BN

محمد عامر خاکوانی



نئی حقیقتیں


 کہتے ہیں آدمی اگر سیکھنا چاہے تو وہ اپنے اردگردموجود کسی بھی چیز، معاملہ یاواقعے سے سبق سیکھ سکتا ہے۔ ایک دانا کا قول ہے ،’’میں نے نادان لوگوں کی گفتگو سے خود بولنا سیکھا، جو غلطیاں وہ کرتے تھے ، ان سے گریز کیا اور زمانے نے مجھے بہترین گفتگو کرنے والا تسلیم کرلیا۔‘‘یہ تو خیر دانائوں اور دانش مندوں کی بات تھی، ہمارے جیسے عام اخبار نویسوں کے لئے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ہے، اگر اپنے دائیں بائیں نظر رکھیں اور غور کریں۔ہمارے بعض رہنمائوں اور حکمرانوں نے حکومت اور سیاست کے حوالے سے میرے بعض اشکالات
پیر 29 اکتوبر 2018ء

ہمیشہ دیر کر دینے والے

اتوار 28 اکتوبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
کیا آپ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ زیادہ تر کام ایمرجنسی میں کرنے پڑتے ہیں کہ ڈیڈ لائن سر پر آپہنچتی ہے اور بھاگم بھاگ کام نمٹائے بغیر چارہ نہیں ہوتا؟یقینا ایسا کرتے ہوئے آپ تھک جاتے ہوں گے؟ بل جمع کرانے کی آخری تاریخ آ گئی، بنک گئے تو لمبی لائن لگی تھی، خیال آیا کہ اشتہاروں میں موبائل ایپ کے ذریعے بل جمع کرادیاجاتا ہے، موبائل میں وہ ایپ انسٹال ہی نہیں ہوئی، پھر معلوم ہوا کہ نیٹ پیکیج ہی ختم ہوگیا، ری چارج کرانا ہے۔ مجبوراً ٹوکن لے کر گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔ جاب کرنے والوں
مزید پڑھیے


عمران خان چومکھی کیوں لڑنا چاہتے ہیں؟

جمعه 26 اکتوبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
یہ سوال پچھلے دو ماہ میں کئی لوگوں نے پوچھا کہ وزیراعظم عمران خان جنگ وجدل کے موڈ میں کیوںلگ رہے ہیں ؟ وہ چومکھی لڑنے کا تہیہ کیوں کئے بیٹھے ہیں؟ چومُکھی (چو یعنی چاروں ، مُکھ یعنی منہ،چہرہ)لڑنے سے مراد کسی جنگجو کااپنے چاروں طرف بیک وقت جنگ کرنا ہے۔ بدھ کی شام اپنی تقریر میں خان صاحب نے ایک بار اسی جارحانہ انداز کا مظاہرہ کیا اور اپنے سیاسی مخالفیں کو للکارتے ہوئے دبنگ انداز میں تندوتیز جملے بولتے رہے۔ سمارٹ موبائل فون پرمختلف موڈ یاماڈ(Mode)کی سہولت موجود ہوتی ہے، جہاز میں سفر کرتے ہوئے آپ فلائیٹ
مزید پڑھیے


غلط سمت میں سفر

منگل 23 اکتوبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
برسوں پہلے ایک معروف موٹی ویشنل سپیکر(Motivational Speaker) کا’’ کامیابی کے راز معلوم کیجئے‘‘ ٹائپ سمینارمیں شریک ہوا۔دنیا بھر میں اس طرح کے سپیکرز اور کامیابی پر لٹریچر کی بھرمار ہے، پاکستان میں بھی اب بے شمار کتابیں ترجمہ ہو چکی ہیں، ہماری مقامی مارکیٹ میں بعض موٹی ویشنل سپیکرز نے نام بھی کما لیا ہے۔ ان مقرریں کی تقریروں میں کچھ مبالغہ تو ہوتا ہے، لیکن اس کی بہرحال افادیت بھی ہے۔ کئی اہم نکتے بڑی عمدگی سے سمجھائے جاتے ہیں، جن پر اگر عمل کیا جائے تو انسان کی زندگی بدل جائے۔ خیر اس سمینار میںمقرر
مزید پڑھیے


حکومت کو کچھ کرنا تو پڑے گا

جمعه 19 اکتوبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
تحریک انصاف کی حکومتی کارکردگی پر نہ چاہتے ہوئے بھی بات کرنا پڑ جاتی ہے۔بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو وقت ملنا چاہیے، شروع کے چند ماہ تو بہرحال ان کا حق بنتا ہے۔ کوئی بھی پالیسی بنائی جائے، اس کے اثرات سال بھر سے پہلے سامنے نہیں آتے۔ اس سوچ کے باوجود خاموش نہیں رہا جاتا کہ جو ایشو آج پیدا ہوا ، اس پر دو مہینے تاخیر سے کیسے بات کی جائے؟آج کل جو مسائل درپیش ہیں، ان پر ظاہر ہے فوری بات کرنا پڑتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے
مزید پڑھیے




