BN

عدنان عادل



ہمارا اخلاقی بحران


ریلوے سے ریٹائرڈ فورمین محمد طاہر کا خاندان موہنی روڈ لاہور میں رہتا ہے۔ ان کی اکلوتی اولاد اطہر طاہر شادی کے سترہ سال بعد منتوں مرادوں سے پیدا ہوا۔ سولہ سالہ نوجوان نے گیارہویں جماعت کا امتحان دیا تو ماں باپ نہال تھے۔ اطہر کی پیشاب کی نالی میں پیدائشی طور پر کچھ رکاوٹ تھی۔ ڈاکٹروں نے وقفہ وقفہ سے دو آپریشن کرکے اسے دُور کردیا۔ دس دن پہلے اسے پیشاب میں تکلیف محسوس ہوئی‘پھر خون آنے لگا۔ ماں باپ اسے گورنمنٹ ہسپتال سید مٹھا اور گورنمنٹ ہسپتال میاں منشی لے گئے۔ دونوں جگہ ڈاکٹروں نے کہا کہ اسے
اتوار 07 جولائی 2019ء

گیس کی مہنگائی

اتوار 30 جون 2019ء
عدنان عادل
بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کے کڑاکے نکال دیے ہیں۔ چند روز پہلے قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں قدرتی گیس کی قیمتیں اوسطا پچیس فیصد بڑھانے کی منظوری دی۔ لیکن جو صارفین بہت زیادہ مقدار میں گیس استعمال کرتے ہیں انکے لیے یہ اضافہ 180 فیصد تک ہوگا۔ تاہم وفاقی کابینہ نے ابھی اس تجویز کو قبول یا مسترد کرنا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد گیس کی قیمتوں میں یہ دوسرا اضافہ ہوگا۔ اپوزیشن کے سیاستدان بھی گیس کی مہنگائی پر چیخ و پکار رہے ہیں لیکن اصل میں وہ خود
مزید پڑھیے


العطش‘ العطش

اتوار 23 جون 2019ء
عدنان عادل
لوگ بوند بوند پانی کو ترستے ہیں۔کہیں تین تین ماہ سے نلکے میں پانی نہیں آرہا۔ کہیں تین چار سال سے کہیں دس سال سے نہیں آرہا۔ پائپ لائن میں پانی نہیں لیکن ٹینکرز کیلیے دستیاب ہے، غریب لوگ اپنا پیٹ کاٹ کر کھارا پانی بھی ٹینکروں سے خریدتے ہیں۔ پینے کے پانی کا ڈبہ تیس، چالیس روپے میں بک رہا ہے۔ بہت سے علاقوں میں جو پانی نلکوں میں آتا ہے وہ گندگی ملا ہے جس سے تعفن اٹھتا ہے ۔ اسی سے لوگ نہاتے ہیں‘ وضو کرتے ہیں‘ مردے نہلاتے ہیں۔ کئی غریب علاقوں میں عورتیں دو
مزید پڑھیے


کراچی کا نوحہ

اتوار 16 جون 2019ء
عدنان عادل
گزشتہ دنوں عزیز رشتے داروں کے ساتھ عید گزارنے کیلیے کراچی جانا ہوا۔ شہر میں پہنچتے ہی چاروں طرف کوڑے کچرے کے ڈھیر دیکھ کر یوں لگا کہ اس شہر میں گندگی نہیں ہے بلکہ گندگی پر شہر آباد ہے۔ جو کبھی اچھی خاصی مڈل کلاس آبادیاں تھیں وہ بھی کچرے سے اٹی پڑی ہیں۔ تعفن اٹھ رہا ہے۔ جگہ جگہ سڑکیں‘ گلیاں ٹوٹی پھوٹی ہیں۔ سیوریج کا گندا پانی گلیوں میں بہہ رہا ہے۔ گھریلو استعمال کا پانی اچھا برا‘ بدبودارجیسا بھی ہے ایک ہفتہ میں دو روز کچھ دیر کیلیے پائپ لائن میں آتا ہے۔ مکین انتظار
مزید پڑھیے


