BN

ارشاد احمد عارف


کرنے کے کچھ کام


تنقید آسان ہے اور الزام تراشی ہمارا قومی مشغلہ ۔ آزمائش کی گھڑی ہے اور قوم کو مقابلے پر تیار کرنے کی ضرورت ۔ہمارے سیاستدان اور حکمران مگراب بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دیرینہ بیماری میں مبتلا۔ بیان بازی جاری ہے اور وبائی مرض پر سیاسی کاروبار چل رہا ہے۔ دانش مندی کا تقاضا حالانکہ یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں چند ہفتے کے لئے سیاسی سرگرمیاں معطل کر کے عوام کی رہنمائی ‘آگہی اور عملی امداد پر توجہ دیں ۔کرونا وائرس نے حملہ پوری انسانی برادری پر کیا ہے ۔کرونا نے گلوبل ویلیج کو حقیقت کا
جمعه 20 مارچ 2020ء

موقع

جمعرات 19 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
کرونا وائرس نے انسان کو ایک بار پھر سوچنے کا موقع دیا ہے ؎ نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا یہ اللہ وحدہ لا شریک تھا جس نے تہذیب و تمدن، سائنس و ٹیکنالوجی کے تصور سے نا آشنا انسان کو چاروں طرف پانی سے گھری زمین پر زندہ رکھا، زندہ رہنے کا گر سکھایا، خداداد عقل کو بروئے لا کر تسخیر کائنات(سائنس و ٹیکنالوجی پر دسترس)کا حوصلہ دیا اور قوانین قدرت پر کاربند رہنے کے فوائد بتلائے۔ سائنس کی ترقی، سائنس دانوں کی خدمات اور ان کے طفیل انسانوں کو کرۂ ارض
مزید پڑھیے


’’مسلمان‘ مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا‘‘

منگل 17 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
محدب عدسے کے بغیر نظر نہ آنے والے ایک معمولی جرثومے کرونا وائرس نے اپنی ذہانت‘ بصیرت‘ ہشیاری‘ سائنسی و تکنیکی ایجادات اور جدید حفاظتی انتظامات پر نازاں انسان کو اوقات یاد دلا دی‘ حضرت انسان کی جبلت و سرشت بھی عیاں کی۔ تیسری دنیا میں بسنے والے انسانوں کو تو فرسٹ ورلڈ مہذب سمجھتا نہ مکھی مچھرسے زیادہ اہمیت دیتا ہے‘ خود مذمتی کے مرض میں مبتلا معاشرے کے دانشور بھی دن رات یہی راگ الاپتے ہیں کہ حرص‘ ہوس‘ لالچ‘ خوف اور مفاد خویش تیسری دنیا کے مکینوں کا طرہ امتیاز ہے‘ ترقی یافتہ ممالک کے انسان ہمہ
مزید پڑھیے


خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں

اتوار 15 مارچ 2020ء
عا رف نظا می
قفل ٹوٹا خدا خدا کر کے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ منظور ہو گیا‘ یہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی طرف پہلا قدم ہے سیکرٹریٹ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے حکومت نے مگر ڈنڈی بھی ماری ۔ طے پایا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا دفتر بہاولپور میں ہو گا اور ایڈیشنل آئی جی پولیس ملتان میں بیٹھے گا ۔ واہگورو کے خالصے یاد آئے ۔ خالصہ کالج کے قیام کا فیصلہ ہوا مگر کالج لاہور میں بنے یا امرتسر میں اس پراختلاف ہو گیا‘ بحث چھڑی توچھڑتی ہی چلی گئی‘ دونوں فریق بضد کہ ان کی مرضی کے شہر میں کالج نہ
مزید پڑھیے


نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

جمعرات 12 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
عورت مارچ تو ہو گیا سیاستدانوں کی طرف سے مارچ میں مارچ کے دعوے رات کی بات ثابت ہوئے ؎ رات کی بات کا مذکور ہی کیا چھوڑیے رات گئی بات گئی تحریک انصاف کی حکومت پہلے سے زیادہ پُر اعتماد‘ مطمئن ہے‘ پیپلز پارٹی اپنے معاملات سلجھانے میں منہمک اور مسلم لیگ (ن) داخلی انتشار پر قابو پانے میں مشغول۔ منگل کے روز مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پہلی بار ارکان پارلیمنٹ نے اپنی قیادت پر تنقید کی اور میاں شہباز شریف سے وطن واپسی کا مطالبہ کیا۔ بعض تجزیہ کار اور اینکر ہمیں دو تین
مزید پڑھیے



