BN

ہارون الرشید


وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ


کتاب میں لکھا ہے: بحر و بر فساد سے بھر گئے اور یہ انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور نہ اپوزیشن۔ افسوس کہ کوئی ایک بھی ایسا نہیں،جس پہ بھروسہ کیا جا سکے۔ امید جس سے باندھی جا سکے۔ ع وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ بالکل ہی غیر متوقع ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کا فیصلہ حیران کن ہرگز نہیں۔ خلا کبھی باقی نہیں رہتا۔ ایک ادارہ فرائض انجام نہ دے تو دوسراآتا ہے۔ سیاسی پارٹیاں سرپھٹول پر تلی ہوں تو فوج آگے بڑھتی
بدھ 20 مئی 2020ء

ابتلا

منگل 19 مئی 2020ء
ہارون الرشید
یہ قدرت کا قانون ہے اور اٹل۔ اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے: اللہ کے قانون کو تم کبھی بدلتا ہوا نہ پاؤ گے۔ ایسے میں کبھی کبھی وہ ڈاکٹر یاد آتا ہے۔ ربع صدی ہوتی ہے، گلا خراب ہوا اور ایسا خراب کہ بخار نے آن لیا۔ میلوڈی مارکیٹ میں واقع ایک اخباری دفتر میں موجود تھا۔ یکایک احساس ہوا کہ بخار بڑھتا جا رہا ہے۔ لپک کر ایک قریبی ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ بات اسے بتائی۔ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا: گلا اگر سگریٹ نوشی سے خراب ہوا ہے تو آپ اب کیا کریں گے۔ مراد ان
مزید پڑھیے


کرپشن

جمعرات 14 مئی 2020ء
ہارون الرشید

عمران خان کرپشن کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ شریفوں اور زرداریوں کا احتساب تو وہ چاہتے ہیں، اپنے خسروبختیاروں، ظفر مرزوں اور مجید خانوں کا نہیں۔ مجید خان کی کہانی پھر کبھی۔ نصف صدی ہوتی ہے، ایک امریکی فلسفی سے پوچھا گیا کہ امریکہ کے اخلاقی مسائل کا حل کیا ہے۔ جواب یہ تھا: بحر اوقیانوس میں غرق کر دیا جائے۔ صحت مند معاشرے بھی دنیا میں ہوتے ہیں اور بیمار بھی۔ ایسے زمانے بھی گزرے ہیں کہ جن کی یاد سے جی لہلہا اٹھتا ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کوئی معاشرہ بیمار کیوں ہوا اور
مزید پڑھیے


آنے والا کل

بدھ 13 مئی 2020ء
ہارون الرشید
آنے والے کل میں پاکستان کے لیے کیا لکھا ہے، یہ ابھی پردہ ء غیب میں ہے اور غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ سیاست میں عمران خان کرپشن کے خاتمہ کا عزم لے کر نہیں آئے تھے۔یہ ان کا اوّلین ہدف نہیں تھا۔ پارٹی بنانے سے کئی برس پہلے ایک ذاتی دوست نے جب انہیں سیاست میں آنے کا مشورہ دیا تو جواب یہ تھا: اگر آگیا تو سب گیدڑوں کو بھگا دوں گا۔ بہت سے دوسرے لوگوں کا خیال بھی یہی تھا کہ عمران خاں جنگل کا شیر ثابت ہوں گے اورشغالِ نیم شب سے ملک
مزید پڑھیے


فریبِ ناتمام

منگل 12 مئی 2020ء
ہارون الرشید
اس کتاب کی اشاعت کے بعد اے این پی کی لیڈر شپ کو سانپ سونگھ گیا۔ جمعہ خاں صوفی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔آج تک نہ کر سکے۔سوویت یونین ڈھے پڑا تو اے این پی کی قیادت نے امریکہ سے رشتے استوار کر لیے۔تفصیلات مہیا کی جا سکتی ہیں۔ کالم لکھنے کا آج کوئی ارادہ نہیں۔ کالم اس طرح نہیں لکھے جاتے۔ چار بجنے میں صرف ستائیس منٹ باقی ہیں، جب کاپی پریس بھیج دی جاتی ہے۔ بس ایک وضاحت مطلوب ہے، کل جس کا وعدہ کیا تھا۔ یہ ایک خوشگوار شام تھی،
مزید پڑھیے



