BN

عمر قاضی


یہ کمپنی کب تک چلے گی؟


مولانا فضل الرحمان اب تک پی ڈیم میں شامل جماعتوں کو اس بات کا قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: چلے تو کٹ ہی جائے گا سفرآہستہ آہستہ ہر مرد پیر کے مانندان کو کوئی خاص جلدی نہیں ہے ۔ مگر ہر نوجوان کی طرح بلاول بہت عجلت میں ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس ابھی بہت وقت ہے ۔مگر جوانی دیوانی ہوتی ہے۔ اس کو اس بات کا احساس کہاں ہوتا ہے کہ ’’صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے‘‘ سفید بالوں اورسیاہ بالوں میں سادہ سا فرق یہ ہے کہ ایک جلدی میں ہوتا ہے اور دوسرے کا اصرار ہوتا ہے
جمعه 13 نومبر 2020ء

میرے بھی صنم خانے……(2)

جمعه 06 نومبر 2020ء
عمر قاضی
ہمارا دور ا س قدر قحط الرجال سے گذر رہا ہے کہ ادیب ناپید ہوچکے ہیں۔ دانشور لو گ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمارامعاشرہ کس سیاسی کیفیت سے گذر رہا ہے۔ اور ادیب ہمیں سمجھاتے ہیں کہ معاشرہ کن مسائل کا شکار ہے اور ان مسائل کی وجہ سے سیاسی حالات نے کیا صورت اختیار کی ہے؟ میں ان ترقی پسند تبصرہ نگاروں کی عزت کرتا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ سیاسی حالات معاشرتی حالات پر اثرانداز ہوتے ہیں مگر یہ بات ادھوری ہے۔ پوری بات یہ ہے کہ صرف سیاسی حالات معاشرتی حالات پر اثرانداز نہیں ہوتے بلکہ معاشرتی
مزید پڑھیے


سردی کا سکھ ، سردی کا دکھ

جمعه 30 اکتوبر 2020ء
عمر قاضی
سندھ میں اب بھی دن گرم ہیں مگر رات کو ٹھنڈ کی ہلکی سی لہریں اس صوبے کے غریب انسانوں کو پیغام دیتی ہیں کہ مایوس مت ہوجانا تمہارا موسم آ رہا ہے۔ سندھ میں موسم سرما عوام کا موسم ہے۔ یہ وہ موسم ہے جس میں غریب لوگ میلی سی چادر لپیٹ کر چلتے ہیں۔ جس میں پرانی رلی اوڑھ کر سوجاتے ہیں۔ اگر نیند نہ آئے تو گھاس پھونس کو آگ دیکر رات بھر اپنے ہاتھ پیر تاپ کر انتظار کی کیفیت کوکسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ گرمیوں میں انسان تو کیا چرند اور پرند بھی
مزید پڑھیے


اقبال کا کلام اور ملکی سیاست

جمعه 16 اکتوبر 2020ء
عمر قاضی
موسم خزاں تو اب آیا ہے مگر ہماری ملکی سیاست پر ایک عرصے سے پت جھڑ کے سائے ہیں۔ اب تو اس ملک کے عوام نے یہ پوچھنا بھی چھوڑ دیا ہے کہ بہار کب آئے گی؟ ملک سے سیاسی حالات جب بھی دگرگوں ہونے لگتے ہیں۔ اقتدار کی ہوس جب سیاستدانوں سے آنکھوں کا نور چھین لیتی ہے۔ جب ملک کو لوٹنے والے ملک کے مہربان ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ تب اس قلمکار کو اکثر یہ خیال آتا ہے کہ اگر موجودہ حالات میں علامہ اقبال ہوتے تو وہ کیا سوچتے اور کیا بولتے؟ کس قسم کے اشعار لکھتے؟
مزید پڑھیے


سیاست،ساحل اور جزیرے

جمعه 09 اکتوبر 2020ء
عمر قاضی
سندھ کی سیاست اس وقت جزیروں پر محدود ہوگئی ہے۔ وہ جزیرے جو کراچی کے ساحل سمندر سے اتنے دور ہیں کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے آپ کو کشتی میں پونے گھنٹے تک سفر کرنا پڑے گا۔ ان جزائر میں سب سے بڑے جزیرے کا نام ’’بھنڈار‘‘ ہے۔ بھنڈار آج نہیں بلکہ کافی وقت سے لینڈ مافیا کی آنکھوں میں تیر رہا ہے۔ وہ یہاں پر ایک مہنگا ترین شہر آباد کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ مشرف کے دور میں جب سندھ کا وزیر اعلی ارباب رحیم تھا، اس وقت بھی اس ایشو نے سر اٹھایا تھا
مزید پڑھیے



