BN

محمد عامر خاکوانی


خبر کو ماننے سے پہلے جانچ لینا چاہیے


میڈیا کے مستعداور فعال ہونے اور سوشل میڈیا کی موجودگی سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بہت سی خبریں جو پہلے دبا دی جاتی تھیں، اب وہ کسی نہ کسی شکل میں سامنے آ جاتی ہیں۔ ایک بڑا نقصان مگر یہ ہورہا ہے کہ بہت سی غلط، بے بنیاد اور فیک خبریں پھیل جاتی ہیں۔ شروع میں دھماکہ خیز خبر آتی ہے، لوگ اس جانب متوجہ ہوجاتے ہیں۔ چند گھنٹے گزرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ حقائق کچھ اور تھے۔ایسی غلط خبریں اتنے میں پھیل جاتی ہیں اور واضح تردید نہ ہونے کے باعث ان پر کالم اور
بدھ 19  اگست 2020ء

سول ایوارڈز 2020ئ۔اچھے، برے فیصلے

منگل 18  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلے دوبرسوں سے تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ملنے والے سول ایوارڈز پر تنقید کرتا رہا ہوں، چار دن پہلے صدر پاکستان نے اس سال کے لئے 184 شخصیات کومختلف شعبوں میں اعلیٰ خدمات پر سول ایوارڈز دینے کا اعلان کیا ہے۔ پچھلے سال ملنے والی ایوارڈز کی فہرست نہایت مایوس کن تھی۔تب آرٹ اینڈ کلچر کے شعبوں میں سولہ ایوارڈ دئیے گئے تھے جبکہ صرف دو ادیبوں کو ایوارڈ ملے، دونوں مرحوم یعنی ابن صفی اور فہمیدہ ریاض۔ صحافت کے حوالے سے پچھلے سال ایک ایسے شخص کو ایوارڈ دیا گیا جس کا صحافت سے دور دور کا
مزید پڑھیے


عرب امارات، اسرائیل معاہدہ ، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اتوار 16  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدہ کوئی حیران کن امر نہیں۔ پچھلے دو ڈھائی برسوں میں خلیجی عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان خاصا کچھ آگے بڑھا تھا، کچھ سامنے اور زیادہ تر پردے کے پیچھے۔ اب مصر اور اردن کے بعد متحدہ عرب امارات تیسرا عرب ملک بن گیا جس نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کر لیا۔ اگلے مراحل میں توقع ہے کہ’’ بحرین‘‘ یہ سعادت حاصل کرے گا۔ اس کے بعد کویت اور پھرغالباً سعودی عرب کی باری آئے۔ یہ ممکن نہیں کہ سعودی عرب سے مشاورت کے بغیر متحدہ عرب امارات نے اتنا بڑا قدم
مزید پڑھیے


داستان سرائے کے مکین

جمعه 14  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
یہ کوئی سولہ سترہ برس پہلے کی بات ہے، لاہور کے ایک اخبار میں میگزین انچارج کے طور پر کام کر رہا تھا۔ نیا اخبار تھا، اپنے آپ کو منوانے کا عزم ہمیں دن رات کام کرنے پر مجبور کرتا ۔ ایسا کئی بار ہوا کہ دن کوگیارہ بارہ بجے دفتر گئے اور پھر وہیں کام میں رات بیت گئی۔ صبح سات آٹھ بجے جب لوگ دفاتر آرہے ہوتے،تب میں اپنے دوست اور میگزین کے ساتھی غلام محی الدین کے ساتھ چند گھنٹے کمر ٹکانے کے لئے گھر واپس جا رہے ہوتے۔انہی دنوں ہمارے ملتان بیورو کی خاتون صحافی نے
مزید پڑھیے


کورونا بحران کے چند سبق

بدھ 12  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
کورونا کی تباہ کاری کم ہورہی ہے، دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کے اثرات اب بہت کم رہ گئے ہیں، امریکہ، برازیل کے علاوہ چند ایک ممالک ہی ایسے ہیں جہاں ابھی تک روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہور ہے ہیں، بدقسمتی سے بھارت بھی اس صف میں شامل ہوچکا ہے۔ برازیل ان بدقسمت ملکوں میں سے ہے، جہاں نالائق حکمران اور عاقب نااندیش حکومت کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہوا۔ صدر ٹرمپ کی طرح برازیلی صدر نے غیر سنجیدہ رویہ کی وجہ سے اپنی قوم کو تباہی سے دوچار کیا۔ کورونا کا پہلا سبق یہی ہے کہ
مزید پڑھیے



