Common frontend top

ڈاکٹر طاہر اشرف


شی جن پنگ اور پیوٹن کے مابین حالیہ ورچوئل ملاقات


چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے 15 دسمبر کو ورچوئل بات چیت کی ہے کیونکہ دونوں رہنماؤں کو الگ الگ محاذوں پر امریکہ سمیت مغربی ممالک کے دباؤ کا سامنا ہے۔ 2013ء سے دونوں رہنماؤں کے مابین 37 ویں جبکہ دوسری ورچوئل ملاقات تھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے 2019 ء میں صدر پیوٹن کو اپنا "بہترین دوست" قرار دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو سراہتے ہوئے انہیں'' 21 ویں صدی میں بین ریاستی تعاون کی ایک مناسب مثال" قرار دیا ہے۔ انہوں نے
پیر 20 دسمبر 2021ء مزید پڑھیے

روسی صدر کا دورہ بھارت ،خطے پر ممکنہ اثرات

منگل 14 دسمبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
روس کے صدر ولادی میر پیوٹن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مابین گزشتہ ہفتے دہلی میں ملاقات ہوئی ہے۔ روسی صدر پیوٹن کا حالیہ دورہ ہندوستان، روس اور ہندوستان کی قیادت کے درمیان روس،ہندوستان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے تحت سالانہ سربراہی اجلاس کے سلسلے میں تھا۔ گزشتہ سال COVID-19 کی وجہ سے میٹنگ نہیں ہوسکی تھی اور یہ 21 واں روس،انڈیا سربراہی اِجلاس تھا جِس کا مقصد روس اور ہندوستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینا تھا جسے "انڈیا،روس خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ" کہا جاتا ہے۔ روس بھارت اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں حالیہ اختلافات کا سلسلہ
مزید پڑھیے


بائیڈن اور شِی کی ورچوئل ملاقات سرد جنگ روک سکے گی؟

پیر 22 نومبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ نے گزشتہ ہفتے ویڈیو لنک کے ذریعے ملاقات کی ہے۔ منفرد نوعیت کی یہ ملاقات واشنگٹن کے وقت کے مطابق پیر کو دیر سے جبکہ بیجنگ میں منگل کو دِن کے اوقات میں ہوئی اور ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہی۔ جنوری 2021 ء میں بائیڈن کے بطور صدر منتخب ہونے کے بعد سے یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی سربراہی ملاقات تھی (اگرچہ ورچوئل تھی)۔ COVID-19 پابندیوں کی وجہ سے دونوں رہنماؤں کے مابین اِس سے پہلے کوئی ملاقات نہیں ہو سکی۔ یہ میٹنگ دنیا کی توجہ کا مرکز
مزید پڑھیے


اَفغانستان کی بِگڑتی صورتِ حال

پیر 15 نومبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
ٹرائیکا پلس نے گزشتہ جمعرات کو تین ماہ کے وقفے کے بعد اِسلام آباد میں منعقد ہونے والے اپنے اِجلاس میں افغان طالبان حکومت کو پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنانے کا ایک واضح پیغام دیا ہے۔پندرہ نکات پر مشتمل مشترکہ اِعلامیے میں نگران افغان حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے عالمی طور پر قبول شدہ اصول اور بنیادی انسانی حقوق سمیت اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔اور اپنی سرزمین پر غیر ملکی شہریوں اور اداروں کے تحفظ اور جائز حقوق کا تحفظ کرے۔ ٹرائیکا پلس امریکہ، روس، چین اور پاکستان
مزید پڑھیے


مسئلہ کشمیر

پیر 01 نومبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے گزشتہ ہفتے بھارت کے ناجائز زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کا دورہ کیا ہے۔ 5 اگست 2019 کو مرکزی حکومت کی اشتعال انگیز اور متنازعہ کارروائیوں کے بعد بھارتکے وزیرِ داخلہ کا یہ پہلا دورہ تھا۔ 5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد، ریاست جموں و کشمیر (جس میں لداخ بھی شامل تھا) کو تقسیم کیا اور اس کی حیثیت کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں (یونین ٹیریٹریز) میں بدل دیا۔ یعنی جموں و کشمیر اور لداخ۔ اس کے نتیجے میں کشمیر میں جاری آزادی کی
مزید پڑھیے



