیے


رائیگاں

پیر 02 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
سچے متلاشی پا لیتے ہیں۔ گوہر انہی کو نصیب ہوتا ہے، جستجو جن کی کھری ہو وگرنہ رائیگاں ، ساری زندگی رائیگاں۔ اس عظیم شاعر، اس یاد رہ جانے والے آدمی فیض احمد فیض سے ایک بار اس ناچیز کو بھی واسطہ پڑا۔ اس کا ذکر بعد میں۔ فی الحال تو اس غلغلے کا ذکر، جو ان کے نام پہ برپا ہے۔ فیض بہت شائستہ اور صابر تھے۔ حیات ہوتے تو ان بچوں کو سمجھاتے کہ ہماری عمر تو رائیگاں رہی، تم کیوں رائیگاں کرتے ہو۔  درد تُو جو کرے ہے جی کا زیاں فائدہ اِس زیان میں کچھ ہے؟ فیض دنیا
مزید پڑھیے


ہم جانتے ہی نہیں 

هفته 30 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
ڈاکٹر صاحب نے کہا: بلا سو د معیشت اور قرضے ممکن ہیں۔ پاکستان میں اللہ کی راہ میں دینے والوں کی کمی نہیں اور غریب آدمی بھیک نہیں ، محنت پر یقین رکھتا ہے مگر ہم جانتے نہیں ، ہم جانتے ہی نہیں۔ تیس پینتیس برس کا وہ آدمی موٹر سائیکل پہ سوار تھا۔ پچھلی سیٹ پر ایک بزرگ خاتون تشریف فرما۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کو اس نے سلام کیا اور بتایا کہ ڈھونڈتے ڈھانڈتے وہ ان کے دفتر تک پہنچا ہے۔ خاتون کے ہاتھ میں چھوٹا سا ایک بیگ تھا۔ یہ بیگ اس نے ڈاکٹر صاحب کے حوالے کیا اور
مزید پڑھیے


بھنور ہے تقدیر کا بہانہ

جمعه 29 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
سب دامن پْر ہوسکتے ہیں۔ سارے ساغر بھر سکتے ہیں لیکن جب آدمی خود ہی اپنے راستے میں کھڑا ہو جائے۔جب اپنی ذاتِ گرامی سے فرصت ہی نہ ہو۔اچھے بھلے لوگ بھی جب گرداب سے بچنے کی کوشش نہ کریں گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر ، بھنور ہے تقدیر کا بہانہ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔سپریم کورٹ کے فیصلے نے راستہ کھول دیاہے۔نسیم بیگ مرحوم کی اللہ مغفرت کرے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف میں پاکستان کے نمائندہ تھے۔عمر بھر رہے۔تحریک پاکستان کے کارکن تھے۔ عبدالستار خان نیازی کے رفیق ، ہمدم اور ہم نفس ،حمید نظامی کے ساتھی ، ان
مزید پڑھیے