Common frontend top

آغرندیم سحر


اردو صحافت کی دو صدیاں


آج ہم اردو صحافت کا دو سو سالہ جشن منا رہے ہیں‘یہ سفر مارچ ۱۸۷۷ء میں کلکتہ سے ’جامِ جہاں جما‘کی شکل میں شروع ہوا تھا۔یہ ہفتہ وار شائع ہوتا تھا اور اس کے دونوں جانب ایسٹ انڈیا کمپنی کی مہرلگی ہوتی تھی جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اس اخبار کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔یہ اخبار آغاز میں اردو میں شائع ہوا مگر جب اردو کی مانگ کم ہوتی محسوس ہوئی تو اسے فارسی میں کر دیا گیا اورآخر میں کچھ حصہ اردو ضمیمے کے طور شائع ہونے لگا مگرایک سال بعد ہی پورے اخبار کا اردو ترجمہ
پیر 28 نومبر 2022ء مزید پڑھیے

کوئی شہر کو دیکھ رہا ہے

جمعرات 24 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
راقم نے اپنے کالم’’کیا لاہور سیف سٹی ہے‘‘میں عرض کیا تھا کہ لاہور میںجس تیزی سے کرائم بڑھ رہا ہے‘ خدا نہ کرے کہ اس خوبصورت شہر کو بھی کراچی جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ جائے ۔پنجاب پولیس کی کارکردگی پر ہمیشہ سوالیہ نشان رہا مگر اب پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی انتظامیہ کو واضح کرنا چاہیے۔اس کالم کے بعد پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ توصیف گوندل نے ادارے کے مسائل و مقاصد سے آگاہ کرنے اورڈی آئی جی
مزید پڑھیے


’’فاتح کا گیت‘‘

پیر 21 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
ثروت حسین ستر کی دہائی کی وہ منفرد آواز ہیں جنھوں نے اردو غزل کو وقار بخشا اور جدید استعاروں اور تلمیحات سے اردو غزل کا دامن وسیع تر کیا۔ ثروت فطرت کا شاعر ہے‘اس کا دن اور رات‘اس کی پسندیدہ آوازیں اور استعارات و علامتیں،سب کا تعلق اسی دھرتی سے ہیں۔ثروت ہر اس انسان کی آواز بنتا ہے جس کا تعلق اس کی مٹی سے ہے اور جو اس معاشرے میں کہیں فراموش کر دیا گیا ہے‘ثروت بھولے ہوئوںکو یاد کرتا ہے‘ان کی آواز میں آواز ملاتا ہے‘ان کے دکھوں کو محسوس کرتا ہے‘ان کی خوشیاں خود جیتا ہے
مزید پڑھیے


ادیبوں کا استحصال نہیں ہونا چاہئے

جمعرات 17 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
گزشتہ روز انتہائی سینئر شاعر اور دانشور محترم حسین مجروح کا خط موصول ہوا‘خط میں سائباں تحریک کے اغراض و مقاصد اور اب تک کی جانے والی کوششوں کے بارے تفصیل سے آگاہ کیا‘ آپ خط ملاحظہ فرمائیں: ’’عزیزم آغر ندیم سحر صاحب،سلام و رحمت! آپ کا کرم کہ آپ نے سائباں تحریک کے مقاصد اور طریقِ عمل میں دل چسپی ظاہر کی اور اس قافلے کا فعال حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔سائباں تحریک کی بابت تعارفیہ ہمراہ پانچ رکنیت فارم ارسال ہیں۔آپ سے استدعا ہے کہ اپنے قریبی احباب کو بھی اس ہمہ جہت ادبی تحریک کا حصہ
مزید پڑھیے


خدارا!ملک پر رحم کریں

پیر 14 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
پاکستان سیاسی طور پر انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ میں سیاست دانوں اور صحافیوں پراتنا کڑا وقت نہیں آیا‘جتنا آج ہے۔ایک طرف سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنمائوں اور کارکنوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو دوسری طرف صحافیوں کی زبان بندی کے لیے قتل‘جیلیں اور مقدمے۔ ہر دوسرے دن کسی نہ کسی سیاسی ورکر کی ویڈیو لیک ہو جاتی ہے۔وزیر اعظم ہائوس تک کی کالز اور انتہائی حساس میٹنگز لیک ہو گئیں‘پہلے شہاز گل‘اعظم سواتی اور اب پرویز رشید،یہ ملک کس طرف جا رہا ہے؟کبھی کبھی تو یوں
مزید پڑھیے



