Common frontend top

فیصل مسعود


کچھ اور نہیں،قومی مفادات مستقل ہوتے ہیں!


دوسری جنگِ عظیم کے بعد جہاں یورپ کی سرحدوں پر نیٹو نامی فوجی اتحاد کھڑا کیا گیا تھا تو وہیں تاریخی سلک روٹ پر سرخ آندھی کو روکنے کے لئے جہادی تنظیموں کی آبیاری کی گئی۔ مسلح مذہبی تحریکیں ہو ں یا تھیوکریٹک ریاستیں ،یہ امرطے شدہے کہ وہاں بالآخر کسی ایک خاص مسلک کی ہی اجارہ داری قائم ہوتی ہے۔صرف ایران ہی نہیں، کئی مثالیں موجود ہیں۔یہ فطری عمل تھا کہ ایرانی انقلاب کے بعد وہاں قائم ہونے والے حکومتی بندوبست میں اکثریتی مذہبی فکر ہی بالا دست رہی۔ اسّی کی دہائی میں جبکہ ایک طرف امریکی چھتری
اتوار 28 اپریل 2024ء مزید پڑھیے

فیض آباد دھرنا اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ

اتوار 21 اپریل 2024ء
فیصل مسعود
ایک سیاسی گروہ ، انصاف کے سیکٹر میں اُس کے طرفدار اور میڈیا میں اُس کے حواری کئی برسوں سے ہمیں یہی بتاتے چلے آئے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈفیض حمید نے ہی فیض آباد دھرنے کے ذریعے اس وقت کی حکومت کو کمزور کئے جانے ، عدالتوں پر اثر انداز ہوکر پہلے اسے گرانے اور بعد ازاں باپ بیٹی کو سزا ئیںدلوانے میں کلیدی کردارکیا تھا۔آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں، یقینا دورِ حاضر کی معتوب جماعت کواس افسوس ناک صورتِ حال سے یکسر بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قومی
مزید پڑھیے


کیا عدالتیں کام کر رہی ہیں!

اتوار 14 اپریل 2024ء
فیصل مسعود
احتجاجی شہریوں کے خلاف ہونے والی ریاستی کارروائیوں کا آغاز 9مئی سے بہت پہلے ہو گیا تھا۔چنانچہ یہ جانے بغیر کہ ایک حالیہ افسوس ناک واقعے میں قصور وار کون ہے،اس بات کا اندازہ لگانا کہ عوام کی غالب اکثریت کی ہمدردیاں کس طرف ہیں،ہر گزدشوار نہیں۔ مہینوں ریاست کے ہاتھوں معتوب رہنے والی سیاسی جماعت کے ہمدردوں اور سوشل میڈیا پر اُن کے ’واریئرز‘ میں حسبِ توقع بہت جوش و خروش دیکھنے کو ملا ہے۔ ہر چند کہ وہ پولیس والوںکی دھلائی پر سرشار رہے، مگر ایک ہی سانس میں فریقِ ثانی کو بھی آڑے ہاتھوں لینے کا
مزید پڑھیے


انصاف کی بات کیوں نہیں کرتے!

اتوار 07 اپریل 2024ء
فیصل مسعود
وطنِ عزیز کو درپیش بحران معاشی نہیں، سیاسی یا قومی سلامتی کا بھی نہیں۔ مسئلہ اخلاقیات کے باب میں دیوالیہ پن کا ہے۔ سر زمینِ پاک کو اللہ نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے۔ مسلسل نا انصافی کے رویے مگرجس دھرتی پرروا رہیں، وہاں سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ خوشے خالی اور پھلوں میں سے رَس اُڑ جاتا ہے۔ نوجوان ہیں، منتظر ہیں کہ کسی سبز چراہ گاہ کو اُڑ جائیں۔ 8فروری والے دن جو جوق در جوق گھروں سے نکلے تھے۔ وہی پرانے چہرے مگر ایک بار پھر مسلط ہیں۔ اپنے ہی حلقے سے ہار گئے تو
مزید پڑھیے


پاک امریکہ عجب تعلقات، عجب مجبوریاں(2)!

اتوار 31 مارچ 2024ء
فیصل مسعود
امریکی صدر نے طویل انتظار کے بعد بالآخر بذریعہ خط شہباز حکومت کے قیام پر گرم جوشی اور کئی معاملات پر تعاون کے اعادے کا اظہار کیا ہے۔اپنے 17مارچ کے اسی عنوان سے لکھے گئے کالم میں ہم پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کے ایک اجمالی جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ امریکہ جمہوریت کا دشمن ہرگزنہیں ،پاکستان کے باب میں بس کچھ مجبوریاں آڑے آجاتی رہی ہیں۔ہم نے یہ بھی دیکھا کہ امریکہ کی پاکستان میں دلچسپی تاریخی طور پر واقعاتی (Transactional)رہی ہے۔چنانچہ سرخ آندھی کے خلاف سلک روٹ پر بندباندھنا ہو، گرم پانیوں تک چین
مزید پڑھیے



راج نیتی کا کھیل اور ہمارے شہدائ!

