BN

ارشاد احمد عارف


سازشی منصوبہ اور گفتار کے غازی


1969ء اور 1977ء کا تلخ تجربہ قوم کو بھولا نہیں مگر ہمارے اہل مذہب و سیاست اسے دہرانے پر تل گئے ہیں۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو چھوڑ کرپی ڈی ایم کے سارے خوردو کلاں عمران خان کی حکومت کو گرانے اور دفاع وطن کے ذمہ دار اداروں فوج و آئی ایس آئی کے سربراہوں کو نیچا دکھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور لیبل اس سعی نامشکور پر’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا لگا رکھا ہے۔ صرف پاکستانی ہی نہیں تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں بھی سیاسی تحریکوں کو مفاد پرست عناصر اور
منگل 19 جنوری 2021ء مزید پڑھیے

توں ڈیوا بال کے رکھ چا‘ہوا جانے خدا جانے

اتوار 17 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
کورونا اور سردی نے مل کر آمدورفت محدود کر دی ہے‘ دفتری مصروفیات سے بچا کھچا وقت اب مجلسوں اور تقریبات کی نذر نہیں ہوتا‘ اللہ تعالیٰ نے رزق کا وسیلہ ایسے شعبے کو بنایا جہاں خبروں اور معلومات کی فراوانی ہے اور فارغ اوقات میں ٹی وی دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی‘ فلموں اور ڈراموں سے خاص رغبت نہیں‘ کتابیں ہی ان دنوں تنہائی کی ساتھی ہیں۔ رسول حمزہ توف کی کتاب ’’میرا داغستان‘‘ سابق چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی خودنوشت سوانح عمری ’’ارشاد نامہ‘‘ شیخ منظور الٰہی کی خود نوشت’’ہم کہاں کے دانا تھے‘‘ صحافی فیض
مزید پڑھیے


مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو

جمعه 15 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
رات سی این این لگایا تو امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی لائیو دکھائی جا رہی تھی سوچا ایک آدھ گھنٹے میں تقریریں ختم اور ووٹنگ شروع ہو جائیگی ‘دیکھیں تقریروں کا انداز کیا ہے؟ سپیکر نینسی پلوسی ڈیمو کریٹ اور ری پبلکن پارٹی کے نمائندوں کو اظہار خیال کے لئے بیس‘ تیس سکینڈ اور زیادہ سے زیادہ ایک منٹ کا وقت دے رہی تھیں مگر یہ بحث شیطان کی آنت کی طرح پھیلتی چلی گئی اور رات اڑھائی بجے کہیں جا کر مواخذے کے خلاف اورحق میں پڑنے والے الیکٹرانک ووٹوں کی گنتی مکمل
مزید پڑھیے


عدو شرے برانگیزد کہ خیر مادر اں باشد

جمعرات 14 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
عمران خان عربی فارسی کا ذوق نہیں رکھتے۔ نوابزادہ نصراللہ خان،ممتاز محمد خان دولتانہ اور مشتاق احمد گورمانی کی طرح شعرو شاعری سے شغف بھی نہیں، ورنہ ان دنوں ایک فارسی مصرعہ گنگنایا کرتے : عدو شرے برانگیزد کہ خیر مادر اں باشد پی ڈی ایم میں شامل دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحمن سے ایک بار پھر وہی سلوک کیا ‘ جس کا انہیں وہ مستحق سمجھتی ہیں۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد حضرت مولانا کے والد مفتی محمود مرحوم نے صوبائی وزارت اعلیٰ پر اپنا حق جتلایا تو عبدالولی خان نے پھبتی کسی کہ
مزید پڑھیے


صدر ضیا‘ کنعان ایورن اور رفیق تارڑ

اتوار 10 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
برادرم حفیظ قریشی کے توسط سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ارشاد حسن خان نے اپنی خود نوشت سوانح’’ارشاد نامہ‘‘ ارسال کی ہے‘ جسٹس منیر‘ جسٹس انوار الحق کی طرح جسٹس ارشاد حسن خان بھی ہماری عدالتی تاریخ کے متنازعہ کردار ہیں‘ سیاستدانوں نے اپنی غلطیوں‘ کمزوریوں اور دوغلے پن کا ملبہ فوجی اور عدالتی کرداروں پر ڈال کر ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں ان سے زیادہ معصوم‘ مظلوم اور بے یارو مددگار مخلوق اور کوئی نہیں۔ ارشاد نامہ میں ارشاد حسن خان نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے جس سے اختلاف اور اتفاق کا
مزید پڑھیے



