BN

ارشاد احمد عارف



دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے


34میں سے 27وزارتوں کو وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے ریڈ لیٹر کا اجراء حکومت کی ایک سالہ ناقص کارگزاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مطلب یہ کہ چونتیس میں سے ستائیس یعنی تین چوتھائی سے زائد وزیر نکمے‘ نااہل اور کام چور ہیںجو اپنے ماتحتوں سے کام لے سکے نہ اپنا سکّہ جما سکے۔ اپوزیشن یا میڈیا یہ بات کہے تو حکمرانوں کو مرچیں لگتی ہیں‘منفی پروپیگنڈا قرار دیا جاتا ہے اور تبدیلی کی علمبردار حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانے کا الزام لگتا ہے مگر وزیر اعظم عمران خان اگر ستائیس وزارتوں کو ریڈ لیٹر جاری کرتے ہیں
اتوار 08  ستمبر 2019ء

کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے

جمعه 06  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
صلاح الدین کے قتل عمد پر رحیم یار خاں پولیس اور آر پی او بہاولپور عمران محمود کے بیانات دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ’’پوری دال ہی کالی ہے ‘‘کے غماز ہیں‘ یہ خدا ہی جانتا ہے کہ پولیس افسران و اہلکارقاتل کی پردہ پوشی کر رہے ہیں یا کسی طاقتور ‘ بااثر اور مالدار گینگ کی؟ ع کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے حبیب بنک شاہی روڈ رحیم یار خان کی جس برانچ سے صلاح الدین دوران واردات پکڑا گیا وہ کسی ویرانے میں نہیں۔ صلاح الدین اے ٹی ایم کیبن میں گھسا تو
مزید پڑھیے


سبحان اللہ

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
کوئی مانے نہ مانے احتساب بیورو کریسی اور کاروباری برادری کے روبرو سرنگوں ہو گیا‘ دیکھیں سیاستدانوں کے حضور کب کورنش بجا لاتا ہے؟ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔ جنرل پرویز مشرف میاں نواز شریف کو ایوان اقتدار سے بے دخل کر کے اسلام آباد کے تخت پر فروکش ہوئے تواپنے سات نکاتی ایجنڈے میں احتساب بلکہ بلا تفریق احتساب کو سرفہرست رکھا۔ اُصول پسند‘ دیانتدار اور دبنگ جنرل سید امجد کو احتساب بیورو کا سربراہ مقرر کیا اور گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ سید امجد کی شہرت ایسی تھی کہ طاقتور لوگوں کا پتہ پانی ہونے لگا۔ مجھے یاد
مزید پڑھیے


زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد

اتوار 01  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
قوم نے آدھ گھنٹہ گھر‘ دفتر اوردکان سے باہر گزار کر مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کر لیا‘ اگلے جمعہ کوئی اور سرگرمی بہتر ہو گی‘ اگر حکومتی تھنک ٹینک سوچنے سے قاصر ہیں تو اپوزیشن یا میڈیا سے پوچھ لیں‘ یکسانیت نہیں ہونی چاہیے کہ مفید نہیں۔ مگر یہ علامتی اظہار یکجہتی ہے اب کچھ ٹھوس کام نظر آنا چاہیے۔ 5اگست کے بعد سے عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ملک میں ہیں اور سربراہان حکومت و وزراء خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطوں میں مصروف۔ اپوزیشن کا اعتراض درست ہے کہ جموں و کشمیر میں
مزید پڑھیے


مجھ سا جہاں میں کوئی نادان بھی نہ ہو

جمعه 30  اگست 2019ء
ارشاد احمد عارف
طارق چودھری نے پتے کی بات کی۔ کہا ’’ایک جنگ بتا دیں جو کسی ریاست نے مضبوط معیشت اورخوشحالی کی بنا پر جیتی ہو‘‘ مشتاق چودھری کے اعزاز میں برادرم حفیظ اللہ نیازی نے عشائیہ کا اہتمام کیا تھا اور مخدوم جاوید ہاشمی و مجیب الرحمن شامی سمیت طارق چودھری ‘ میاں خالد اور مشتاق چودھری کے بیشتراحباب شریک محفل تھے۔ دگرگوںپاکستانی معیشت اور بھارتی جارحیت کے خطرات ایک ساتھ زیر بحث تھے۔ ان دنوں بھارتی شردھالو اور عمران مخالف حلقے ایک ہی بات شد ومد سے کہہ رہے ہیں کہ اگر خدانخواستہ جنگ چھڑ گئی پاکستان کا کیا بنے
مزید پڑھیے




