Common frontend top

BN

ارشاد احمد عارف


کابل اٹھارہ سال قبل


افغان طالبان خطے کی وہ سیاسی حقیقت ہیں جسے امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹونے کا مان لیا اور اُن سے باعزت و محفوظ واپسی کی ضمانت کے ساتھ فوجی انخلا کا سلسلہ جاری ہے‘9/11کے بعد امریکہ چار درجن کے قریب اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوا تو دنیا بھر کے تجزیہ کاروں نے اسے ہاتھی اور چیونٹی کا مقابلہ قرار دیا‘ جس پر ہمارے جیسے بنیاد پرستوں کا ماتھا ٹھنکا کہ انہیں اصحاب فیل(ہاتھی والوں) کا انجام یاد تھا‘ اب حالت یہ ہے کہ طالبان امریکہ کی ہم پلّہ قوت ہیں ۔ایک بیان امریکہ جاری کرتا ہے
اتوار 27 جون 2021ء مزید پڑھیے

افغان باقی کہسار باقی

جمعرات 24 جون 2021ء
ارشاد احمد عارف
1988ء میں سوویت یونین نو سالہ جنگ اور جگ ہنسائی کے بعد افغانستان سے نکلا تو ایک سپر پاور کی فوجی پسپائی اور بعدازاں شرمناک شکست و ریخت کا سہرا کئی فریقوں نے اپنے سر سجایا‘ امریکہ پیش پیش تھا کہ اس نے جدید اسلحہ کے علاوہ اپنے عرب اتحادیوں کی دولت سے افغان مجاہدین کی مدد کی‘ پاکستان نے چالیس لاکھ مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا اورسوویت یونین کی اس دھمکی کو خاطر میں نہیں لایا کہ وہ اپنے دفاعی اتحادی بھارت سے مل کر اسے سینڈ وچ بنا دے گا‘ پاکستان نے جس ہنگام دریائے آموپار کرنے پر
مزید پڑھیے


فوجی اڈے‘ پارلیمنٹ اور حکومت

منگل 22 جون 2021ء
ارشاد احمد عارف
پچھلے پچیس تیس سال سے ہمارے حکمرانوں کی امریکی چاپلوسی کا مشاہدہ کرنے والی نوجوان نسل کو یقین ہی نہیں آ رہا کہ کوئی پاکستانی وزیر اعظم صاف الفاظ میں کسی امریکی فرمائش کو رد بھی کر سکتا ہے‘ جن نوجوانوں نے 1970ء کے اواخر یا 1980ء کے اوائل میں آنکھ کھولی‘ زمانہ طالب علمی میں امریکہ سے آنے والے جونیئر اہلکاروں کو اسلام آباد کے اعلیٰ ایوانوں میں شاہی پروٹوکول کے مزے لوٹتے دیکھا‘ پاکستان میں متعین امریکی سفیر کی ہمارے صدر اور وزیر اعظم سے ملاقات کی تصویر دیکھی جس میں موصوف وائسرائے کی طرح ٹانگ پر ٹانگ
مزید پڑھیے


پنجاب پر گالم گلوچ کلچر کی تہمت

جمعه 18 جون 2021ء
ارشاد احمد عارف
میرا اپنا تعلق اگرچہ سرائیکی وسیب سے ہے‘ میں حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی دھرتی کا جم پل ہوں اور میری سرائیکی زبان کو دنیا بھر میں انتہائی شائستہ‘ شیریں اور دلکش زبان جانا مانا جاتا ہے مگر پنجابی تہذیب و ثقافت اور زبان و بیان میں بھی مجھے وہی شائستگی ‘ مٹھاس اور دلکشی محسوس ہوتی ہے جو پاکستان کی دوسری تہذیبوں‘ ثقافتوں اور زبانوں پشتو‘ بلوچی‘ سندھی اور سرائیکی وغیرہ میں‘ لاہور میں رہتے بستے مجھے بیالیس سال ہو چکے‘ میں طویل عرصہ تک اندرون شہر یعنی لوہاری میں مقیم رہا اور پنجابی زبان و ادب کے چند
مزید پڑھیے


چراغ رہگزر کو کیا خبر ہے

جمعرات 17 جون 2021ء
ارشاد احمد عارف
مجھے دیگر سینئر صحافیوں اور اینکرز کے ساتھ پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران تین اعلیٰ سطحی بریفنگز میں شرکت کا موقع ملا ‘قومی سلامتی اور خارجہ اُمور کے حوالے سے ان بریفنگز میں پاک امریکہ تعلقات‘مسئلہ کشمیر‘ بھارتی عزائم‘ افغانستان سے فوجی انخلا اور طالبان و افغان حکومت کے مابین جاری کشمکش کے حوالے سے اعلیٰ ریاستی عہدیداروں نے حالات و واقعات کی جو تصویر کشی کی وہ میری طرح کے کمزوور دل افراد کی راتوں کی نیندیں اڑانے کے لئے کافی ہے۔ ایک بریفنگ میں اخبار نویس تو بس چار پانچ تھے باقی مختلف سیاسی جماعتوں کے نامور
مزید پڑھیے



فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے

منگل 08 جون 2021ء
ارشاد احمد عارف
افغانستان سے مکمل امریکی فوجی انخلا تو اب نوشتہ دیوار ہے‘ 4جولائی کو نہیں تو 11ستمبر کو آخری فوجی بھی سپر پاور کے قبرستان سے زندہ سلامت مگر بصد سامان رسوائی رخصت ہو گا‘ دریائے آمو پار کرتے ہوئے سوویت یونین کے آخری فوجی نے اپنی قوم کو یہ پیغام دیا تھا کہ ’’ آئندہ کوئی روسی حکمران افغانستان کا رخ کرے نہ مداخلت کا سوچے کہ یہاں غیر ملکی آتے اپنی مرضی سے ہیں مگر جا ‘وہ افغانوں کی اجازت سے پاتے ہیں‘‘۔ آمدن بہ ارادت‘ رفتن بہ اجازت‘ امریکہ کی خواہش تھی کہ اس کی واپسی کو شکست
مزید پڑھیے


ڈرامہ یا حقیقت نگاری

جمعرات 03 جون 2021ء
ارشاد احمد عارف
ترکی ڈرامے ’’پایۂ تخت عبدالحمید‘‘ پر کالم کو پذیرائی ملی‘ جو دوست یہ ڈرامہ دیکھ چکے ہیں انہیں تشنگی محسوس ہوئی‘ کالم کی تنگ دامنی کے باعث واقعی کئی قابل ذکر پہلو احاطہ تحریر میں نہ لائے جا سکے۔ مثلاً سلطان کی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے ضمن میں ایک واقعہ کا تذکرہ ہوا مگر دوسرے واقعات رہ گئے۔ سلطان کو بتایا جاتا ہے کہ بجلی کی فراہمی کے لیے منگوائے گئے جنریٹرز ٹیسٹ کرلیے گئے ہیں کوئی خرابی ہے نہ نقصان کا پہلو‘ ماہرین تجویز پیش کرتے ہیں کہ سب سے پہلا شاہی محل
مزید پڑھیے


پایۂ تخت عبدالحمید

اتوار 30 مئی 2021ء
ارشاد احمد عارف
پاکستانی چینلز210 نے ارطغرل غازی اور کارا عثمان سے پہلے بھی ترکی ڈرامے اردو ڈبنگ کے ساتھ نشر کئے مگر مقبولیت کے جو ریکارڈ یہ دونوں ڈرامے قائم کر رہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں‘ محدود سوچ کے بعض منفی مزاج عناصر نے ان ڈراموں کو پاکستانی چینلز پر نشر کرنے کی مخالفت کی مگر ان کی یہ مخالفت صدالبصحرا ثابت ہوئی کہ اس میں وزن تھا نہ منطق اور نہ کوئی معقول جواز‘ ایک اور ترکی ڈرامہ ’’پایۂ تخت عبدالحمید‘‘ ابھی تک کسی پاکستانی چینل نے نشر کرنا شروع نہیں کیا‘ جس دن یہ نشر ہو گیا مقبولیت
مزید پڑھیے


اور محبت وہی انداز پرانے مانگے

اتوار 23 مئی 2021ء
ارشاد احمد عارف
2018ء میں 25جولائی کی سہ پہر 92چینل کی الیکشن ٹرانسمیشن میں انتخابی نتائج آنے سے قبل بحث یہ چل پڑی کہ مستقبل کا وزیر اعظم کون ہو گا‘ مجھ سے زیادہ قابل اور باخبر تجزیہ نگاروں کی رائے تھی کہ میاں شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ اُمیدوار ہیں‘ حکمرانی کا تجربہ ‘ مفاہمتی انداز اور جوڑ توڑ کی بے پایاں صلاحیت ان کا سیاسی اثاثہ ہے اور ملک کے سب سے بڑے صوبے میں مقبولیت اضافی خوبی۔ایک دوست بار بار چودھری نثار علی خاں کا نام لیتے جو میاں شہباز شریف‘ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے بیک وقت چہیتے اور
مزید پڑھیے


مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام

جمعه 21 مئی 2021ء
ارشاد احمد عارف
پنجاب کے ارکان اسمبلی کو عمران خان کے سابق دوست بلکہ یار غار جہانگیر ترین کا شکریہ ادا کرنا چاہیے ‘جس نے بجٹ اجلاس سے قبل دو درجن ارکان کا گروپ بنا کر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان خان بزدار کا ’’تراہ‘‘ نکالا اور یہ اعلان کرنے پر مجبور کیا کہ ہر رکن اسمبلی پیشگی وقت لئے بغیر جب چاہے وزیر اعلیٰ سے مل سکتا ہے ‘2014ء میں عمران خان نے ڈی چوک میں دھرنا دیا تو ابتدا میں میاں نواز شریف اور ان کے وزیروں مشیروں نے اپنے حریف کا مذاق اڑایا اور طرح طرح کی باتیں کیں مگر ایک
مزید پڑھیے








اہم خبریں