Common frontend top

آغرندیم سحر


ناظمِ مجلس ترقی ادب کی تقرری: ادبی یا سیاسی


فروری2021ء میںمجلس ترقی ادب کی سربراہی سے ممتاز محقق اور دانشور ڈاکٹر تحسین فراقی کو غیر آئینی طریقے سے ہٹا کر منصور آفاق کو اس اہم ترین ادارے کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا‘اس تقرری پر مختلف طبقوں کی جانب سے شدید رد عمل آیا کیونکہ ڈاکٹر تحسین فراقی کے چودہ ماہ باقی تھی‘انھیں نہ تو نوٹس دیا گیا اور نہ ہی وقت‘بزدار حکومت نے من پسند صحافی کو اس عہدے سے نواز دیا۔اس تقرری کے بعد دو طرح کا ردِ عمل سامنے آیا تھا‘ایک طرف راقم سمیت درجنوں ادیبوں کا موقف تھا کہ تقرر جس کا بھی ہو‘یہ اہم
جمعرات 08 دسمبر 2022ء مزید پڑھیے

ادبی کانفرنسیں : چند تجاویز

پیر 05 دسمبر 2022ء
آغرندیم سحر
کراچی میں ہونے والی پندرہویں عالمی اردو کانفرنس کا آج چوتھا دن ہے۔ دنیا بھر سے مندوبین کی ایک کثیر تعداد اس اہم ترین کانفرنس کا حصہ ہے ۔ کراچی کی یہ عالمی کانفرنس اب قومی تہوار کا درجہ اختیار کر چکی ہے ‘تمام زبانوں سے تعلق رکھنے والے قلم کار و دانش ور اس ادبی تہوار کا شدت سے انتظار کرتے ہیں۔اس کانفرنس کے منتظم اعلیٰ محمد احمد شاہ ہوتے ہیں جو کراچی آرٹس کونسل کے چیئرمین ہیں۔ اس کالم کے توسط سے احمد شاہ اور ان کی پوری ٹیم مبارک بادپیش کرتا ہوں کیونکہ یہ کانفرنس زبان و
مزید پڑھیے


خوابوں کا شہر

جمعرات 01 دسمبر 2022ء
آغرندیم سحر
لاہور ہر اس شخص کا خواب ہے جو زندگی میں کچھ نیاکرنا چاہتا ہے‘ادب و صحافت یا پھر فنونِ لطیفہ میں۔میں نے بھی اوائل عمری میں یہ خواب دیکھا اور اس خواب کی تکمیل کے لیے لاہور کا رخ کرنے کا سوچا۔میٹرک کے بعد اپنے ہی ضلع میں کامرس میں داخلہ تو لیا مگر اس شعبے میں دل چسپی نہ ہونے کے باعث جلد ہی اسے خیر باد کہ دیا اور ’خوابوں کے شہر ‘لاہور پہنچ گیا۔لاہور آتے ہی پہلا مسئلہ نوکری کا درپیش تھا‘پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے کچھ تو کرنا تھا لہٰذا یہاں پہلے سے موجود احباب
مزید پڑھیے


اردو صحافت کی دو صدیاں

پیر 28 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
آج ہم اردو صحافت کا دو سو سالہ جشن منا رہے ہیں‘یہ سفر مارچ ۱۸۷۷ء میں کلکتہ سے ’جامِ جہاں جما‘کی شکل میں شروع ہوا تھا۔یہ ہفتہ وار شائع ہوتا تھا اور اس کے دونوں جانب ایسٹ انڈیا کمپنی کی مہرلگی ہوتی تھی جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اس اخبار کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔یہ اخبار آغاز میں اردو میں شائع ہوا مگر جب اردو کی مانگ کم ہوتی محسوس ہوئی تو اسے فارسی میں کر دیا گیا اورآخر میں کچھ حصہ اردو ضمیمے کے طور شائع ہونے لگا مگرایک سال بعد ہی پورے اخبار کا اردو ترجمہ
مزید پڑھیے


کوئی شہر کو دیکھ رہا ہے

جمعرات 24 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
راقم نے اپنے کالم’’کیا لاہور سیف سٹی ہے‘‘میں عرض کیا تھا کہ لاہور میںجس تیزی سے کرائم بڑھ رہا ہے‘ خدا نہ کرے کہ اس خوبصورت شہر کو بھی کراچی جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ جائے ۔پنجاب پولیس کی کارکردگی پر ہمیشہ سوالیہ نشان رہا مگر اب پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی انتظامیہ کو واضح کرنا چاہیے۔اس کالم کے بعد پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ توصیف گوندل نے ادارے کے مسائل و مقاصد سے آگاہ کرنے اورڈی آئی جی
مزید پڑھیے