ہم تو ڈوبے ہیں صنم‘تم کو بھی لے ڈوبیں گے

منگل 27  اگست 2019ء
ارشاد احمد عارف
بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئے زمانہ کچھ نہیں کرتا‘ کبھی‘ کسی کے لئے الفاظ چبائے بغیر عمران خان نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو نیو کلیئر پاکستان کے وزیر اعظم اور ایک کروڑ بیس لاکھ کشمیریوں کے ’’سفیر‘‘ کو کہنا چاہیے۔ قوم سے عمران خان کے خطاب میں ٹیپ کا بند یہ تھا ’’کوئی ہمارے ساتھ کھڑا ہو نہ ہو ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں‘ ہم آخری سانس تک کشمیریوں کا ساتھ دیں گے‘‘ وزیر اعظم نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا‘ بین الاقوامی برادری اور طاقتور ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ کو اس کے فرائض یاد
مزید پڑھیے


دیار مجددؒ سے داتا نگر ؒ تک

اتوار 25  اگست 2019ء
ارشاد احمد عارف
ممتاز صحافی جمیل اطہر صاحب کی کتاب’’دیار مجددؒ سے داتا نگر تک‘‘ موصول ہوئی تو فرصت کے اوقات میں دلجمعی سے پڑھنے کا ارادہ تھا مگر کتاب نے سرسری ورق گردانی کے دوران ہی جکڑ لیا ع کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجا است یہ صرف لاہور‘ فیصل آباد اور سرگودھا کی صحافتی تاریخ اور جمیل اطہر صاحب کی سوانح حیات نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست و صحافت کا بے لاگ تذکرہ اور ایماندارانہ تجزیہ ہے‘ سادہ اسلوب میں دلچسپ واقعات کو اختصار کے ساتھ بلا کم و کاست بیان کیا گیا ہے کہیں بھی مبالغے
مزید پڑھیے


بے نیازی حد سے گزری

جمعه 23  اگست 2019ء
ارشاد احمد عارف
عمران خان کا اللہ بھلا کرے‘ مذہبی بنیادوں پر تشدد کا نشانہ بننے والوں کے پہلے عالمی دن کے موقع پر اس نے مظلوم کشمیریوں کو یاد رکھا‘ عالمی برادری کو باور کرایا کہ وہ محض عقیدے کی بنا پر فوجی جبرو تشدد کا نشانہ بننے والوں سے بھی اظہار یکجہتی کرے جن سے عیدالاضحیٰ اور نماز جمعہ کی ادائیگی کا حق چھین لیا گیا اور امکانی قتل عام کا راستہ روکنے کے لئے متحرک ہو۔ میں سارا دن مختلف نیوز چینلز پر کسی مذہبی و سیاسی جماعت‘ انسانی حقوق کی تنظیم اور شہریوں آزادیوں کی علمبردار این جی اوز
مزید پڑھیے


حمیّت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے

جمعرات 22  اگست 2019ء
ارشاد احمد عارف
سری نگر اور دیگرشہروں کا فوجی محاصرہ جاری ہے ۔مارشل لاء کے دوران جموں و کشمیر کے عوام کی حالت ہٹلر دور میں نازی کیمپوں کے مکینوں سے بدتر ہے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ کشمیریوں کو اپنے گھروں میں رہ کر انہی مصائب کا سامنا ہے جن سے نازی کیمپوں کے باسی گزرے ۔عزیز و اقارب سے رابطہ منقطع ‘ خوراک و ادویات کی کمی‘ باہر نکلنے پر گولی لگنے کا اندیشہ اور تاریک مستقبل کا خوف۔ بی بی سی سمیت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور بھارت میں کام کرنے والی این جی اوز کے جو نمائندے سرینگر پہنچ
مزید پڑھیے


تازہ خبر آئی ہے

منگل 20  اگست 2019ء
ارشاد احمد عارف
عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور شاہ فیصل کی گرفتاری کیا ان کے تازہ مودی مخالف مؤقف کی بنا پر ہے؟ یا کسی گریٹ گیم کا حصہ؟یہ سوال آج کل نئی دہلی کے کشمیری حلقوں میں زیر بحث ہے، سرینگر کی سوچ کیا ہے؟ جب تک مودی کا مارشل لاء نہیں اٹھتا، سیاسی، سماجی، صحافتی اور علمی حلقوں کو اذن کلام نہیں ملتا، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے کہ صرف گھر سے نکلنا مشکل نہیں، باہمی رابطوں کا ہر ذریعہ معطل ہے ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور باہمی میل جول۔ پاکستان میں ہم لوگ اس بات پر خوشی سے بغلیں
مزید پڑھیے