BN

محمد عامر خاکوانی



کیا طلبہ یونین بحال ہونی چاہئیں؟


دو تین دن پہلے ایک ویب چینل کے لئے انٹرویومیں یہی سوال پوچھا گیا کہ کیا تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین بحال ہونی چاہئیں؟ انٹرویوز میں چند سکینڈز کے اندر جواب دینا پڑتا ہے اور زیادہ تفصیلی بات کرنے کا موقعہ بھی نہیں مل پاتا، اس لئے بات کی ،مگر کچھ تشنہ رہ گئی۔ طلبہ یونین کی بحالی کا مقدمہ ہمارے ہاںخاصے لوگ لڑتے ہیں اور ان کا موقف بے وزن یا کمزور نہیں۔دوسری جانب طلبہ یونین پر پابندی لگانے والے بھی ایک باقاعدہ بیانیہ رکھتے ہیں، اتنی آسانی سے اسے بھی اٹھا کر پھینکا نہیں جا سکتا۔ اب تو
منگل 03 دسمبر 2019ء

سرخ سویرے کاخواب

اتوار 01 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
جب لال لال لہرائے گا،تب ہوش ٹھکانے آجائے گا، سرخ ہوگا سرخ ہوگا ایشیا سرخ ہوگا… یہ اور اس طرح کے نعرے ہم نے چند دن پہلے لاہور کے فیض امن میلے میں سنے۔انداز دلچسپ تھا، نوجوانوں کا ایک گروہ ایک نیم دائرہ سا بنا کر کھڑا ہوجاتا ، ایک لڑکا گول سے ساز (طبوقہ)پر طبلہ کے انداز میں سنگت دینے لگتا جبکہ باری باری مختلف لڑکے لڑکیاں تالیوں کی تال پر بلند آواز میں نعرے لگاتے۔فطری طور پر لوگ متوجہ ہوئے، نوجوانوں کا جوش وخروش دیدنی تھا، ان کی باہمی کیمسٹری بھی خوب تھی اور ہم آہنگی کے ساتھ
مزید پڑھیے


The Comedy of Errors

جمعه 29 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
کامیڈی آف (آو)ایریرز شہرہ آفاق برطانوی ڈرامہ نگار، شاعر شیکسپئر کا ایک مشہور کامیڈی ڈرامہ ہے۔ شیکسپئیر کے یہ اولین دور کا ڈرامہ ہے، سادہ سی کہانی اور سیچویشنل کامیڈی پر سارا انحصار ہے۔ دو ہم شکل جڑواں بھائی جو ایک دوسرے سے جدا ہوگئے ، انہیں پیش آنے والے دلچسپ واقعات، ایک کی جگہ دوسرے کو سمجھا گیا اور پے در پے ایسی غلطیاں ہوتی گئیں، مزاح بھی ایسی غلطیوں سے ہی پیدا ہوا۔ کامیڈی آف ایررز مگر صرف شیکسپئیر کاایک ڈرامہ نہیں رہا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک مکمل اصطلاح بن گئی ہے۔ آج اس حوالے
مزید پڑھیے


ذائقے جونایاب ہوگئے

منگل 26 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
یہ ویک اینڈ لاہور سے باہر شیخو پورہ، فیصل آباد روڈ پرواقع قصبہ بھکی کے قریب اپنے بڑے بھائی صاحب کے گھر گزرا۔بھائی گائوں یا قصبے میں نہیں رہتے بلکہ اس روڈ پر موجود درجنوںفیکٹریوں میں سے ایک میں ایڈمن مینجر ہیں۔ ملوں میں رہنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خاصا بڑا، وسیع وعریض گھررہائش کے لئے مل جاتا ہے ، کشادہ لان اور پھل دار درخت کی سہولت بونس میں سمجھ لیں۔ بھائی صاحب کی طرف سے پیغام ملا کہ ہماری بلیوں اور بکریوںنے بچے دے رکھے ہیں، بچوں کو لے کر آئو، وہ دیکھ
مزید پڑھیے


عمران خان کو نیا ایجنڈا بنانا چاہیے

جمعه 22 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
عمران خان کی سیاست اب ایک اہم موڑ پر آ گئی ہے۔ وزیراعظم وہ پہلے ہی بن چکے ہیں، بلکہ اپنی ممکنہ مدت کا ایک چوتھائی یعنی پچیس فیصد (پندرہ ماہ)گزار بھی چکے ہیں۔ ان کے پاس وقت اب بہت زیادہ نہیں رہا۔ اگلے سال ڈیڑھ ، دو میں انہیںکچھ کر دکھانا ہے۔ اگر وہ اپنی مدت (پانچ سال)مکمل کر گئے ، جو کہ ہمارے ہاں آسان نہیں، تب بھی آخری سال الیکشن کا ہوگا اور اس میں انتخابات کو پیش نظر رکھ کر ہی ترقیاتی کام کئے جاتے ہیں، اصلاحات کا ایجنڈا درمیانے عرصے میںہی ممکن ہے۔ عمران خان نظام
مزید پڑھیے




