Common frontend top

ارشاد احمد عارف


وہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا


بالآخر ’’سول بالادستی‘‘ ‘ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اور ’’منتخب عوامی نمائندوں کی عملداری‘‘ کا بیانیہ دفن کر کے میاں نواز شریف‘ آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن اُسی عطار کے لڑکے سے دوا لینے پہنچ گئے جس کے سبب جمہوریت پسندوں کے بقول’’ میر صاحب بیمار و لاچار ہیں‘‘ تحریک عدم اعتماد اس ماہ پیش ہو یا اگلے ماہ‘یہ طے ہے کہ مسلم لیگ(ن) پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کا حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی آپشن پر اتحاد جمہوریت کے غم میں نہیں‘کسی کی خوشی و خوشنودی کے لئے ہوا۔ کونسل آف نیشنل افیئرز کی ہفتہ وار
اتوار 20 فروری 2022ء مزید پڑھیے

یہ دنیا ہے، یہاں ہر بات ممکن ہے

منگل 15 فروری 2022ء
ارشاد احمد عارف
یہ 1993ء کی بات ہے‘ سپریم کورٹ نے صدارتی حکم نامے کو غیر آئینی قرار دے کر میاں نوازشریف کی حکومت اور قومی اسمبلی بحال کر دی تھی اور میاں صاحب نے پنجاب میں غلام حیدر وائیں کی جگہ وزیراعلیٰ منتخب ہونے والے میاں منظور وٹو کی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے لیے ارکان اسمبلی کو دوبارہ مسلم لیگ میں واپس لانے کا ٹاسک چودھری برادران اور سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر کو سونپا تھا‘ دو تین عوامی نمائندے فیصل آباد کے رکن اسمبلی ڈاکٹر محمد شفیق چودھری کی قیادت میں لاہور آئے اور مجھے بھی ساتھ بڑے
مزید پڑھیے


کیسے کیسے لوگ …(3)

پیر 14 فروری 2022ء
ارشاد احمد عارف
یہ بڑے eventfulدن تھے۔بہت کچھ ہو رہا تھا ہمارے اردگرد‘ہمارے ساتھ۔انہی دنوں امتیاز کے جانے کے بعد میں نے آئو دیکھا نہ تائو‘گاڑی میں بیٹھی اور ٹک ٹک کرتی بابا جان کے پاس چلی گئی۔نہ اپوائنٹمنٹ لی‘نہ پروٹوکول دیکھا‘نہ متعارف ہونے کا انتظار کیا۔یہ بڑی غیر معمولی ملاقات تھی۔ جب میں وہاں پہنچی تو انہوں نے مجھے بٹھایا‘سبز چائے منگوائی اور پوچھا :کیا بات ہے؟ میں نے اپنی مصیبتوں کا ذکر کیا‘جن سے گزر رہی تھی اور پھر کہا کہ ان باتوں کے علاوہ میری اندرونی کیفیت بھی بڑی دگرگوں ہے۔نہ میں دھیان گیان کر سکتی ہوں‘نہ کچھ سوچ سکتی ہوں۔باتوں باتوں
مزید پڑھیے


کیسے کیسے لوگ (2)

اتوار 13 فروری 2022ء
ارشاد احمد عارف
وہ تھک کر چپ ہو گئیں مگر میں نے انہیں پھر اکسایا۔میں اس پورے سیاق وسباق سے واقف ہونا چاہتی تھی جس میں روبینہ باجی درانی صاحب(عبیداللہ درانی) سے ملی تھیں…یہ حالا ت تھے جب آغا جی کو فالج کا حملہ ہوا اور ہم پہنچ گئے پشاور ۔پشاور ایئر پورٹ پرہماری ملاقات درانی صاحبؒ سے ہوئی درانی صاحبؒ میرے سسر آغا جی کو پہلے سے جانتے تھے۔ میرے سسر ڈاکٹر نوازش علی قزلباش بھی پروفیسر تھے اور درانی صاحبؒ بھی پروفیسر تھے۔وہ باٹنی کے پروفیسر تھے اور درانی صاحبؒ انجینئرنگ کے پروفیسر تھے۔آغا جی نے بھی فارماسوٹیکل باٹنی میں کافی ریسرچ
مزید پڑھیے


کیسے کیسے لوگ

هفته 12 فروری 2022ء
ارشاد احمد عارف
عزیزم محمود الحسن کو اللہ تعالیٰ خوش رکھے‘قابل مطالعہ کتابوں کی کھوج کرتے اور مجھے لا دیتے ہیں کہ ذوق مطالعہ کی تسکین کر سکوں‘نجیبہ عارف کی کتاب ’’راگنی کی کھوج‘‘ انہی میں سے ایک جسے پڑھتے ہوئے میں نے خوش ذوق قارئین کو شریک مطالعہ کرنا مناسب سمجھا‘کتاب بنیادی طور پر نجیبہ عارف کے روحانی تجربات کا نچوڑ ہے اور مصنفہ کے مرشد عبیداللہ خان درانی ؒکے علمی‘اخلاقی اور صوفیانہ کمالات کا تذکرہ‘ لکھتی ہیں ’’روبینہ باجی ‘آپ بابا جان سے کب‘کیسے اور کیوں ملی تھیں؟‘‘ ’’وہ اس طرح کہ ہمیں اچانک پشاور جانا پڑ گیا تھا۔ہم لاہور میں رہتے
مزید پڑھیے



