عمر قاضی



کراچی کی دعا


وہ سات دن صرف ایک خاندان کے لیے نہیں بلکہ پورے شہر کے لیے انتہائی اذیت ناک تھے۔ وہ ہر گھر بہت پریشان تھا جس میں بیٹی تھی۔ وہ سب لوگ اپنی بیٹیوں کی صورت میں اس دعا منگی کو دیکھ رہے تھے جس کو کراچی کے انتہائی پوش علاقے ڈیفنس سے اغوا کیا گیا۔ اس وقت دعا منگی کے ساتھ اس کا دوست حارث سومرو بھی تھا۔ وہ حارث سومرو جو ابھی تک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ کیوں کہ اغواکاروں نے دعا کو اغوا سے بچانے کے لیے مزاحمت کرنے والے حارث سومرو کے گلے میں گولی اتار
پیر 16 دسمبر 2019ء

بات تو سچ ہے مگر۔۔۔۔!!

جمعه 13 دسمبر 2019ء
عمر قاضی
یہ حقیقت ہے کہ آصف زرداری میاں نواز شریف سے زیادہ علیل ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وفاق پیپلز پارٹی کے ایک اور رہنما کی لاش کو سندھ بھیجنا افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ صحت کی بنیاد پر میاں نواز شریف کی ضمانت کے بعد حکومت نے آصف زرداری کی رہائی کا اشارہ دے دیا تھا۔اب سوال یہ ہے کہ آصف زرداری کا نام ای سی ایل سے ہٹایا جائے گا یا نہیں؟ اگر نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی سہولت میسر ہو سکتی ہے تو آصف زرداری کو کیوں نہیں؟ مگر اس سے اہم سوال یہ ہے
مزید پڑھیے


کوئٹہ کیا سوچتا ہوگا؟

جمعه 29 نومبر 2019ء
عمر قاضی
وقت کے ساتھ دنیا کے شہر خوبصورت ہوتے جاتے ہیں اور ہمارے شہر اپنا حسن گنواتے نظر آتے ہیں۔ یہ احساس مجھے اس وقت بھی ہوتا ہے جب میں اسلام آباد آتا ہوں اور اس کھوئے ہوئے شہر کو یاد کرتا ہوں جو دن کے وقت بھی کسی معصوم بچے کی طرح فطرت کی آغوش میں سویا نظر آتا تھا ۔ اب تو اس شہر کو رات کو بھی نیند نہیں آتی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور افسران اعلیٰ کی سوچ بھی اس بلڈر مافیا جیسی ہے جو سیمنٹ اور سریے کو ترقی کی علامت سمجھتے ہیں۔
مزید پڑھیے


کھوکھلے لوگ

جمعه 22 نومبر 2019ء
عمر قاضی
مولانا فضل الرحمان نے اپنے دھرنوں سے کیا کھویا؟ کیا پایا؟اب نواز شریف واپس لوٹیں گے یا نہیں؟وہ رعایت جو میاں کوملی؛ کیا وہ رعایت زرداری کو مل پائے گی؟تحریک انصاف کی حکومت کی نئی حکمت عملی کیا ہوگی؟کیا مریم نواز اپنی خاموشی کو ختم کریں گی؟کیا بلاول بھٹو زرداری حکومت کے لیے مشکلات پیدا کریں گے؟کیا وہ مشکلات پیدا کرنے کے ہنر سے آگاہ ہیں؟کیا عوامی نیشنل پارٹی دوسرا جنم لے سکے گی؟کیا بلوچستان کے بطن میں ایک نیا بحران جنم لے رہا ہے؟کیا کشمیر پر کڑک پالیسی منظر عام پر آئے گی؟کیا الطاف حسین اپنی تباہ شدہ کشتی
مزید پڑھیے


عمران خان! تھر کے موروں کی پکار سنیں!

جمعه 15 نومبر 2019ء
عمر قاضی
وہ کوئی بہت بڑا پہاڑ نہیں جس کی چوٹی کو سر کرنے کے لیے کوہ پیما زندگی داؤ پر لگادیں۔ وہ کوئی ایسا پہاڑ بھی نہیں جس میں سونے اور چاندی کے ذخائر ہوں۔ اس پہاڑ سے تیل تو کیا پانی بھی حاصل نہیں ہوتا۔ کیوں کہ وہ کوئی ایسا بلند پہاڑ نہیں جس کی چوٹی آسمان کو چھوتی ہو۔ جس پر موسم سرما میں برف گرے اور موسم گرما میں وہ برف پگھلے اور پانی کی صورت بہے۔ وہ تو صحرائے تھر کی پیاسی دھرتی کا ایک چھوٹا سا پہاڑ ہے مگر یہ الگ بات ہے کہ وہ پہاڑ
مزید پڑھیے




