BN

محمد عامر خاکوانی


2020: نان فکشن کتابوں کی صحبت


اروندھتی رائے کے ناول بے پناہ شادمانی کی مملکت (The Ministry of Utmost Happiness)نے مجھے بہت متاثر کیا تھا، ان کا پہلا ناول گاڈ آف سمال تھنگز بھی خوب ہے، جس کا ترجمہ پروین ملک نے سسکتے لوگ کے نام سے کیا۔ بے پناہ شادمانی کی مملکت مگر غیر معمولی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کے دکھ ، ان کے رگ وپا میں سمایا کرب اور ان میں بھڑکتے بغاوت کے بھانبھڑاس ناول میں نظر آتے ہیں۔ حکومت پاکستان اور کچھ نہیں کر سکتی تو اس ناول ہی کو ملکی اور عالمی سطح پر پھیلا دے۔ مختلف زبانوں میں اس کے
بدھ 06 جنوری 2021ء

کتابو ں کی طرف واپسی۔ 2

منگل 05 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
اپنے گزشتہ کالم میں چند کتابوں کے نام گنوائے جنہیں سال 2020 میں پڑھنے کا موقعہ ملا۔ اس حکایت لذیذ کو آگے بڑھاتے ہیں۔ پچھلے سال کے آخری دو مہینوں میں ممتاز مترجم اور ادیب شاہد حمید مرحوم کے دو شاہکار شائع ہوئے۔ کراما زوف برادران کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے لکھ چکا ہوں، یہ لیجنڈری روسی ادیب دوستئوفسکی کا شاہکار ہے۔ اسے تاریخ انسانی کا عظیم ترین ناول کہا جاتا ہے۔ شاہد حمید صاحب نے اس کا کمال ترجمہ کیا ہے۔ جتنا عمدہ ترجمہ ہے، اتنی ہی خوبصورت کتاب بک کارنر جہلم نے شائع کی۔ شاہد حمید صاحب
مزید پڑھیے


2020:کتابوں کی طرف واپسی

پیر 04 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلا سال کورونا کے باعث پریشان کن رہا۔اس سال مگر ایک اچھا کام یہ ہوا کہ کتابوں کی طرف میری واپسی ہوئی۔ کوروناکے باعث ہونے والا لاک ڈائون اس کی وجہ نہیں بناکہ میرے جیسے اخبارنویس لاک ڈائون میں بھی روزانہ دفتر آ کر اپنا کام کرتے رہے۔ ستمبر کے دنوں میں جب کورونا ہوا، تب دو ہفتے گھر رہنا پڑا، مگر ان دنوں بیماری کی وجہ سے کوفت اور پریشانی اتنی تھی کہ یکسوئی سے مطالعہ نہیں ہوسکا۔ کتابوں کی طرف لوٹنے کی بڑی وجہ یہ بنی کہ سوشل میڈیا پر ضائع ہونے والے سینکڑوں گھنٹوں نے پریشان کر دیا
مزید پڑھیے


2020: آخری دن

جمعه 01 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
یہ سطریں لکھتے وقت سال کا آخری سورج غروب ہونے ہی والا ہے۔ جب آپ یہ کالم پڑھیں گے تب گزرا سال اپنی تمام تر تباہ کاری، پریشانیوں اور خوف وہراس کے ساتھ بیت چکا ہوگا۔یہ سال بہت کچھ لے گیا، خاصا کچھ نیاسکھا گیا۔ بعض چیزیں ہماری زندگیوںمیں شامل ہوئیں تو کئی نکل بھی گئیں۔ دنیا بھر میں یہ سال کورونا کی خوفناک وبا اور اس سے ہونے والے قیمتی نقصانات کی وجہ سے جانا جائے گا ۔ پاکستان میں الحمد للہ دنیا کے بیشتر ممالک سے بہتر معاملہ رہا، مگر جانی نقصان یہاں بھی ہوا۔ سات ہزار سے
مزید پڑھیے


کوروناسے محفوظ رہنے کے سادہ طریقے

اتوار 27 دسمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
’’ وبا کے دنو ں میں محبت‘‘ لاطینی امریکہ کے مشہور ناول نگار گارشیا مارکیز کے ایک شاہکار ناول کا ترجمہ ہے۔ ناول پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، اس پر بنائی گئی فلم کی بھی تعریف کی جاتی ہے ،اگرچہ دیکھی نہیں۔ اس وقت ناول یا اس پر بنائی گئی فلم سردست زیربحث نہیں ۔ ہمارا موضوع ہے کہ کورونا کی وبا جیسی خوفناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، اس میں کیا معمول اپنا کر محفوظ رہ سکتے ہیں؟یہ سروائیول ٹائم ہے۔ وہ وقت جسے کسی نہ کسی صورت گزار دینا چاہیے۔زندہ بچ نکلنا اس وقت سب سے
مزید پڑھیے