ضمنی انتخابات، چند اہم پہلو

منگل 16 اکتوبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
تحریک انصاف کے حامی چاہے جتنے مرضی دلائل تراش رکھیں، یہ حقیقت ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج عمران خان اور پارٹی کے لئے اپ سیٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انگریزی محاورے کے مطابق ویک اپ کال، جاگ جانے کا سندیسہ۔ کہتے ہیں فتح کے سو وارث بن جاتے ہیں ،جبکہ ناکامی یتیم ہوتی ہے، اسے قبول کرنے پر کوئی تیار نہیں ہوتا، ہر ایک دوسرے کی طرف شکست کی پوٹلی اچھال دیتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان نے پارٹی قیادت کا اجلاس طلب کیا ہے، جس میں وجوہات پر غور کیا جائے گا۔ ایک دلچسپ
مزید پڑھیے


دولت جس کی وضاحت نہ کی جا سکے

جمعه 12 اکتوبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
گزشتہ روز کے برطانوی اخبارات میں ایک دلچسپ سٹوری پڑھنے کو ملی، کاش ہمارا میڈیا اسے بھرپور کوریج دیتا کہ پاکستان جیسے ممالک میں ایسے واقعات کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ برطانیہ میںچند ماہ قبل (جنوری 2018) ایک قانون بنایا گیا جسے ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر (unexplained wealth order)یعنی وہ دولت جس کی وضاحت نہ کی گئی ہو، کہا جاتا ہے۔اس قانون کے تحت مشتبہ شخص کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی اس مہنگی جائیداد خریدنے کا ذریعہ بتائے ، کہاں سے اس کے پاس اتنی دولت آئی کہ وہ ایسی پراپرٹی خریدنے کے قابل ہوسکا۔
مزید پڑھیے


این جی اوز پر پابندی، فیصلے پر سٹینڈ لینا چاہیے

منگل 09 اکتوبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
چند سال پہلے کی بات ہے ،اس وقت میں القاعدہ، طالبان، ٹی ٹی پی وغیرہ پر خاصے تواتر سے لکھتا تھا، اب تو ہمارے اپنے ایشوز ہی جان نہیں چھوڑتے۔ ان دنوں غیر ملکی اخبارنویس دھڑا دھڑ اس خطے کا رخ کرتے کہ خبریں یہاں جنم لے رہی تھیں۔ ایک بار پریس کلب میں صحافی دوست نے بتایا کہ ایک سینئر امریکی صحافی عسکریت پسندی پر ریسرچ کرتا پھر رہا ہے،اس سے مل لو۔ملاقات دلچسپ رہی، سفید بالوں والا گورا پرانا صحافی تھا۔ وہ واشنگٹن پوسٹ کے لئے بھی کام کرتا رہا، ان دنوں بلوم برگ کے لئے
مزید پڑھیے


مائنڈ سیٹ

اتوار 07 اکتوبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ہمارے ہاں ایک حلقہ ایسا ہے ، جن کی کئی حوالوں سے ایک خاص سوچ اور رائے ہے۔اس سوچ کے لوگ آپ کو کہیں بھی مل سکتے ہیں، کسی بھی شہر، ذات ، قوم ، کلاس میں ہوسکتے ہیں، صرف چند ایک چیزیں سب میں مشترک ہوں گی۔ یہی مشترک باتیں ہی ان کے مائنڈ سیٹ کو ظاہر کرتی ہیں ، جب آپ پران کی سوچ واضح ہوجائے تو پھر اگلا سوال ان کی سیاسی وابستگی کا پوچھ لیں ۔ نوے پچانوے فیصد امکان ہے کہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت سے ان کا تعلق نکل آئے گا۔نام
مزید پڑھیے


شمع چھوٹنے نہ پائے

جمعه 05 اکتوبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
سڈنی ، آسٹریلیاکا معروف اور سب سے زیادہ گنجان آباد شہر ہے۔اس کے ساحلی مضافاتی علاقے واٹسن بے میں ایک ایک ڈھلوان چٹان گیپ (The Gap)بڑی مشہور ہے۔لوگ وہاں شہر کا خوبصورت نظارہ دیکھنے آتے ہیں مگر بدقسمتی سے اس کا نام خوبصورتی کے بجائے اس لئے مشہور بلکہ بدنام ہوا کہ وہاںاکثر لوگ خودکشی کرنے آتے ہیں۔یہ ڈھلوان چٹان خودکشی کرنے والوں کے لئے طویل عرصے سے باعث کشش رہی ہے، کہا جاتا ہے کہ اب تک لاتعداد لوگ وہاں سے کود کر جان دے چکے ہیں۔ جگہ جگہ خود کشی منع ہے کے بورڈ لگے ہیں، سی سی
مزید پڑھیے