مشکل معاشی فیصلے

اتوار 09 جون 2019ء
عدنان عادل
یہ بات درست ہے کہ ابھی تک تحریک انصاف کی حکومت عوام کو کوئی ایسا معاشی ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہوئی جس کے وعدے اس نے الیکشن سے پہلے کیے تھے لیکن کامیابی یہ ہے کہ اس نے بعض سخت فیصلے لیکر ملک کو بڑے معاشی بگاڑ سے بچا لیا۔ موجودہ حکومت نے اپنے دس ماہ کی مدت میں تین بڑے معاشی اقدامات کیے۔ ملک کو نادہندگی سے بچایا ‘ روپے کی قدر گرائی اور حکومت کے ترقیاتی اخراجات کم کرکے مالیاتی نظم و ضبط قائم کیا۔ ان فیصلوں کے نتیجہ میں ملکی معیشت کو استحکام تو ملا لیکن
مزید پڑھیے




معاشی انصاف کا راستہ

اتوار 02 جون 2019ء
عدنان عادل
ہمارے ملک میں پندرہ سولہ کروڑ افراد غریب ہیں یا سفید پوش۔ یُوں تو ان کے لیے ہر سال ہی معاشی تنگدستی اور مشکلات کا ہوتا ہے لیکن یہ مالی سال نسبتاّ اور بھی مشکل تھا۔ معاشی صورتحال کا ایک بڑا اشاریہ معیشت کی شرح نمو یا جی ڈی پی گروتھ کہلاتا ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار کم ہو تو روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ اسکی شرح زیادہ ہو تو روزگار کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ رواں مالی سال میں ترقی کی شرح گزشتہ سال کی نسبت ساڑھے پانچ فیصد سے کم ہو کر سوا تین فیصد
مزید پڑھیے


ریاست کو غیر سمجھنا

اتوار 26 مئی 2019ء
عدنان عادل
پاکستان کے معاشی بحران کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں لیکن ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری عوام اور ریاست میں اجنبیت کا رشتہ ہے۔ لوگوں کو ملک کے معاشی بحران میں اپنے کردار کا ادراک نہیں۔ پاکستانی روپیہ کی قدر دو سال میں پچاس فیصد کم ہوچکی۔ زرمبادلہ کے ذخائر اتنے کم ہیں کہ کبھی دوست ملکوں سے قرض مانگنا پڑتا ہے کبھی عالمی مالیاتی ادار ہ کے سامنے ناک رگڑنا پڑتی ہے۔ حکومت کے اخراجات اسکی آمدن سے اتنے زیادہ ہیں کہ وہ اسٹیٹ بنک سے قرضے لیکر کام چلاتی ہے۔ لیکن بازاروں میں چہل پہل
مزید پڑھیے


تعلیم سے بے اعتنائی

اتوار 19 مئی 2019ء
عدنان عادل
گزشتہ سال پنجاب حکومت نے منصوبہ بنایا تھا کہ صوبہ کے تمام چھتیس اضلاع کے سرکاری اسکولوں میں چھتیس ہزار نئے کلاس رومز بنائے جائیں گے۔ یہ بہت اچھا پراجیکٹ تھا۔ اسکولوں کی استعداد میں اضافہ ہوجاتا۔ لاکھوں زیادہ بچوں کو داخلہ مل جاتا۔ لیکن خبر آئی ہے کہ اس سال منصوبہ میں کٹوتی کردی گئی ہے۔ اب صرف بارہ ضلعوں میں نئے کلاس رومز بنائے جائیں گے۔ وجہ بتائی گئی ہے فنڈز کی قلت۔ مطلوبہ رقم بھی مقامی وسائل کی بجائے برطانوی ترقیاتی ادارہ ڈیفیڈ سے گرانٹ بھی جائے گی۔ افسوس‘ اکیس کروڑ آبادی کے ملک کا یہ
مزید پڑھیے