ذہنی غسل

پیر 11 مئی 2020ء
ہارون الرشید
ذہنی غسل ایک عجیب چیز ہے۔ اس کے مارے ہوئے خال ہی شفایاب ہوتے ہیں۔ نفیسہ شاہ فرماتی ہیں: ارطغرل پہ مقامی ہیروز کو ترجیح دینی چاہئیے۔ ہمارے بزرگ کالم نگار نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی بجائے شبلی فراز کو بھارت نواز نیشنل عوامی پارٹی سے وابستہ ہونا چاہئیے تھا۔ مولانا مفتی محمود مرحوم کا یہ جملہ مشہور ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔ یہ 1971ء کے بعد کا اظہارِ خیال تھا، جب ذوالفقار علی بھٹو ایک سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی طرح ملک چلا رہے تھے۔ پریس پابہ زنجیر تھا۔
مزید پڑھیے


جزا و سزا

جمعه 08 مئی 2020ء
ہارون الرشید
بہترین کو داد نہ ملے اور کمتر کی تادیب نہ ہو تو آبِ زر سے لکھا ہوا کوئی نظام بھی نامراد رہے گا۔ ڈاکٹر شعیب سڈل ہنسے اور بولے ’’روسی ماہرین اس کے لیے درآمد کرنا ہوں گے‘‘۔ سوال ان سے یہ کیا تھا کہ کس طرح اور کیونکر سول سروس بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ کپتان جب سے اقتدار میں آیا ہے،کچھ بحران مسلسل قائم ہیں۔ اب تو خیر کورونا کا زہریلا سایہ ہے لیکن اس سے پہلے بھی معاشی پالیسیوں کے بارے میں الجھاؤ ہمیشہ قائم رہا۔ نئی حکومت کے آتے ہی معاشی سرگرمیاں محدود ہونے لگیں۔ سرمایہ
مزید پڑھیے


نجات پایا ہوا آدمی

جمعرات 07 مئی 2020ء
ہارون الرشید
معروف یا غیر معروف، دانشور یا سیاستدان، ادیب یا شاعر، دہقان یا مزدور، کوئی زندگی چند الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔ سفینہ چاہئیے، اس بحرِ بیکراں کے لیے پھر کبھی شاید، پھر کبھی۔ چوہدری انوار الحق چلے گئے۔شعیب بن عزیز سے شکوہ کیا کہ اطلاع کیوں نہ دی؟ اس دن لاہور میں تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اب اس طرح سے پرہجوم جنازے نہیں ہوتے۔ انتقال کی خبر پا کر وہ خود بھی تدفین سے قبل مرحوم کے گھر پہنچے۔ دعا اور صبر کی تلقین کر کے لوٹ آئے۔ بات ابھی جاری تھی کہ شعیب کے لہجے میں
مزید پڑھیے


کارِ دگر

بدھ 06 مئی 2020ء
ہارون الرشید
چمن اجڑا پڑا ہے اور اجڑتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس کا کوئی مداوا سپریم کورٹ کر سکتی ہے اور نہ اسٹیبلشمنٹ۔ دل کے ٹکڑوں کو بغل بیچ لیے پھرتا ہوں کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں کارِ دگر ہے یہ کارِ دگر۔ معزز جج صاحبان نے حیرت زدہ کر دیا۔ فرمایا کہ کورونا پر وفاق اور صوبوں کوہم آہنگی پیدا کرنی چاہئیے۔ کسی قدر ہم آہنگی تو موجود ہے۔عدالت کی مراد غالباً یہ ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی اور بیان بازی سے باز آنا چاہئیے۔ اس سے
مزید پڑھیے


وزیرِ اعظم سے ایک سوال

پیر 04 مئی 2020ء
ہارون الرشید
"عمران خان کہا کرتے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر سڑکوں، پلوں، انڈر پاسوں کی بجائے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انسانوں پر سرمایہ کاری کریں گے۔ کیا یہی وہ سرمایہ کاری ہے ؟ میں یہ نہیں کہتا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں اورنج لائن جیسا کوئی بڑا منصوبہ تباہ کیا جا رہاہے۔ میری گزارش یہ ہے کہ حکومت پنجاب کا محکمہ سکول ایجوکیشن ایک اور شاندار منصوبے کی بربادی کے درپے ہے۔ جی ہاں، میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی بات کر رہا ہوں جس کی بنیاد چودھری پرویزا لٰہی کی وزارت اعلیٰ میں رکھی گئی۔ یہ منصوبہ
مزید پڑھیے