بیرونی حملہ آوروں کی بحث اور بنیادی مغالطے

منگل 22 دسمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ڈاکٹر شاہ محمد مری بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف لیفٹسٹ دانشور، ادیب، مترجم ہیں۔سیاسی اور فکری اختلاف کے باوجود میں ذاتی طور پر ڈاکٹر صاحب کا احترام کرتا ہوں۔ وہ پچاس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں۔بلوچ قوم کی تاریخ اور دیگر ایشوز پر کئی کتابیں لکھیں۔ بعض عالمی شاہکار تصنیفات کے تراجم بھی کئے، جن میں ہاورڈ فاسٹ کا سپارٹیکس سر فہرست ہے۔ انہوں نے ایک سیریز’’عشاق کے قافلے‘‘ کے عنوان سے لکھی ہے، اس میںمزدک، شاہ عنایت، شاہ لطیف، مست توکلی، یوسف عزیز مگسی اور دیگر شخصیات شامل ہیں۔ ان میں معروف ترقی پسند دانشور کمال خان
مزید پڑھیے


بیرونی حملہ آوروں کی بحث اور درست تناظر

اتوار 20 دسمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
محمود اچکزئی صاحب کی جانب سے پنجاب اور اہل لاہور کو طعنوں کے بعد جو بحث شروع ہوئی ، وہ خاصی پھیل گئی ہے۔مین سٹریم میڈیا سے زیادہ سوشل میڈیا پر یہ زور شور سے جاری ہے بلکہ پنجاب کے کئی اہل قلم تاریخی حوالے کھنگالنے کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ہمارے اخبار نائنٹی ٹو نیوز کے ادارتی شعبہ کے سربراہ برادرم اشرف شریف نے ایسے تاریخی حوالوں پر مشتمل ایک دلچسپ معلومات افزا سیریز شروع کر رکھی ہے۔اوریا مقبول جان کی بیوروکریسی میں ملازمت کا خاصا عرصہ بلوچستان میں گزرا، وہ بہت سی اندرونی کہانیوں سے اچھی طرح واقف ہیں،
مزید پڑھیے


خواب سے تعبیر کا سفر

جمعه 18 دسمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
کالم کے ساتھ رشتہ کب اور کیسے جڑا؟اب مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھتا ہوں تو دھندلے سے نقوش نظر آتے ہیں۔ یاد نہیں کہ چھٹی ساتویں یا پھرآٹھویں کلاس کے زمانے سے کالم پڑھنے کی چاٹ لگی۔عمرگیارہ بارہ سال ہی ہوگی کہ میں نے پورے چودہ سال کی عمر میں میٹرک کر لیا تھا۔مجھے یاد ہے کہ ستائیس جون کو میٹرک کا نتیجہ آیا اور تین دن بعد یکم جولائی کو میری چودھویں سالگرہ تھی۔میٹرک کے بعد اخباری کالموں میں دلچسپی بڑھ گئی ۔ ایک اخبار گھر میں آتا تھا،دو تین کالج لائبریری میں پڑھ لیتا۔ ارشاد احمد حقانی
مزید پڑھیے


اپوزیشن نے لاہور جلسہ سے کیا حاصل کیا؟

منگل 15 دسمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پی ڈی ایم کے مینار پاکستان، لاہور پر جلسے کو مکمل طو رپر ناکام یا مایوس کن کہنا درست نہیں ہوگا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پولیس، سپیشل برانچ اور آئی بی نے چار پانچ ہزار افراد کی شرکت کی رپورٹ کی ہے۔ اگر یہ خبر درست ہے تو پھر ان تینوں سویلین اداروں کو اپنا مانیٹرنگ سسٹم بہتر بنانے کی شدید ضرورت ہے، کم از کم اپنے مخبروں کی عینک کا نمبر ہی بدلوا دیں۔ جلسے کی حاضری ان رپورٹوں سے کہیں زیادہ تھی۔ محتاط اندازے کے مطابق بیس پچیس ہزار کے لگ بھگ لوگ ہوں گے۔لاہورمیں اتوار کے دن
مزید پڑھیے


چین بمقابلہ آسٹریلیا

منگل 08 دسمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
اگلے روز ایک دوست سے بات ہو رہی تھی۔ بڑی سادگی اور معصومیت سے انہوں نے سوال کیا ،’’ آخر پاکستان بھارت کے ساتھ کیوں بنا کر نہیں رکھتا؟ بھارت کے ساتھ ہم دوستی کر لیں تو ہمارے کئی مسائل حل ہوجائیں گے۔ ‘‘ یہ ایسا سوال تھاجس کے جواب میں ایک پورا لیکچر دینے کی ضرورت ہے، لمبی چوڑی تفصیل کے بغیر یہ نکتہ سمجھنا آسان نہیں۔ میں نے بات کو آسان رکھنے کی خاطر مختصراً کہا کہ کوئی بھی کام یک طرفہ نہیں ہوسکتا۔ ذاتی زندگی میں آپ کبھی ایسے شخص کے ساتھ دوستی نہیں رکھ سکتے جس کا
مزید پڑھیے