محمد عامر خاکوانی


افغان طالبان، چند مغالطے، مبالغے


افغان طالبان اور امریکہ کے مابین امن معاہدہ ہونے کے فوراً بعد ہی افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے آنے والے منفی ردعمل نے کئی اہم سوالات پیدا کئے ہیں۔ یوں لگ رہا ہے کہ اس امن معاہدہ سے افغانستان میں امن پیدا ہونے کی جو خواہش پیدا ہوئی تھی، وہ اتنا جلد شائد پورا نہ ہو ، ابھی کچھ مراحل سے گزرنا پڑے گا۔یہ نکتہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ معاہدہ بنیادی طور پر امریکہ اور افغان طالبان کے مابین ہوا اور طالبان صرف امریکی فوجوں پر حملہ نہ کرنے کے پابند ہیں، جبکہ افغان حکومت اور
جمعرات 05 مارچ 2020ء

طالبان امریکہ امن معاہدہ،کون فتح یاب ہوا؟

اتوار 01 مارچ 2020ء
محمد عامر خاکوانی
افغان طالبان اور امریکہ کے مابین امن معاہدہ ہوجانے کے بعد افغان مسئلے ختم نہیں ہوگئے، ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ اس میں بہرحال کوئی شک نہیں کہ یہ معاہدہ اس اٹھارہ انیس سالہ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بہت اہم موڑ ہے۔ جس طرح ہر معاہدے میں ہوتا ہے، فطری طور پر اس بار بھی یہ سوال پیدا ہوا کہ کون سا فریق فاتح ہے ؟ کسے ایڈوانٹیج ملا اور کون گھاٹے میں رہا؟ نائن الیون کے بعد افغانستان کے تبدیل شدہ منظرنامے کے تین چار بنیادی فریق یا سٹیک ہولڈر ہیں اور ایک دو ضمنی مگر اہم
مزید پڑھیے


افغان طالبان، ایک بنیادی سوال کا جائزہ

بدھ 26 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
افغان طالبان اور پاکستانی ریاست کی افغان پالیسی کے حوالے سے گزشتہ کالم کو اپنی فیس بک وال پر شیئر کیا تو بعض دوستوں نے سوالات اٹھائے۔ افغان ایشو اب خاصا پیچیدہ ہوچکا ہے، اس کے کئی پہلوا ور پرتیں ہیں۔ اس سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔ایک اہم ترین سوال جو سامنے آیا ہے اس پر بات کرتے ہیں۔ پاکستان افغان طالبان کی حمایت کیوں کر رہا ہے ؟ یہ بڑا بنیادی نوعیت کا سوال ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد کئی غلطیاں کیں۔ ان کا فہم
مزید پڑھیے


افغانستان کے حوالے سے ہم درست تھے

منگل 25 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستان میں ایک عام رواج ہے کہ ہمارے بیشتر اہل دانش ، لکھاری اور تجزیہ نگاری کے خواہش مند حضرات مختلف حیلوں بہانوں سے پاکستانی ریاست اور ریاستی پالیسیوں کے لتے لیتے رہتے ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی نکتہ کھوج کر یہ ثابت کیا جاتا ہے ہماری تمام پالیسیاںغلط تھیں اور بحیثیت قوم ، بحیثیت ریاست ہم مکمل طور پر ناکام رہے۔ ہم یہ ہرگز نہیں کہہ رہے کہ ماضی میں غلطیاں نہیں ہوئیں۔یہ کہنا مگر ٹھیک نہیںکہ ہم نے سب کچھ غلط ہی کیا ۔پاکستانی ریاست اور مختلف حکمرانوں کے ادوار میں کئی درست فیصلے ہوئے ،ایسی پالیسیاں
مزید پڑھیے


اردو، پنجاب اور پنجابی

اتوار 23 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
گزشتہ روز ماں بولی کا عالمی دن منایا گیا۔ یہ عالمی دن منانے کا بھی عجب قصہ ہے۔ ہر روز کسی نہ کسی چیز کا عالمی دن آ جاتا ہے۔ آٹھ دس سال پہلے کی ایک بات ہے، ان دنوں ایک اور اخبار میں کام کرر ہا تھا، میں لاہور کا میگزین انچارج تھا جبکہ ہمارے سینئر میگزین ایڈیٹر کا تعلق کراچی سے تھا۔ ایک روز انہوں نے طویل فہرست بھجوائی کہ یہ مختلف عالمی ایام کی تفصیل ہے، ان کے حوالے سے صفحات تیار کرا لیجئے گا۔فہرست میں انوکھے انوکھے دنوں کا تذکرہ تھا، بعض دلچسپ اور کچھ مفید
مزید پڑھیے



