BN

ارشاد احمد عارف



انجام کا آغاز


شکست و ریخت بھارت کا مقدّر ہے، وقت کا تعین ہم نہیں کر سکتے، قادر مطلق نے کرنا ہے جس کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔ نریندر مودی نے تقسیم کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ بھارت کی کیرالہ سمیت پانچ ریاستوں نے ’’قانون شہریت‘‘ کو تسلیم نہیں کیا۔ ممتابینرجی مخالفت میں پیش پیش ہے۔ جموں و کشمیر کے بعد بھارت کی وہ ریاستیں پابندیوں کا شکار ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں نہ ان ریاستوں کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے کہ مداخلت کا الزام لگاسکے۔ یہ مکافات عمل ہے، جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ جو بات ڈی جی آئی
منگل 17 دسمبر 2019ء

انصاف

اتوار 15 دسمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
سلطان محمود غزنوی نے اچانک دربار میں موجود شرکاء سے پوچھا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے؟ ہر سو خاموشی چھا گئی‘ پھر ایک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں آپ کو حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔ سلطان نے شرط پوچھی تو بولا مجھے دریا کنارے چھ ماہ تک چلہ کاٹنا ہو گا جبکہ میں غربت کے باعث اس عرصہ میں اپنے اہل و عیال کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا آپ اگر چھ ماہ تک میرے گھریلو اخراجات کا ذمہ لیں تو میں
مزید پڑھیے


وکلا گردی

جمعه 13 دسمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
ینگ ڈاکٹرز بھی کسی سے کم نہیں‘ اپنے سینئرز کی توہین‘ سڑکوں پر ہنگامہ آرائی اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ مگر لاہور میں امراض قلب کے ہسپتال کے اندر اور باہر سینہ زوری‘ غنڈہ گردی اور بے آسرا مریضوں کے علاوہ ان کے لواحقین پر تشدد کا جو ’’کارنامہ‘‘ نوجوان وکلا نے انجام دیا اس کا ادنیٰ جواز صرف وہی پیش کر سکتا ہے جس کی آنکھ شرم و حیا‘ ذہن خیال روز جزا اور دل خوف خدا سے عاری ہے۔ عرفان نامی ایک ڈاکٹر کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں موصوف کھلنڈرے انداز میں وکیلوں کا مذاق اُڑا
مزید پڑھیے


مائنس ون

منگل 10 دسمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
کوئی مانے نہ مانے مسلم لیگ اور شریف خاندان نے بعداز خرابی بسیار میاں شہباز شریف اور چودھری نثار علی خاں کا بیانیہ قبول کر لیا‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف اداروں سے تصادم اور انہیں بدنام کرنے کی روش پر گامزن تھے جسے ہمارے بعض دانشوروں اور تجزیہ کاروں نے سول بالادستی کا بیانیہ سمجھ کر یہ اُمیدیں وابستہ کر لیں کہ مسلم لیگ اپنے ماضی اور مزاج کو فراموش کر کے دونوں باپ بیٹی کے ہم قدم و ہم رکاب پاکستان میں فرانس اور روس نہ سہی‘ ایرانی طرز کا انقلاب برپا کرے گی‘ جولائی 2018ء
مزید پڑھیے


آزاد صحافت کی اوقات

جمعه 06 دسمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
منگل کی سہ پہر امریکی نشریاتی ادارے کی طرف سے ایک پروگرام میں شرکت کی دعوت ملی جس کا موضوع’’پاکستانی میڈیا پر عائد پری سنسر شپ‘‘ تھا۔ذاتی مصروفیات کی بنا پر شرکت سے معذرت کی مگر سوچ میں پڑ گیا شرکت کی صورت میں کیاعرض کرتا؟۔ایک روز قبل برطانوی کرائم ایجنسی(این سی اے) کا پریس ریلیز جاری ہوا جس میں پاکستان کے بزنس ٹائیکون ملک ریاض حسین سے عدالت کے باہر سیٹلمنٹ کے تحت 190ملین پائونڈ سٹرلنگ کی وصولی کا ذکر تھا‘ پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا کہ نمبر ایک ہائیڈ پارک کی جائیداد اور آٹھ بنک اکائونٹس
مزید پڑھیے