ہاں یہ نہ ہو کہ ہاتھ سے تلوار گر پڑے

بدھ 09 فروری 2022ء
ارشاد احمد عارف
تین حلیفوں ایم کیو ایم‘ مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے وفاقی حکومت سے شکوے شکایات‘ اپوزیشن جماعتوں سے ایم کیو ایم کے رابطوں اور مسلم لیگ ن و پیپلزپارٹی کی سرگرمیوں سے بظاہر گماں یہی گزرتا ہے کہ سیاسی بحران تحریک انصاف اور عمران خان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ امریکہ کی موجودہ حکمرانوں سے بے اعتنائی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو ہمارے سیاسی منظر نامے سے جوڑ کر دیکھا جائے تو اپوزیشن کے بعض رہنمائوں کی پیش گوئیوں پر یقین آنے لگتا ہے کہ واقعی ع جی کا جانا
مزید پڑھیے


سازشی تھیوری

منگل 08 فروری 2022ء
ارشاد احمد عارف
جناب آصف علی زرداری کی اپنے ولی عہد بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ ماڈل ٹائون میں میاں شہباز شریف کے گھر آمد اور عمران حکومت کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق رائے اس ہفتے کی بڑی خبر ہے‘گزشتہ سال سینٹ انتخابات کے موقع پر آصف علی زرداری کی حکمت عملی کامیابی سے دوچار ہوئی‘مخدوم یوسف رضا گیلانی نے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے اُمیدوار حفیظ شیخ کو چاروں شانے چت کر ڈالا اور عمران خان کے مخالفین کے علاوہ حامیوں کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ متحدہ اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے حکومت کا تختہ
مزید پڑھیے


بدلنا ہے تو مے بدلو‘نظام مے کشی بدلو

منگل 01 فروری 2022ء
ارشاد احمد عارف
سوشل میڈیا پر صدارتی نظام کی بحث باسی کڑھی میں اُبال ہے یا کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ؟اگر پاکستان میں مجاہدین جمہوریت کی سوچی سمجھی رائے کے مطابق صدارتی نظام فیلڈ مارشل ایوب خان‘ جنرل (ر) یحییٰ خان‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں آزمایا گیا اور ناکام ثابت ہوا تو ہر چند سال بعد یہ بحث دوبارہ کیوں شروع ہوتی اور پارلیمانی جمہوری نظام کے پرجوش پیروکاروں کی نیندیں حرام کیوں کر دیتی ہے؟ دنیا بھر میں کئی طرح کے سیاسی نظام رائج اور کامیاب ہیں‘پارلیمانی نظام ان تمام ممالک میں جڑیں پکڑ چکا ہے
مزید پڑھیے


سروے‘سروے ہوتا ہے

جمعرات 20 جنوری 2022ء
ارشاد احمد عارف
دست شناسوں‘نجومیوں اور زائچہ نویسوں کی پیش گوئیوںکی طرح میں نے سیاسی جماعتوں اور شخصیات کے بارے میں مختلف سروے رپورٹوں پر کبھی اعتبار نہیں کیا‘چوالیس سالہ صحافتی زندگی میں نامی گرامی ماہرین فلکیات اور دست شناسوں کی پیش گوئیوں کو میں نے غلط ہوتے دیکھا اور صرف مقامی نہیں بین الاقوامی شہرت کے اداروں کی سروے رپورٹیں جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئیں ‘سال ڈیڑھ سال قبل امریکہ اور برطانیہ کے معتبر تعلیمی اداروں نے سائنسی بنیادوں پر پاکستان میں کورونا سے لاکھوں اموات کی پیش گوئی کی‘عوامی سطح پر شورش کے خدشات ظاہر کئے‘مگر ہوا اس کے بالکل اُلٹ‘شرح
مزید پڑھیے


بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے

منگل 18 جنوری 2022ء
ارشاد احمد عارف
اکیلے نور عالم خان نہیں‘تحریک انصاف میں بے چینی کا شکار کئی دوسرے ارکان بھی ہیں‘صرف ارکان پارلیمنٹ نہیں‘دو تین وفاقی وزراء بھی‘شکایات کی نوعیت الگ الگ ہے‘سو باتوں کی ایک بات بقول اقبالؒ : کوئی کارواں سے ٹوٹا‘کوئی بدگماں حرم سے کہ امیرکارواں میں‘نہیں خوئے دلنوازی تحریک انصاف کے بیشتر ارکان پارلیمنٹ مجلسی گفتگو میں گلے شکوے کرتے تھکتے نہیں‘یہی حال مسلم لیگ(ن) اور میاں نواز شریف کے پیروکار پارلیمانی نمائندوں کا ہے‘اوّل الذکر عمران خان کی بے نیازی کو اپنی کم نصیبی سے تعبیر کرتے اور خاص مواقع پر عمران خان کی لچھے دار گفتگو کو حکمرانوں کے روائتی بول بچن
مزید پڑھیے








اہم خبریں