کشمیر کو مت بھولیں

جمعه 01 نومبر 2019ء
عمر قاضی
وہ سرد جنگ کا سیاسی دور تھا جب ہر عمل اور ہر سوچ میں سازش تلاش کی جاتی تھی ۔ وہ دور گذر چکا ہے۔ مگر ہم اب تک اس دور کے اثرات سے آزاد نہیں ہو پائے۔ ہم اب تک مختلف سیاسی اعمال کے پیچھے سیاسی سازشوں کو تلاش کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ کچھ تجزیہ نگار مولانا فضل الرحمان کی آزادی مارچ میں علاقائی سازش کی پرچھائیاں دیکھ رہے ہیں اور کچھ سیاسی حلقے مذکورہ مارچ کو ایک ایسی اسموک وال قرار دے رہے ہیں جس کے پیچھے ملک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ ہو
مزید پڑھیے


سندھ میں تعلیمی اداروں کی تباہی

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
عمر قاضی
وہ دھان پان سی ہندو لڑکی اب تو اپنی چتا پر جل کر راکھ ہوگئی ہے مگر اس کے ناگہانی موت کا دکھ اب تک سندھ کے سوشل میڈیا میں موجود ہے۔ اس ہندو لڑکی کا نام نمرتا تھا۔ وہ لاڑکانہ کے ’’آصفہ ڈینٹل کالج‘‘ کے آخری سال کی طالبہ تھی۔ گذشتہ ماہ اس کی لاش ہاسٹل کے کمرے سے ملی۔ اس کے پراسرار موت کو خودکشی قرار دیا گیا مگر سندھ کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اس بات سے انکار کرتے رہے کہ ڈاکٹر نمرتا نے خودکشی کی ہے۔ وہ سب یہ تلخ حقیقت قبول کرنے کے
مزید پڑھیے


مولانا مان جائیں گے

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
عمر قاضی
مولانا فضل الرحمان ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنا دیں گے یا نہیں؟ ابھی اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ شاید مولانا فضل الرحمان کے پاس بھی نہیں۔ کیوں کہ مولانا صاحب ضد کی سیاست نہیں کرتے۔ انہوں نے سیاست میں جذباتیت کی علامت بننے کے بجائے ہمیشہ عقل سے فیصلے کیے ہیں۔ وہ پاکستان کے ایک بہت بڑے عملیت پسند (Pragmatic) سیاستدان ہیں۔یہ ان کا کمال ہے کہ انہوں نے دین اور دنیا میں جوتوازن پیدا کر رکھا ہے وہ کسی اور مذہبی جماعت میں نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان سے کوئی کتنے بھی اختلافات کر سکتا
مزید پڑھیے


لاڑکانہ بولنے لگا ہے

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
عمر قاضی
بلاول بھٹو زرداری کا اب مطالبہ ہے کہ حکومت استعفیٰ دیکر نئے انتخابات کروائے۔ دراصل یہ مطالبہ پیپلز پارٹی پہلے دن سے کرتی آئی ہے۔ اس مطالبے کے پیچھے جو سوچ کارفرما ہے وہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو صوبہ سندھ میں حکومت بنانے، جیتنے ووٹ حاصل کرنے کے سلسلے میں کوئی پریشانی نہیں رہی۔ پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ سندھ تو اس کی جیب میں ہے۔ پاکستان کے دیگر صوبوں میں وہ اگر پہلے جتنی سیٹیں بھی حاصل کرتی ہے تو یہ کوئی نقصان کی بات نہیں ہوگی۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے مرکزی شہر لاڑکانہ
مزید پڑھیے


حکومت سندھ کی آخری سانسیں

جمعه 27  ستمبر 2019ء
عمر قاضی
گیارہ برس کے بعد سندھ میں پیپلز پارٹی کا اقتدار ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔اس وقت سندھ میں پی پی حکومت اس مریض کے مانند ہے؛ جس کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہو۔ سائیں مراد علی شاہ کی سرکار ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ کمزورتر ہوتی جا رہی ہے۔ احتساب نے پیپلز پارٹی کے اقتدار کو عملی طور ختم کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی اصل اور بااختیار قیادت سلاخوں کے پیچھے ہے مگر سندھ میں برائے نام بھی احتجاج نہیں ہو رہا۔ اس کا سبب بھی احتساب ہے۔ شیخ رشید نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ مسلم
مزید پڑھیے