ڈیل، ارینجمنٹ، بندوبست ؟

منگل 19 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستانی سیاست نے ایک اہم موڑ لیا ہے۔ میاں نواز شریف اپنا علاج کرانے ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں چار ہفتوں کی مہلت دی، مگر عمومی تاثریہی ہے کہ میاں صاحب کی صحت کے پیش نظر اس مدت میں توسیع ہو گی۔ پاکستانی سیاست میں کوئی بات قطعیت سے نہیں کہی جا سکتی۔ یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔قومی شناختی کارڈ نہ رکھنے والا شخص ملک کا نگران وزیراعظم بن جاتا ہے۔ تحریری معاہدہ کرنے والے سات برس تک معاہدے سے انکار کرتے رہتے ہیں، جب معاہدہ سامنے آ جائے تب خاموشی سادھ
مزید پڑھیے


مولانا نے دھرنے میں کیا کھویا، کیا پایا؟

جمعه 15 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن اپنے ڈائی ہارڈ ساتھیوں، کارکنوں اور حامیوں سمیت اسلام آباد میں دو ہفتے تک دھرنا دینے کے بعد اب رخصت ہوچکے ۔ اب ملک بھر میں مختلف مقامات پراہم سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے مولانا نے پلان بی کا نام دیا ہے۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پلان اے کی ناکامی کے بعد پلان بی کا کیا حشر ہوگا؟ ویسے بھی جی ٹی روڈ، موٹر وے یا شہروں کی اہم سڑکیں بند کرنے سے عوام ہی خوار ہوتے ہیںا ور ان کی تمام تر صلواتیںایسا کرنے والے کو پڑتی ۔مولانا اپنے پلان
مزید پڑھیے


دو دھرنے، ایک انجام ؟

منگل 12 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد میں دھرنے کو بارہ دن ہوگئے، آج تیرھواں روزہے۔ ابتدائی دنوں میں مولانا فضل الرحمن اور ان کے کارکن اسے دھرنا نہیں مارچ کہتے رہے۔ مارچ سے پہلے مولانا نے بھی ایک دو بار اخبارنویسوںکو کہا کہ ہم نے کبھی دھرنا کا لفظ استعمال نہیں کیا، ہم تو صرف آزادی مارچ کرنا چاہ رہے ہیں ، میڈیا ازخود ہی سے دھرنا کہہ رہا ہے۔ اسلام آباد میں جلسہ کے بعد مولانا بھی دھرنے پر مجبور ہوگئے۔ دو ہفتے ہونے کو ہیں یہ دھرنا جاری ہے۔ مولانا کا دھرنا مگر عمران خان کے پانچ
مزید پڑھیے


مولانا بندگلی میں جا چکے ہیں؟

اتوار 10 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن اپنی سیاسی زندگی کے اہم ترین چیلنج سے نبردآزما ہیں۔ ان کی کامیابی ہی سیاسی ساکھ اور عوامی پزیرائی کی ضامن ہوگی ،جبکہ اندازے کی غلطی ، کوئی ایڈونچر انہیں ہیرو سے زیرو بنا سکتا ہے۔ شائد یہی احساس مولاناکے اعصاب پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔ وہ ایک گھاگ، تجربہ کار ، گرم سرد چشیدہ سیاستدان ہیں۔ سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے ہیں، واپسی کا راستہ کھلا رکھتے اور سیاسی یوٹرن لینے میں عار نہیں سمجھتے ۔ اگرچہ ہرسمجھدار آدمی کی طرح وہ اسے یوٹرن نہیں کہتے اور نہ اس کا دفاع کرنے کی غلطی کرتے
مزید پڑھیے


مولانا کا پلان بی کہاں ہے؟

جمعه 08 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن کے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاسی مذاکرات آنیاں جانیاں ہی ہوتے ہیں۔مختلف تجاویز پیش کی جاتی ہیں، پھر ان پر اعتراض، جواب در جواب ، اس دوران اعلیٰ سطح سے مشاورت ، پھر نئے ترمیمی نکات، پھر سے بحث۔ یہ سب چلتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں مذاکرات اسی کو کہتے ہیں۔ معروف امریکی صحافی باب وڈورڈ نے اپنی کتاب میں سابق پاکستانی سفیر اور متنازع صحافی کا ایک واقعہ سنایا۔افغانستان کے حوالے سے امریکی جیت چاہتے تھے، پاکستان عدم تعاون سے وہ ناخوش تھے۔امریکی پاکستان پر ڈو مور
مزید پڑھیے