Common frontend top

احسان الرحمٰن


’’کس بھڑ نے کاٹا ہے ۔۔۔‘‘


یہ صرف ایک مہینہ پچیس دن پرانی بات ہے جب آپ کی نظریں اس تحریر پر پھسل رہی ہوں گی تو ایک دن مزید بڑھا لیجئے گا۔ اپنے اسلام آباد میں بیرون ملک سے آئے پاکستانیوں کا جوڑ ہوا ،کنونشن سینٹر میں مختلف ممالک سے آئے پاکستانی بھی شریک تھے اور وہ شدت سے اک شخص کو سننا چاہتے تھے۔ ان کا جوش انکے تمتماتے چہرو ں سے عیاں تھا۔ یہ پرجوش بھی تھے اور متجسس بھی ،پنڈال میں نعروں کی آوازیں ان کے جوش کی خبر دے رہی تھیں‘ پرجوش نعروںمیں وہ دراز قامت ہینڈسم سفید قمیض شلوار پر
بدھ 11 مئی 2022ء مزید پڑھیے

’’ پستی بھی کوئی پستی ہے‘‘

پیر 02 مئی 2022ء
احسان الرحمٰن
حضرت ثابت بن قیس جلیل القدر صحابی تھے رسول اللہﷺ سے دیوانہ وار محبت کرتے تھے سرکار ﷺ کی محفل میں حاضری کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے کہ جب تک چہرہ انور دیکھ نہ لیتے قرار نہ آتا لیکن عجیب ہوا کہ ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کی محفل میں آنا چھوڑ دیا آقا ﷺ نے بھی اپنے ساتھی ثابت بن قیسؓ کی کمی محسوس کی اورایک دن ان کے پڑوسی سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے استفسار کرنے لگے کہ ثابت کہاں ہیں کیسے ہیں۔ سعد بن
مزید پڑھیے


یہودیوں کی پلاننگ

جمعرات 28 اپریل 2022ء
احسان الرحمٰن
ڈاکٹر عامر طہ سین سیرت نگار ،محقق،مقرر،مفکر ،کالم نگار اور بلاگرہیں ،مدارس میں اصلاحات اورادیان میں رواداری ان کے خاص موضوع ہیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے مختلف زاویوں پر لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں ان کا کمال ان کی زاویہ نگاہ ہے وہ جس انداز سے کسی معاملے کودیکھتے ہیںاور پرکھتے ہیں وہ اسے خاص بنا دیتاہے ،ڈاکٹر صاحب آٹھ بار حکومت کی جانب سے بہترین سیرت نگار کا ایوارڈ لے چکے ہیں اور آج کل رحمت اللعالمین اتھارٹی میںفرائض انجام دے رہے ہیں ڈاکٹر صاحب کے والد مرحوم مولانا طہ سین اپنے وقت کے بڑے عالم
مزید پڑھیے


’’ توشہ خانے کا حمام اور سید منور حسن‘‘

جمعرات 21 اپریل 2022ء
احسان الرحمٰن
جماعت اسلامی کراچی کے مرکز ادارہ نور ِحق میں سعید عثمانی صاحب کی پہچان ان کے برجستہ جملے اور دو انگلیوں میں دبی سگریٹ ہوا کرتی تھی۔ وہ بڑے دھڑلے سے سگریٹ کے کش لگایا کرتے تھے اور اس معاملے میں انہوں نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا ۔سعید عثمانی صاحب جماعت اسلامی کے دیرینہ رفقاء میں سے ہیں اور جماعت کے ایسے خیر خواہ ہیں جو بیک وقت جماعت اسلامی کے کڑے ناقد بھی ہیں اور وکیل بھی ۔میںنے انہیں ادارہ نور حق میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے دو انگلیوں میں سگریٹ داب کر مٹھی بناتے ہوئے کش لگاتے دیکھاہے۔
مزید پڑھیے


’’لڑا دے ممولے کو شہباز سے‘‘

جمعه 15 اپریل 2022ء
احسان الرحمٰن
میڈیامیں آجکل غیرت ،قومی حمیت ،خودداری کے الفاظ کثرت سے سننے کو مل رہے ہیں،حال ہی میں تخت گنوانے والی حکمران جماعت کے سربراہ سابق وزیر اعظم عمران خان صاحب قومی حمیت کے معنی سمجھانے کی مہم پر ہیں ،نوجوانوں کو خودداری کا مفہوم پڑھایا جارہا ہے سمجھایا جارہا ہے جلسوں میں طربیہ ترانے بجائے جارہے ہیں ’’غیرت ہے بڑی چیزجہان تگ و دو میں پہناتی ہے درویش کو تاج سردارا‘‘ تیرہ اپریل کی رات پی ٹی آئی نے پشاور میں بہترین پاور شو کیااور اپنے مسلز دکھائے ،جلسے میں سابق وزیر اعظم نے لوگوں
مزید پڑھیے