کیا لاہور سیف سٹی ہے؟

جمعرات 10 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
یہ5نومبر رات ساڑھے آٹھ بجے کا واقعہ ہے‘جین مندر سے فرید کورٹ روڈ پر جاتے ہوئے موبائل سینچرز نے مجھ پر حملہ کیا اور موبائل چھین کر فرار ہو گئے‘نزدیکی تھانے میں ایف آئی آر تو درج ہو گئی مگر آگے کیا ہوتا ہے‘پولیس خاموش ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ تھانے جا کر حیرانی ہوئی کہ گزشتہ ایک ہفتے میں مختلف تھانوں میں دو درجن سے زائد ایف آئی آر درج کروائی گئیں‘کہیں گن پوائنٹ پر موبائل اور نقدی چھینی گئی توکہیں گھر میں گھس کر خواتین کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کی گئی ‘ کہیں لڑائی
مزید پڑھیے


بچوں کے ادیبوں کو بھی عزت دیں

پیر 07 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
اکادمی ادبیات پاکستان کی تین روزہ عالمی ادبی کانفرنس میں شرکت کے لیے 30 اکتوبر کی دوپہر اسلام آباد پہنچا‘پہلا قیام اکادمی کے رائٹرز ہائوس میں تھا۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ سرکاری سرپرستی میں ’بچوں کے ادب‘ پر عالمی کانفرنس سجائی جا رہی تھی جس پر اکادمی داد کی مستحق ہے۔کانفرنس کی افتتاحی تقریب 31 اکتوبر سہ پہر تین بجے تھی مگر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ 30 اکتوبر سے ہی شروع ہو گیا۔پاکستان کے پانچوں صوبوں سمیت دنیا کے 13 ممالک سے بچوں کے ادیب اور نامور اسکالرز مدعو کیے گئے تھے‘ کانفرنس کے تینوں روز درجنوں اہم ادیبوں
مزید پڑھیے


بچوں کا ادب: ماضی،حال اور مستقبل

پیر 31 اکتوبر 2022ء
آغرندیم سحر
قوموں کی ترقی اور تنزّل میں عمرانی علوم کے مضمون ’نفسیات‘ کا بڑا دخل ہے۔ اِس مضمون کی افادیت اُس وقت مزید کھل کر سامنے آئی جب نفسیات کی پیچ در پیچ پرتوں کے حل نے مسائل کے اِدراک کا موقع فراہم کیا اور فرد کی شخصی صورت گری نے اپنے ہونے کے احساس کو مزید پختہ کیا۔نفسیات نے اِس خیال کو بھی عملی جامہ پہنایا کہ فرد کی نفسیاتی تربیت، اعلیٰ قدروں کو استحکام بخشتی ہے اور قوم و مملکت کے لیے نہایت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔مغرب نے مضمون نفسیات کو کُلّی طور پر سمجھنے کے بعد فرد کی
مزید پڑھیے


سراج الہدیٰ

جمعرات 27 اکتوبر 2022ء
آغرندیم سحر
یہ ۱۹۹۹ء اکتوبر کی بات ہے جب مجھے اس عظیم دانش گاہ کا حصہ بننے کا شرف حاصل ہونے جا رہا تھا۔پانچویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد مجھے والدین کی خواہش کے مطابق دنیا کی سب سے عظیم کتاب’’قرآنِ مجید‘‘کو حفظ کرنے کے لیے داخل کروا دیا گیا۔میں اگرچہ اس وقت اس درس گاہ کی قدرومنزلت سے چنداں واقف نہ تھا مگر بطور طالب علم اس ادارے سے وابستگی نے مجھے جہاں اس ادارے کی تابناک تاریخ سے متعارف کروایا وہاں میری ذہنی و علمی نشونما میں بھی اس ادارے نے بنیادی کردار ادا کیا۔مجھے بولنا‘لکھنا اور سننا اسی
مزید پڑھیے


توشہ خانہ اور پی ڈی ایم

پیر 24 اکتوبر 2022ء
آغرندیم سحر
توشہ خانہ کیس میں ملک کے مقبول ترین لیڈر عمران خان کو پلان کے مطابق نااہل کر دیا گیا‘ملک خانہ جنگی کی جانب دھکیل کر ملک دشمن قوتیں خوشیاں منا رہی ہیں۔ پی ڈی ایم کی گیارہ جماعتیں جس ایجنڈے کے تحت ملک پر مسلط کی گئیں اور جو گیم چینجرز تھے‘پاکستانی عوام انھیں معاف کر بھی دے‘تاریخ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ملک کی موجودہ تباہی کے ذمہ دار وہ عناصر بھی ہیں جنھوں نے اپنے مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح دی۔آج ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ عمران خان غدار ہے‘دہشت گرد ہے‘چور ہے اور
مزید پڑھیے








اہم خبریں