امریکہ اور چین کے مابین سرد جنگ کا آغاز

پیر 25 اکتوبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
صدر جو بائیڈن نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکہ تائیوان کا دفاع کرے گا۔ سی این این کی ایک ٹاؤن ہال تقریب کے موقع پر حالیہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہ چین نے ہائپرسونک میزائل کا تجربہ کیا ہے جب صدر بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ "تائیوان کی حفاظت کا عہد" کر سکتے ہیں ، اور وہ چین کی عسکری ترقی کو جاری رکھنے کے لیے کیا کریں گے تو امریکی صدر نے جواب دیا: "ہاں اور ہاں۔ اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں
مزید پڑھیے


پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا مستقبل؟

پیر 18 اکتوبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
پاکستان اور امریکہ کے درمیان موجودہ باہمی تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں جنہیں جمود کی کیفیت سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں بھی دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات اتار چڑھاؤ کی صورتحال کا سامنا کرتے رہے ہیں مگر جب سے جو بائیڈن نے امریکی صدارت سنبھالی ہے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں موجودہ سرد مہری کے پیچھے ایک اہم عنصر افغانستان کی صورتحال ہے خصوصی طور پر جب سے افغانستان میں طالبان نے حکومت کی باگ ڈور
مزید پڑھیے


افغانستان، ایران تعلقات کا مستقبل

پیر 11 اکتوبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
کون کہہ سکتا تھا کہ افغان طالبان اور ایران کے مابین باہمی قریبی تعلقات بھی قائم ہوسکتے ہیں مگر دونوں نے نہ صرف باہمی روابط استوار کیے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کیا۔1996 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام میں آنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کے بگاڑ میں اِضافہ ہونا شروع ہوگیا اور اِس کی توقع بھی کی جا رہی تھی کیونکہ دونوں ملکوں میں اِسلام کے مختلف مسالک کو ماننے والے اور سخت گیر موّقف کے حامل گروپوں کو حکومتی نظام میں مرکزی فوقیت حاصل تھی۔ اِسی پس منظر میں1998
مزید پڑھیے


امریکہ،فرانس تعلقات میں دراڑ کے یورپی یونین پر ممکنہ اثرات

اتوار 03 اکتوبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دینا اور اس کا تحفظ یقینی بنانا انسانی فطرت میں شامل ہے۔قومیں اور ملک افراد سے بنتے ہیں،اِسی لیے انکے رویے بھی انسانی فطرت کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں اور عالمی سیاست کے اَکھاڑے میں ہر ملک اپنے مفاد کو عزیز رکھتا ہے اور اِسی کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ اِس کی تازہ مثال فرانس اور امریکہ کے درمیان باہمی تعلقات کی حالیہ نوعیت کی دی جا سکتی ہے۔فرانس اور امریکہ کے باہمی قریبی تعلقات صدی پرانے ہیں،دونوں ملک جنگ عظیم اوّل اور جنگ عظیم دوئم میں بھی حلیف تھے جبکہ جنگ عظیم
مزید پڑھیے


افغانستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کا ممکنہ کردار

منگل 21  ستمبر 2021ء
ڈاکٹر طاہر اشرف
گزشتہ ہفتے تاجکستان کے شہر دوشنبے میں منعقد ہو نے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے 20 ویں سربراہی اجلاس میں افغان طالبان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ امریکی پسپائی اور طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد مزید جامع حکومت کو اقتدار سونپیں اور مغرب کو بالعموم اور امریکہ کو خاص طور پر یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ گزشتہ ماہ ملک میں اپنی 20 سالہ موجودگی کو ختم کرنے کے بعد افغانستان میں انسانی تباہی کی بحران سے بچنے میں مدد کریں۔ علاقائی تعاون ، افغانستان میں جاری
مزید پڑھیے








اہم خبریں