نیا فتنہ

اتوار 01 دسمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
ملک میں ایک نیا فتنہ سر اُٹھا رہا ہے۔ فرمایا ’’مومن اپنے آپ کو ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسواتا‘‘، ہم مگر ایک ہی سوراخ سے دوبار بلکہ سہ بار نہ ڈسے جائیں تو ہمارا ایمان کامل ہوتا ہے نہ دل و دماغ مطمئن۔ بہتر سالہ تاریخ میں ناکام تجربوں کا ریکارڈ ہم نے قائم کیا اور باز اب تک نہیں آئے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینوں کی بحالی کا جوش ہمیں اس وقت چڑھا جب مولانا کے آزادی مارچ اور دھرنے کے بعد آرمی چیف کے تقرر کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوا، پورے ملک نے سکھ کا سانس
مزید پڑھیے


اللہ دیکھ رہا ہے

اتوار 24 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
بزرگ صحافی جناب رفیق ڈوگر کی معرکتہ الآرا کتاب تو ’’الامین‘‘ ہے‘ سیرت النبی ﷺ کی معتبر کتاب‘ مگر باقی کتابیں بھی لاجواب ہیں۔ ملنے گیا تو انہوں نے ’’ڈوگر نامہ‘‘ عنائت کیا‘ جس کا ایک باب عبرت انگیز ہے۔ قوانین قدرت سے منحرف لوگوں کی گرفت اور اطاعت گزار بندوں کی تا ابد الآباد تکریم و توقیر کے چند واقعات پیش خدمت ہیں‘ لکھتے ہیں: ’’چودھری محمداشرف حکومت پنجاب کے سیکرٹری تھے اور جنوری کا مہینہ آنے سے پہلے ہی صحرائی خاموشی کے روپ رنگ دیکھنے کے پروگرام کا اعلان کر دیتے’’چلنا ہے دو چار راتیں خاموشی کے ہاں گزاریں
مزید پڑھیے


غلطی کی گنجائش نہیں

جمعه 22 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
سازشی کہانیاں ہر سو پھیلی ہیں اور حکمرانوں کو خطرناک مستقبل سے ڈرایا جا رہا ہے۔دسمبر میں مائنس ون‘ ان ہائوس چینج اور مارچ میں عام انتخابات کی باتیں افواہیں‘ قیاس آرائی یا واقعی مصدقہ اطلاع؟ وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے زمینی حقائق برعکس ہیں مگر یہ پاکستان ہے بسا اوقات جہاں افواہیں اور قیاس آرائیاں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں اور دیکھتے دیکھتے حقیقت خرافات میں کھو جاتی ہے۔ فی الوقت حالات اگرچہ ان سازشی کہانیوں کی تائید کرتے ہیں نہ اداروں کا طرز عمل حکومت کے حوالے سے مخاصمانہ تو دور کی بات ہے‘ ناسازگار نظر
مزید پڑھیے


آزادی مارچ‘ کوئیک مارچ اور مارچ2020ء

جمعرات 21 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
جن دنوں جرمن طیارے لندن کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے تھے‘ ہٹلر کی فوجیں برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھیں برطانوی میڈیا بالخصوص بی بی سی روزانہ بلیٹن جاری کرتا‘ جس میں برطانوی عوام کا حوصلہ بلند رکھنے کے لئے انگریزی فوج کی پیش قدمی اور فتوحات کے روائتی دعوے شامل ہوتے۔ اردو کے ممتاز شاعر نے صورتحال پر ملفوف طنز کیا‘ لکھا ع فتح انگلش کی ہوتی ہے‘قدم جرمن کے بڑھتے ہیں یہی صورتحال اس وقت اپوزیشن کی ہے مولانا فضل الرحمن نے خیالی پلائو پکایا آزادی مارچ کا اعلان کیا تو عمران خان کے مخالف سیاستدانوں
مزید پڑھیے


بخیر گزشت

منگل 19 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا کا دھرنا ختم ہوا‘ میاں صاحب اللہ نے چاہا تو آج بغرض علاج بیرون ملک سدھار جائیں گے ۔لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر مسلم لیگی لیڈر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں‘ کارکن البتہ محتاط ہیں‘ انہیں قیادت کا خوش فہمی پر مبنی وہ ردعمل یاد ہے جو سپریم کورٹ کی طرف سے جے آئی ٹی کی تشکیل پر سامنے آیا‘ ایک دوسرے کا منہ میٹھا کرنے‘مبارکبادیں دینے اور خوشی سے پھولے نہ سمانے کے بعد ماتم ‘ سینہ کوبی اور ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی گردان۔اب بھی کارکنوں کو ڈر ہے کہیں خوش فہمی ناک نہ
مزید پڑھیے