BN

خاور نعیم ہاشمی


ایک شکست خوردہ پریس کانفرنس


پاکستان کی سیاسی اور آمرانہ تاریخ کے ہر دور میں وزیروں اور مشیروں کو جھوٹ بولتے ہوئے دیکھتے چلے آئے ہیں لیکن جس ڈھٹائی سے وزیر مملکت شہریار آفریدی نے پریس کانفرنس کی اس کی شاید ماضی میں کوئی نظیر نہ مل سکے، ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ تھا اور نہ میڈیا کے کسی سوال کا جواب تھا، لگتا تھا ایک جھنجلایا ہوا شخص صحافیوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے، وہ ایک موقع پر ہنسے بھی تو کھسیانی بلی کی طرح دکھائی دیے، لگتا تھا کہ وزیر اعظم سے خوب ڈانٹ پڑی ہے، شہر یار آفریدی اگر سچے
جمعه 27 دسمبر 2019ء

تاریخ نے بولنا شروع کر دیا

اتوار 22 دسمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ سنگین غداری کیس میں سابق آرمی چیف ریٹائرڈ اور جلا وطنی میں سخت بیمار پرویز مشرف کو سزائے موت کے فیصلے والا سین گزر چکا ہے اور سزائے موت کے تفصیلی فیصلے کا سین اتنا زیادہ پھیل چکا ہے کہ اگلا سین سسپنس بن چکا ہے، لگتا ہے کہ سسپنس والا تیسرا سین نمودار ہونے میں کم از کم ایک ہفتہ تو لگے گا ، لیکن میں اس تھیوری کو نہیں مانتا میرے خیال میں تو جو فیصلے ہو چکے وہ بدلے نہیں جائیں گے، پرویز مشرف سزا کیس میں نا شائستہ اور نا
مزید پڑھیے


کیا ہو رہا ؟؟؟

جمعه 20 دسمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اچھا نہیں ہو رہا، پاکستان میں پہلی بار اہم ترین دو قومی اداروں کے مابین تصادم سے بھی بڑھ کر حالات ہیں، سپریم کورٹ کے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف تفصیلی فیصلے نے تو گویا جلتی پر تیل چھڑک دیا ہے، سوچا تھا کہ جمعہ کا کالم گول کردوں اور قارئین سے اتوار کو مخاطب ہوں، امکان نظر آرہا ہے کہ جب جمعہ کو کالم چھپے گا تو کہیں سب کچھ ہی نہ بدل چکا ہو،،، تفصیلی فیصلے میں لاش کو تین دن تک ڈی چوک میں لٹکانے کے حکم نے سو بچوں
مزید پڑھیے


ڈکٹیٹروں کے بچے جمہوریت کی علامت !

اتوار 15 دسمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
حیران ہوں، پریشان ہوں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ، کیا کروں؟ دماغ میں جو اتھل پتھل جاری ہے اسے ختم کیسے کیا جائے؟ جو سوالات سر اٹھا رہے ہیں ان کے جواب کس سے حاصل کروں؟ مسلسل ان سوچوں میں غلطاں ہوں کہ کیا یہ وہی وکیل ہیں، کیا یہ وہی وکلاء برادری ہے جو اس ملک میں ڈکٹیٹروں کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی کی تحریکوں میں ہراول دستہ ہوا کرتی تھی؟ مفاد پرست اور عوام دشمن وکلاء کے کئی گروپ بھی ہماری زندگی میں سامنے آتے رہے ہیں، آمریت کا ساتھ دینے والی بعض سیاسی اور
مزید پڑھیے


ایک تھا جلال

جمعه 13 دسمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
یہ پچاس کی دہائی کے آخری دو تین سالوں کی بات ہے، میں پانچ سال کا اور میرا بھائی تین سال کا تھا، صبح ناشتہ کے بعد ہماری ماں ہم دونوں بھائیوں کو نہلانا دھلانا شروع کر دیتی تھیں، سردیوں کی دوپہروں میں وہ ہمیں گھر کی چھت پر لے جاتیں، چارپائی پر بٹھا کر روزانہ نیا لباس پہناتیں اور ہمارے بال سنوارتیں، مجھے کہتیں، تمہارے بال لمبے ہیں اس لئے ان پر چڑیا بنا رہی ہوں، اسی دوران بارہ، تیرہ سال کا ایک گورا چٹا پٹھان لڑکا ہمارے گھر میں داخل ہوتا اور ہم دونوں بھائیوں کو چھت سے
مزید پڑھیے