لسانی سیاست اور سچل سرمست

جمعه 02 اکتوبر 2020ء
عمر قاضی
سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایک بار پھر لسانی سیاست کی ہوا چل رہی ہے۔ ہم جیسے سادہ دل لوگوں نے سمجھا تھا کہ الطاف حسین کے بعد لسانی فتنے اپنے موت آپ مرجائیں گے مگر فتنے اب بھی جاری ہیں۔ سیاست کی بنیاد اب تک نفرت ہے۔ اس لیے آج نفرت کی سیاست کے بارے میں اچھے الفاظ کی توہین کرنے کے بجائے آئیں اور سندھ کے ایک عظیم صوفی شاعر سچل سر مست کے بارے میں بات کریں۔ سندھ ایک گدڑی ہے۔ اس گدڑی میں بہت سارے لعل ہیں۔ سندھ کے سب سے بڑے لعل لطیف سائیں ہیں۔ مگر
مزید پڑھیے


متبادل کا منتظر

جمعه 25  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
اسلام آباد یا لاہور یا پشاور میں اب جو کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ ’’سیاسی طور پر سندھ کیا کر رہا ہے؟‘‘ تو میں بڑی اداس مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتا ہوں کہ ’’انتظار‘‘۔ جو دوست جلدی میں ہوتا ہے وہ مزید نہیں پوچھتا اور جن کو جلدی نہیں ہوتی وہ پوچھتے ہیں ’’کس کا انتظار‘‘ تو میں کہتا ہوں ’’متبادل کا‘‘ ۔جب مجھ سے پوچھا جاتا ہے ’’کس کا متبادل‘‘ میں کہتا ہوں ’’پیپلز پارٹی کا متبادل‘‘۔ میرے اکثر غیر سندھی دوست یہ جواب سن کر ذرا حیران ہوجاتے ہیں اور کچھ پریشان ہوکر پوچھتے ہیں کہ ’’کیا
مزید پڑھیے


کراچی ہم سب کا ہے

جمعه 18  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
کراچی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔ اس کمیٹی کا آفیشل نام اب صوبائی رابطہ اور عمل درآمد کمیٹی (PCIC)ہے۔ یہ کمیٹی کراچی کے زخموں کی کتنی رفوگری کرتی ہے؟ اس سوال کا جواب حال کے پاس نہیں۔ اس سوال کا جواب مستقبل ہی دے سکتا ہے کہ مذکورہ کمیٹی کراچی کو پھر سے قابل رہائش شہر بناسکتی ہے یا نہیں؟ پیپلز پارٹی پر جب بھی سیاسی دباؤ میں آتی ہے تب وہ سندھ کارڈ اٹھا لیتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہوا۔ مگر ملک چلانے والوں نے سندھ کی حکمران جماعت کو صاف الفاظ میں بتا دیا کہ
مزید پڑھیے


من چلے کا سودا

جمعه 11  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
اشفاق احمد کی برسی کتنی خاموشی سے گزرر گئی؟ بالکل دبے پاؤں۔ ایسی چال سے کہ کسی کو پتہ تک نہ چلے۔ بے آواز۔ وہ خود چاہتے بھی یہی تھے۔ ان کو خوامخواہ کا شو رشرابا پسند بھی نہیں تھا۔ انہوں نے تو زندگی بھی خاموشی سے گزاری۔ ان کی یہ تمنا تھی کہ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوں تو انہیں چالیس توپوں کی سلامی دی جائے۔ وہ انتہائی سادہ اور پروقار انسان تھے۔ وہ صحیح معنی میں مہذب شخص تھے۔ مہذب انسان کی ایک پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کو زیادہ شور پسند نہیں ہوتا۔ان
مزید پڑھیے


کراچی کے وائٹ کالر کرمنلز

جمعه 04  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
یہ مون سون اہلیان کراچی کبھی نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ بھیانک خواب حقیقت بن سکتے ہیں۔ کراچی والوں نے شہری سیلاب کا صرف نام سنا تھا۔ اس بار انہوں نے نہ صرف شہری سیلاب کو دیکھا بلکہ اسے بڑی تکلیف سے بھگتا۔ اس کالم میں راقم الحروف اس کراچی کی بات نہیں کر رہا جو تھوڑی سی بارش میں بھی ڈوب جاتا ہے۔ ہم کراچی کے ان نشیبی علاقوں کی بات نہیں کر رہے جو سطح سمندر سے نیچے ہیں۔ جہاں بجلی جانے کے بہانے تلاش کرتی ہے۔ وہ کراچی تو بارش کے بغیر
مزید پڑھیے