’’بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘

جمعرات 31 مارچ 2022ء
احسان الرحمٰن
ماحول گرم ہے البتہ بساط لپیٹی جا رہی معلوم ہوتی ہے۔ حریف پیشانی پر بل ڈالے،پلکیں جھپکے بغیر ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے چالیں چل رہے ہیں ، وزیر آگے بڑھائے اور پیادے پٹوائے جارہے ہیں کبھی یہاں سے چال پر وہ مارا کے نعرے بلند ہوتے ہیں اور کبھی اپوزیشن چال چل کر مونچھوں کو تاؤ دے رہی ہوتی ہے ۔صورتحال پل پل میں بدل رہی ہے وہ لوگ جو وزیر اعظم ہاؤس کی انتظار گاہ میں صوفہ پچکائے ملاقات کے اذن میں گھنٹوں بیٹھنے کے بعد نامراد واپس جاتے تھے جن سے ملنا وقت کا ضیاع
مزید پڑھیے


’’فرصت ملے تو چشم ندامت اٹھایئے‘‘

هفته 26 مارچ 2022ء
احسان الرحمٰن
میںکئی دن سے سوشل میڈیا پر گردش کرتی اک لاش کی تصویر سے نظریں چراتا پھر رہا ہوں ،صحافی ہونے کے ناطے سوشل میڈیا پر نظریں ڈالے بنا گزارا بھی نہیں۔ حالات ہی ایسے ہیں کہ جانے کب کیا ہوجائے جب بھی سوشل میڈیا پرجاتا ہوں سنولائی ہوئی رنگت والا وہ چہرہ سامنے آجاتا ہے،سر پر بندھارومال ، ادھ کھلا منہ ،سوال لئے کرب ناک آنکھیں جیسے پوچھ رہی ہوں غربت کی سزا موت ہی ہے تو مجھے بہت پہلے ہی مار دینا چاہئے تھا ،مجھے روز روز جینے اور مرنے کے لئے کیوں چھوڑا گیا تھا۔یہ تصویر دیکھ کر
مزید پڑھیے


’’ ضمیر کی انگڑائی‘‘

اتوار 20 مارچ 2022ء
احسان الرحمٰن
یہ یکم اگست 2019کی بات ہے اسلام آباد کا موسم ہی حبس زدہ نہ تھا، سیاسی فضا میں بھی کافی گھٹن تھی ،حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے ایک بارپر سینگوں میں سینگ پھنسائے ہوئے تھے۔ایوان بالا کے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوچکی تھی، ایک طرف متحدہ اپوزیشن تھی جو ایوان بالا کے خوش گفتار چیئرمین صادق سنجرانی کو ان کی نشست سے ہٹا کر اپنے ساتھ ایوان میں بٹھاناچاہتی تھی اور دوسری جانب حکومت اور ان کے اتحادی تھے جو ہر قیمت پر صادق سنجرانی کے خلاف اس جمہوری بغاوت کو کچلناچاہتے تھے صادق سنجرانی صاحب
مزید پڑھیے


’’ وزیر اعظم صاحب !یہ تو کھیل کا حصہ ہے ‘‘

جمعرات 10 مارچ 2022ء
احسان الرحمٰن
سوچ رہا ہوں کہ کیا ہوگا ۔۔۔یہ سوچتے ہوئے بدقسمت اور بے نشاں قبر کے مکیں مغل شہزادے دارا شکوہ یاد آگیاجس نے 20مارچ 1615ء کو اجمیر شریف میں ہندوستان کے پانچویں شہنشاہ ،شہاب الدین محمد شاہ جہاں خرم کی دوسری اورچہیتی ملکہ ممتاز محل کے بطن سے جنم لیاتھا کہتے ہیں اس کی ولادت کے لیے شاہ جہاں نے خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر جا کر منت مانی تھی اس کے دادا شہنشاہ جہانگیر نے بڑی چاہ سے اس کا نام’’محمددارا شکوہ‘‘ رکھاتھا داراشکوہ اپنے والد شاہ جہا ں کا بڑالاڈلا تھا۔ شاہ جہاں کو اسکی دوری
مزید پڑھیے


’’ہمارے سوکنی سفارت خانے ‘‘

منگل 01 مارچ 2022ء
احسان الرحمٰن
جب کبھی دور پار سے آنے والوں سے ملاقات ہوتی ہے تو اپنا احساس محرومی اندرہی اندر غدر مچا دیتا ہے ایسی ہی کچھ کیفیت نثار بھائی سے ملاقات کے بعد ہوئی۔ نثار بھائی اور میں کراچی کے ڈی جے کالج میں ہوتے تھے،وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ تک ’’ڈی جیرین ‘‘کی فہرست بنائی جائے تو سچ میں پوری کتاب مرتب ہوجائے۔ تب کراچی میں تعلیمی نظام کو گھن لگ رہا تھا لگ نہیں چکا تھا۔کالجوں میں پڑھائی کم اورطلبہ تنظیمیں مخالفین کی ٹھکائی زیادہ لگاتی تھیں لیکن ڈی جے کالج میں فرق یہ تھا کہ یہاں باقاعدہ کلاسز
مزید پڑھیے








اہم خبریں