قابل داد پیش قدمی

منگل 10 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
8مارچ کو عورت مارچ کے منتظمین اور شرکاء کی ثابت قدمی قابل داد ہے، ثابت قدمی نہیں، بلکہ پیش قدمی۔ ناقدین کے تمام دعوئوں، جملہ خدشات کو انہوں نے درست ثابت کیا، حامیوں اور مخالفین پر واضح کر دیا کہ یہ حقوق نسواں کی تحریک ہے نہ پاکستان کے طول و عرض میں خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف جذباتی ردعمل۔ کاروکاری، ونی اور سوارا کی بے ہودہ رسموں کی مخالفت مطلوب تھی تو مارچ ان جاگیرداروں کے خلاف ہوتا جو جرگوں کی سربراہی اور خواتین کے علاوہ ان کے والدین، بھائیوں، عزیز و اقارب کے خلاف فیصلے فرماتے
مزید پڑھیے


فتنہ

اتوار 08 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
مان لیا کہ پاکستان میں خواتین کو وہ حقوق حاصل نہیں جو ایک جدید مثالی اسلامی‘ جمہوری ریاست میں حاصل ہونے چاہئیں۔ معاشرے میں بیٹے اور بیٹی ‘ بھائی اور بہن کے مابین فرق روا رکھا جاتا ہے۔ شوہر بیویوں سے مثالی سلوک نہیں کرتے۔ بعض پسماندہ علاقوں میں عورت کو پائوں کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔ بچیوں کو جوان ہونے پر پوچھے بغیر ایسے مرد سے بیاہ دیا جاتا ہے جو انہیں پسند ہوتا ہے نہ تعلیم‘ ذہنی سطح اور شکل و صورت میں ان کے پاسنگ۔ پسند کی شادی کو جرم سمجھ کر باپ‘ بھائی اور رشتے دار حیوانیت پر اُتر
مزید پڑھیے


’’میرا جسم‘ میری مرضی‘‘

جمعه 06 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
پچھلے سال عورت مارچ میں جو بینر نمایاں ہوئے ان پر تحریر نعروں میں سے ‘محتاط اور ذمہ دار پرنٹ میڈیا نے صرف ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کو قابل اشاعت سمجھا‘ باقی نعرے اس قدر لغو‘ غلیظ اور دلآزار تھے کہ عورت مارچ کے علمبردار اور حامی الیکٹرانک میڈیا اور اینکرز کو بھی دکھانے کی جرأت نہ ہوئی‘ بے ہودگی اور غلاظت کا یہ سودا اس بار پھر بکنے کو تیارہے‘ تکنیک البتہ اس بار مختلف اختیار کی گئی ۔ سینٹ میں پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمان اور پریس کانفرنسوں میں بلاول بھٹو زرداری نے عورت مارچ کی حمائت
مزید پڑھیے


ڈالر بھلے یا گائیڈز کیولری

جمعرات 05 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
میجر(ر) آفتاب احمد کی کتاب’’کھیڈن ہار فقیرا‘‘ کا مطالعہ جاری ہے۔ لکھتے ہیں: ’’یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن ظفر تم نے ہمیں یہ تو بتایا ہی نہیں کہ معیار کیوں دن بدن گر رہا ہے۔‘‘پریذیڈنٹ سلیکشن بورڈ بریگیڈیئر ظفر حیات سیمینار سے فراغت کے بعد جب اپنے آفس میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر پاکستان کو بورڈ کے اندرونی معاملات پہ تعارف اور تفصیل کے اختتام پر پہنچے تو جنرل ضیاء کو شاید یاد آ گیا کہ وہ مرکزی نقطہ جس کی خاطر انہوں نے یہاں آنے کی دعوت قبول کی تھی اس کا تو پورے فسانے میں کہیں
مزید پڑھیے


کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ!

منگل 03 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
افغانستان کے کٹھ پتلی صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے امریکہ طالبان معاہدے کے مطابق پانچ ہزار طالبان قیدی رہا کرنے سے یہ کہہ کرانکار کر دیا ہے کہ انہوں نے ان قیدیوں کی رہائی کا وعدہ نہیں کیا‘ ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات میں اشرف غنی شریک تھے نہ فریق‘ کابل میں ان کی حیثیت وہی ہے جوہمارے دیہاتوں میں سردار کے کسی گماشتے کی‘ تین لاکھ سے زائد افغان فوج وجود میں آ چکی ہے مگر موصوف اپنی سکیورٹی کے لئے امریکیوں کے محتاج ہیں‘ حالیہ صدارتی الیکشن کے نتائج کو ڈاکٹر عبداللہ
مزید پڑھیے