مطالعے کی نئی جہت

منگل 11  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
کالم نگار کے طور پر مختلف ایشوز پر لکھنا پڑتا ہے،اپنے موضوعات میں تنوع پیدا کرنے کی پابندی خود ہی عائد کی تھی۔ اخبارات کا بہت پرانا قاری ہوں، ساتویں،آٹھویں جماعت سے کئی کالم روزانہ پڑھنے کی عادت پڑگئی۔ ان دنوں محسوس کیا کہ بعض کالم نگار اچھا لکھنے کے باوجود اپنے مخصوص موضوع میں مقید ہوجاتے ہیں۔ ایک جیسے ایشوز پر بار بار لکھنے سے یکسانیت آجاتی ہے۔ بہت بار قاری کو پڑھنے سے پہلے ہی اندازہ ہوتاہے کہ آج کیا لکھا ہوگا۔ یہ تاثر لکھاری کے لئے بہت برا ہے۔بڑے عمدہ اسلوب میں لکھنے والے سٹائلسٹ کالم نگار
مزید پڑھیے


مسئلہ کشمیر: کنفیوژن پھیلاتے مغالطے

جمعه 07  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
مسئلہ کشمیر، پاکستانی ریاست کے موقف ، اقدامات اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے مختلف بیانئے گردش کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مغالطے ہی ہیں۔ بے بنیاد مغالطے، جو غلط استدلال اور تاویل کی پشت پر استوار ہیں۔ مختلف سوالات ہیں جو بغیر سوچے سمجھ اچھال دئیے جاتے ہیں۔ ان سوالات کو ایک ایک کر کے دیکھتے ہیں۔ کشمیریوں پر بڑا ظلم ہو رہا ہے، پاکستان کچھ نہیں کر رہا پہلی بات تویہ ہے کشمیریوں پر نہیں بلکہ صرف مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں پر ظلم ہو رہا ہے اور بھارت یہ ظلم کر رہا ہے۔ ریاست جموں
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیر : چنداہم فکری مغالطے

جمعرات 06  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
مقبوضہ کشمیر کے عوام طویل عرصے سے بھارتی جبر واستبداد کا سامنا کر رہے ہیں۔پچھلے ایک سال میں تو حد ہی ہوگئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سال میں بھارتی حکومت اور فورسز نے کشمیری عوام پر جو ظلم ڈھائے ہیں، اگر عالمی ضمیر نام کی کوئی چیز موجود ہوتی تو اقوام عالم بھارت کے خلاف کھڑی ہوجاتیں۔ افسوس کہ شرمناک خاموشی اور افسوسناک سردمہری کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آرہا۔ چین کے علاوہ ترکی، ملائشیا جیسی اکا دکا استثنائی مثالیں ہی سامنے آئی ہیں، ان کے سواتمام مسلم ممالک اور مغربی دنیا مہربہ لب ہے۔اس ایک
مزید پڑھیے


غلطیاں کیوں دہرائی جا رہی ہیں؟

جمعه 31 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
محترمہ بے نظیر بھٹو1988ء کے انتخاب کے نتیجے میں وزیراعظم بنیں۔ بی بی کی یہ حکومت اٹھارہ ماہ قائم رہی، سیاسی ناتجربہ کاری، عجلت اور بیڈ گورننس کے مظاہرے ہر جگہ نظر آتے۔ پیپلزپارٹی کے اکثر اراکین اور وزرا ناتجربہ کار تھے، جنرل ضیا کے گیارہ سال دور میں پیپلزپارٹی اقتدار سے کوسوں دور تھی ۔بہت سے لوگ پہلی بار رکن اسمبلی بنے اور وزارت کا اعزاز بھی پہلی بار ملا۔ناتجربہ کاری کی وجہ سے آئے روز کوئی نہ کوئی غلطی ہوتی اور مذاق اڑتا۔دو اورفیکٹرز بھی کارفرما تھے۔ پنجاب میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی جو وفاقی حکومت
مزید پڑھیے


سید منور حسن کیوں دو بار ہ امیر نہ بن سکے ؟

جمعرات 30 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن دوسری بار امیر جماعت نہ بن سکے تھے۔2014 میں جماعت کے الیکشن میں اراکین نے ان کے بجائے سراج الحق صاحب کوامیر منتخب کر لیا۔ اس الیکشن کے حوالے سے حیدر فاروق مودودی صاحب نے چند سوالات اٹھائے ہیں، ان پر بات کرنا مقصود ہے، مگر پہلے کچھ حیدر فاروق صاحب کی شخصیت کے حوالے سے عرض کرتا چلوں۔ جناب حیدر فاروق مودودی نامور دینی سکالر اور جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودوی کے صاحبزادے ہیں۔ مولانا مودودی کی اولاد میں سے کچھ جماعت اسلامی کے قریب جبکہ بعض باقاعدہ قسم کے
مزید پڑھیے