’’فاتح کا گیت‘‘

پیر 21 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
ثروت حسین ستر کی دہائی کی وہ منفرد آواز ہیں جنھوں نے اردو غزل کو وقار بخشا اور جدید استعاروں اور تلمیحات سے اردو غزل کا دامن وسیع تر کیا۔ ثروت فطرت کا شاعر ہے‘اس کا دن اور رات‘اس کی پسندیدہ آوازیں اور استعارات و علامتیں،سب کا تعلق اسی دھرتی سے ہیں۔ثروت ہر اس انسان کی آواز بنتا ہے جس کا تعلق اس کی مٹی سے ہے اور جو اس معاشرے میں کہیں فراموش کر دیا گیا ہے‘ثروت بھولے ہوئوںکو یاد کرتا ہے‘ان کی آواز میں آواز ملاتا ہے‘ان کے دکھوں کو محسوس کرتا ہے‘ان کی خوشیاں خود جیتا ہے
مزید پڑھیے


ادیبوں کا استحصال نہیں ہونا چاہئے

جمعرات 17 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
گزشتہ روز انتہائی سینئر شاعر اور دانشور محترم حسین مجروح کا خط موصول ہوا‘خط میں سائباں تحریک کے اغراض و مقاصد اور اب تک کی جانے والی کوششوں کے بارے تفصیل سے آگاہ کیا‘ آپ خط ملاحظہ فرمائیں: ’’عزیزم آغر ندیم سحر صاحب،سلام و رحمت! آپ کا کرم کہ آپ نے سائباں تحریک کے مقاصد اور طریقِ عمل میں دل چسپی ظاہر کی اور اس قافلے کا فعال حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔سائباں تحریک کی بابت تعارفیہ ہمراہ پانچ رکنیت فارم ارسال ہیں۔آپ سے استدعا ہے کہ اپنے قریبی احباب کو بھی اس ہمہ جہت ادبی تحریک کا حصہ
مزید پڑھیے


خدارا!ملک پر رحم کریں

پیر 14 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
پاکستان سیاسی طور پر انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ میں سیاست دانوں اور صحافیوں پراتنا کڑا وقت نہیں آیا‘جتنا آج ہے۔ایک طرف سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنمائوں اور کارکنوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو دوسری طرف صحافیوں کی زبان بندی کے لیے قتل‘جیلیں اور مقدمے۔ ہر دوسرے دن کسی نہ کسی سیاسی ورکر کی ویڈیو لیک ہو جاتی ہے۔وزیر اعظم ہائوس تک کی کالز اور انتہائی حساس میٹنگز لیک ہو گئیں‘پہلے شہاز گل‘اعظم سواتی اور اب پرویز رشید،یہ ملک کس طرف جا رہا ہے؟کبھی کبھی تو یوں
مزید پڑھیے


کیا لاہور سیف سٹی ہے؟

جمعرات 10 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
یہ5نومبر رات ساڑھے آٹھ بجے کا واقعہ ہے‘جین مندر سے فرید کورٹ روڈ پر جاتے ہوئے موبائل سینچرز نے مجھ پر حملہ کیا اور موبائل چھین کر فرار ہو گئے‘نزدیکی تھانے میں ایف آئی آر تو درج ہو گئی مگر آگے کیا ہوتا ہے‘پولیس خاموش ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ تھانے جا کر حیرانی ہوئی کہ گزشتہ ایک ہفتے میں مختلف تھانوں میں دو درجن سے زائد ایف آئی آر درج کروائی گئیں‘کہیں گن پوائنٹ پر موبائل اور نقدی چھینی گئی توکہیں گھر میں گھس کر خواتین کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کی گئی ‘ کہیں لڑائی
مزید پڑھیے


بچوں کے ادیبوں کو بھی عزت دیں

پیر 07 نومبر 2022ء
آغرندیم سحر
اکادمی ادبیات پاکستان کی تین روزہ عالمی ادبی کانفرنس میں شرکت کے لیے 30 اکتوبر کی دوپہر اسلام آباد پہنچا‘پہلا قیام اکادمی کے رائٹرز ہائوس میں تھا۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ سرکاری سرپرستی میں ’بچوں کے ادب‘ پر عالمی کانفرنس سجائی جا رہی تھی جس پر اکادمی داد کی مستحق ہے۔کانفرنس کی افتتاحی تقریب 31 اکتوبر سہ پہر تین بجے تھی مگر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ 30 اکتوبر سے ہی شروع ہو گیا۔پاکستان کے پانچوں صوبوں سمیت دنیا کے 13 ممالک سے بچوں کے ادیب اور نامور اسکالرز مدعو کیے گئے تھے‘ کانفرنس کے تینوں روز درجنوں اہم ادیبوں
مزید پڑھیے








اہم خبریں