اتوار 24 مارچ 2024ء
فیصل مسعود
16مارچ کی شب مائوں کے جگر گوشے گھروںکی عافیت سے میلوں دُور سنگلاخ گھاٹیوں میں وطن کی سرحدوں کی نگہبانی پرمامور تھے۔ اسی رات کے پچھلے پہر جب روشنیوں میں نہاتے شہر اور بستیاں سحری کے لئے بیدار ہوئے تو وطن کے بیٹے تاریکی میں حملہ آور ہونے والے دہشت گردوں کے ساتھ نبرد آزما تھے۔ معرکے میں سات خاکی پوشوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان شہیدوں کا تعلق کسی ایک صوبے، ایک شہر، ایک مسلک یا کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں تھا۔ یہ سب پاک فوج کے افسر اور جوان تھے۔ شہید کرنل کے جسدِخاکی کو صدرِ
مزید پڑھیے


پاک امریکہ عجب تعلقات، عجب مجبوریاں !

اتوار 17 مارچ 2024ء
فیصل مسعود
مذہبی طبقے سمیت پاکستانیوں کی ایک معقول تعداد امریکہ کی مسلم مخالف عالمی پالیسیوںکی ہمیشہ سے ناقد رہی ہے۔ امریکی بھی پاکستان پر بھروسہ کرنے سے کتراتے اور خطے میں اس کے عمومی طرزِ عمل پر شاکی رہے ہیں ۔امریکہ سے دوستی ہماری یکطرفہ کاوشوں کا نتیجہ تھی۔ پہلی فوجی آمریت کے دَور میں مگر پاکستان امریکی امداد لینے والا ایک بڑا اتحادی بن چکاتھا۔تاہم سال 1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران جہاں ہمیں امریکی امداد کی بندش نہیں بھولتی تو وہیں سقوطِ ڈھاکہ سے پہلے امریکی بحری بیڑے کے نہ پہنچنے کا ہمارادکھ بھی دائمی
مزید پڑھیے


نگران حکومتیں اور سینٹر صاحب کا شکوہ!

اتوار 10 مارچ 2024ء
فیصل مسعود
ن لیگ کے سینٹر عرفان صدیقی صاحب نے اگلے روز سینٹ کے فلور پراظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا ،’ نہیں معلوم نگران حکومتوں میں شامل افراد کہاں سے آتے ہیں اور پھر کہا ں چلے جاتے ہیں‘۔جہاں تک سینٹر صاحب کے سوال کے پہلے حصے یعنی’ نگرانوں کے آنے‘ کا سوال ہے تواس باب میں ہم تو یہی جانتے ہیں کہ ان کا انتخاب آئین کے مطابق متعلقہ قائدین ایوان و حزبِ اختلاف خاصی چھان پھٹک کے بعدکرتے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد جتنی نگران حکومتیں وجود میں آئیں، با لخصوص اب کی بار جو نگران حکومتیں قائم
مزید پڑھیے


عوامی حمایت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ!

اتوار 03 مارچ 2024ء
فیصل مسعود
بات ان دو احمق وی لاگرز کی نہیں، خود کو جو سابقہ فوجی قرار دیتے ہیں۔ شیر افضل خان مروت نے بجا طور جنہیں ’رانگ نمبرز‘ کہہ کر پکارا ہے۔ فکر مندی ہمیں کروڑوںہم وطنوں کی بے چینی اوران کے طرزِ فکر میں برپا ہونے والی جوہری تبدیلی سے متعلق ہے۔ ان دو وی لاگرز اور ان جیسوں کی مغلظات کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی پہلے بھی ہوتی تھی، ضرور سرحد پار سے اب بھی ہوتی ہو گی۔تاہم یہ کہنا کہ ان جیسوں کے دیکھنے اور سننے والوں میں محض بھارتی اور ’ملک دشمن‘ ہی شامل ہیں
مزید پڑھیے


جمہوریت کے دو چہرے!

اتوار 25 فروری 2024ء
فیصل مسعود
سال2016 ￿ میں ریاستی مشینری پوری قوت کے ساتھ حکمران خاندان کے خلاف بروئے کار تھی۔شنید یہی ہے کہ سال 2016 ء میںبھی اہم تعیناتی حکمران خاندان کی اُس قدیم خواہش کا مظہر رہی کہ جس کاذکر معروف سکالر شجاع نواز نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’دی کراسڈسوورڈز‘ میں تکرار سے کیا ہے۔عام مڈل کلاس پاکستانیوں کی طرح ادارے کے اندر بھی چند خاندانوں کی حکمرانی سے متعلق اکتاہت مگر اس قدر زیادہ تھی کہ توقعات پر پورا اترنا ممکن نہ ہو سکا۔ حریف سیاسی جماعت اس وقت مقتدرہ کے ساتھ شیروشکر تھی۔سال 2018ء کے عام انتخابات
مزید پڑھیے








اہم خبریں