بندر کا انصاف

جمعه 06 دسمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
آپ نے بندر بانٹ کا محاورہ ہزاروں بار سنا ہوگا، ہزاروں بار خود بھی استعمال کیا ہوگا لیکن شاید آپ نے اس محاورے کے پیچھے کہانی کیا ہے وہ کبھی نہ سنی ہو،آج یہ کہانی ہم دوہرا دیتے ہیں تاکہ پاکستان کی ہمیشہ سے قائم سیاست کو سمجھنے میں آپ کو کوئی کوفت نہ ہو، کہانی سنانے سے پہلے ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ دنیا میں جتنے بھی انسان، چرند پرند اور درندے ہیں بندر واحد جانور ہے جس کے دو دماغ ہوتے ہیں، ملائشیا ، سنگا پوراور انڈونیشیا میں بندروں کے دماغ کا سالن مقبول ترین
مزید پڑھیے


چیف جسٹس کو توسیع کیوں نہیں؟

اتوار 01 دسمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
جو لوگ کہتے تھے وزیر اعظم عمران خان دسمبر میں نظر نہیں آئیں گے اب انہوں نے انہیں مارچ2020تک کی ،، توسیع ،، دیدی ہے لیکن میرے خیال میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کے اقتدار کو کم از کم ایک سال کے لئے تو دوام بخش دیا ہے، اب عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ خود کہاں تک ٹھہرتے ہیں، اگر انہوں نے اپنی سیاست اور حکومت کا محور اپنی موجودہ ٹیم کو ہی بنائے رکھا تو کوئی بڑے سے بڑا نجومی بھی کوئی پیش گوئی کرنے سے قاصر رہے گا، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے
مزید پڑھیے


ابھی بات ختم نہیں ہوئی

جمعه 29 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پاکستانی سیاست کی تاریخ دھماکہ خیز واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن جو دھماکے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کر دیے ان کی گونج کبھی ختم نہ ہوگی۔ سوچا تھا اب جمہوریت پٹری پر چڑھ جائے گی۔ 1977ء کے بعد اب تک جمہوریت کا چہرہ داغ دار ہے، اس کی سرجری کی ضرورت تھی، چیف جسٹس اس کے لئے آخری حد تک گئے۔ میرا کیا ہے میں تو دو اور دو چار والا آدمی ہوں اور یہ اصول جذباتیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں کبھی دو اور دو چار نہیں ہوتے۔ بدھ کی رات
مزید پڑھیے


اب پچھتائے کیا ہوت

اتوار 24 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
وزیر اعظم عمران خان چلتے پھرتے نواز شریف کو ٹی وی اسکرینوں پر دیکھ کر بہت پریشان ہیں اور ہماری پریشانی یہ ہے کہ ہم نے نواز شریف اور ان کے خاندان کی بجائے وزیر اعظم پر اعتبار کیا، مریم اورنگ زیب کی نواز شریف کی صحت کے بارے میں روزانہ بریفنگ ہمیں متاثر نہیں کر رہی تھی ہمیں تو نواز شریف کی بیماری کی سنگینی کا اعتبار اس وقت آیا تھا جب خود وزیر اعظم نے اس کی مسلسل تصدیق کی اور اعلان کیا کہ نواز شریف کا علاج ان ڈاکٹروں اور اس اسپتال سے کرایا جائے جہاں
مزید پڑھیے


سب کچھ بدلنے والا ہے

جمعه 22 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پچھلے کالم میں ہم نے لکھا تھا ،، پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں بشمول حلیف جماعتوں کے،سب کی سب پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار کے خلاف متحد ہیں، آج ہم یہ امکان غالب ظاہر کر رہے ہیں کہ اب کوئی’’ دوسرا‘‘ بھی عمران خان کے ساتھ نہیں،،،جن کے بارے میں ایک پیج پر ہونے دعوے کئے جاتے تھے وہ بھی اب عوام کی حالت زار کی جانب دیکھ رہے ہوں گے، وزیر اعظم سوا سال تک جنہیں لٹکانے کے دعوے کرتے رہے وہ بھی بحفاظت ان کی پہنچ سے دور جا چکے، رہی بات آصف زرداری کی تو
مزید پڑھیے