پی ڈی ایم ‘مِری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی

جمعه 08 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
پی ڈی ایم کی شکل میں ایک انمل بے جوڑ اتحاد ابتدائے آفرنیش سے ہی پکار پکار کر کہہ رہا تھا ع مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی ماضی میں جتنے بھی سیاسی اتحادوجود میں آئے ‘ان میں نظریاتی ہم آہنگی کا فقدان ضرور تھا‘ شامل جماعتوں اور قیادتوں کا اپنا اپنا پروگرام اور ایجنڈا بھی کسی سے مخفی نہ تھا ‘مگر ان اتحادوں کی تشکیل سے پہلے کم از کم نکات پر اتفاق رائے اور یکساں بیانیے کی تشکیل کا کوہ ہمالیہ سر کر لیا گیا اور ان کم از کم نکات پر ہر جماعت کی
مزید پڑھیے


نہ دیکھا ‘غم دوستاں شکر ہے

جمعرات 07 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
مریم بیٹی نے افسردہ لہجے میں فون پر رئوف طاہر صاحب کی مرگ ناگہانی کا ذکر کیا تو یقین نہ آیا‘ رئوف طاہر صاحب کا نمبر ملایا تو عزیزم آصف طاہر بس اتنا کہہ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ’’انکل ابو…‘‘اس سے زیادہ وہ کچھ بول پائے نہ مجھے مزید پوچھنے کا یارا نہ رہا۔ دل میں آس اُمید کا دیا بجھ گیا جو اختر حسین جعفری کے الفاظ میں’’یا الٰہی مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہو‘‘ کی دعا کے ساتھ ٹمٹا رہا تھا‘ سوچا ع اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب رئوف طاہر صاحب سے دوستانہ تعلق
مزید پڑھیے


ارشاد نامہ

اتوار 03 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
’’محمد خان جونیجو کی وزارت عظمیٰ کے دوران صدر ضیاء الحق نے ایک اجلاس طلب کیا۔ اقبال احمد خان شاید دل سے مجھے پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ میں پیرزادہ صاحب کے ساتھ کام کرتا رہا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ میں انکو سپورٹ کروں گا حالانکہ میں پروفیشنل آدمی تھا۔ تعلقات اپنی جگہ‘ میں نے کبھی شخصیات و تعلقات کی بناء پر اپنا کام نہیں کیا۔ جو فیصلہ کرتا تھا‘ میرٹ پر کرتا تھا۔ بہرحال ‘ اس اجلاس میں ضیاء الحق نے وزیر قانون کے ساتھ ساتھ مجھے بھی بلایا۔ وزیر اعظم صاحب کے ساتھ اٹارنی جنرل اور ان
مزید پڑھیے


فراغتے و کتابے و خوشہ چمنے

اتوار 20 دسمبر 2020ء
ارشاد احمد عارف
نور نظر آمنہ شاہ سے ملنے‘ نومولود نواسی حلیمہ شاہ کو دیکھنے اور چند دن سیاست و صحافت کے ہنگاموں سے دور رہنے کی خواہش دیار مغرب کے سیاسی و ثقافتی مرکز لندن لے آئی ہے‘ گھر میں مقید نہ سہی محصور ہوں کہ قرنطینہ کے نئے برطانوی قوانین کے تحت کم از کم پانچ دن تک گھر سے باہر نکلنا منع ہے ورنہ ایک ہزار پائونڈ جرمانے کی سزا‘ برطانیہ کے حکمران خاصے ہوشیار ہیں‘ مختلف ممالک نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے قوانین وضع کئے تو ایئر لائنز کو پابند کر دیا کہ صرف مستند لیبارٹریوں سے
مزید پڑھیے


کیسے کیسے لوگ (2)

جمعه 18 دسمبر 2020ء
ارشاد احمد عارف
ایک چھوٹا سا واقعہ یاد آرہا ہے‘ سٹاک ایکسچینج کے حصص پر۔ ڈاکٹر صاحب کے بینک کو ایسے حصص پر منافع کا چیک آ گیا جو وہ بیچ چکے تھے۔ بینک نے وہ منافع ڈاکٹر صاحب کے اکائونٹ میں جمع کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب بینک پہنچ گئے۔ اب نیشنل بینک والے منت کر رہے ہیں کہ شیئر ہولڈر ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ ہم اصل حق دار کو کہاں ڈھونڈیں؟ مگر ڈاکٹر صاحب مُصر ہیں کہ ’’میں حصص بیچ چکا ہوں۔ اس منافع پر میرا کوئی حق نہیں۔‘‘ عمر کے پھیلتے سائے صحت پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ بے خوابی
مزید پڑھیے








اہم خبریں