پولیو کے مرض کا خاتمہ کیجئے

منگل 18 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
حیرت ہوتی ہے کہ بعض نہایت آسان اور سامنے کی باتیں سمجھانے کے لئے بھی ہمیں سرکاری اور قومی سطح پرمہم چلانی پڑتی ہے۔جیسے ٹی وی، ریڈیو پر کروڑوں روپے خرچ کر کے تشہیری مہم چلتی ہے، جس میں والدین سے اپیل کی جاتی ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرات پلائیں۔ ایسا کیوں کرنا پڑتا ہے ؟پولیو جیسی سنگین بیماری کے بارے میں بھی کسی کو کچھ سمجھانے کی ضرورت ہے؟ ہمارے دائیںبائیں، محلے میں کہیں نہ کہیں کوئی ایسا پولیو کا مریض نظر آجاتا ہے جو بروقت ویکسین نہ ملنے کے باعث معذور ہوگیا اور اب بیساکھی
مزید پڑھیے


بنیادی اصول کون سکھائے گا؟

اتوار 16 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
سوشل میڈیا کی خوبیوں، خامیوں پر طویل بحث ہوسکتی ہے، اس میں اصلاح کی بے پناہ گنجائش ہے اور کچھ ایسے مفید پہلو بھی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مختلف ممالک، کلچر، پس منظر کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ انٹرایکشن کر رہے ہیں۔ فیس بک پوسٹوں میں اچھی چیزیں مل جاتی ہیں، اگرچہ اس کے لئے اپنا حلقہ احتیاط سے بنانے کی ضرورت ہے۔کوشش کی جائے تو کچھ نہ کچھ مفید مل ہی جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک معروف فیس بکی بلاگر اور ٹورازم ایکسپرٹ محمد عبدو نے
مزید پڑھیے


حرف تشکر

جمعه 14 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
اگلے روز میرے منجھلے صاحبزادے نے ایک ایسا سوال پوچھاکہ پچھلے پچیس تیس سال کا پورا سفرآنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ بیٹے کی عمر چودہ سال ہے، میری مسلسل ترغیب پر اس کی کہانیوں، کتابوںمیں دلچسپی پیدا ہو رہی ہے۔ دو تین سال پہلے اس کے لئے اپنے بچپن میں پڑھا گیا داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوشربا کی کہانیوں کا پورا سیٹ خریدا۔مجھے یہ کہانیاں ازحد پسند تھیں۔ خواہش کی کہ بچے بھی پڑھیں۔ بڑے بیٹے کو مطالعے سے زیادہ دلچسپی نہیں، ا س کے لئے نِچلا بیٹھنا مشکل ہے۔ درمیان والے معزخاکوانی سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں،
مزید پڑھیے


اینٹی لائبریری

منگل 11 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ممکن ہے آپ کے ساتھ کئی بار ایسا ہوا ہو کہ کسی کتاب میلے ، ادبی کانفرنس سے کتابیں خریدی ہوں مگر انہیں پڑھنے کا وقت نہ ملا ہو۔ یہ کتابیں بغیر چھوئے پڑی ہوں اور آپ کہیں اور سے مزید کتابیں اٹھا لائیں۔ یہ کتابوں کا ڈھیر جسے پڑھنے کا وقت نہیں مل رہا، سوہان روح بن جاتا ہے۔ گھرکی چھوٹی بڑی لائبریری یا بیڈروم کے شیلف میں رکھی یہ کتابیں حسرت سے دیکھتے ہیں۔یہ افسوس بھی ہوتا ہے کہ سینکڑوں، ہزاروں روپے خرچ ہوگئے، مگر کتابیں پڑھ ہی نہیں سکا۔امکان ہے کہ پیسوں والی بات آپ بھول جائیں،
مزید پڑھیے


سانس لیتی جیتی جاگتی کتابیں

اتوار 09 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
کتابوں کے ساتھ گزرے لمحات سے زیادہ دل خوش کن اور یاد رہنے والی ساعتیں اور نہیں ہوسکتیں۔ میری زندگی کی جو مسرور کر دینے والی گھڑیاں ہیں ان میں کتابوں نے سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا۔ مجھے یاد ہے کہ میرا بچپن، لڑکپن پورے گھروالوں سے الگ تھلگ سب سے آخر والے کمرے میں گزرتا تھا۔ جہاںرسالے، ڈائجسٹ اور کرایے پر لی گئی کتابیں تھیں اور شب وروز انہی کے ساتھ بسر ہوتے۔ ہم سے پچھلی نسل نے ایک پیسہ یا ایک آنہ لائبریری دیکھی تھی، ہم تک پہنچتے وہ ایک
مزید پڑھیے